مکرمی ! ورلڈ بنک کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں مزدوروں کی تعداد 2014میں 3ارب 38کروڑ چالیس لاکھ پچیس ہزار سات سو بیس ہے جبکہ اسی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مزدوروں کی تعداد6کروڑ 53لاکھ61 ہزار 409ہے جبکہ یہ تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے ورلڈ بنک کی اسی رپورٹ کے مطابق 2011میں پاکستان میں مزدوروں کی تعداد 6کروڑ ایک لاکھ51ہزار 367تھی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی اب یہ تعداد ساڑھے 6کروڑ ہو چکی ہے اور لگتا ایسا ہے کہ یہ تعداد 2016کے آخر تک 7کروڑ جبکہ 2020 کے اختتام پر8کروڑتک جا پہنچے گی۔مزدوروں کے کیا مسائل ہوتے ہیں اے سی رومز میں بیٹھے حکمرانوں کو اندازہ تک نہیں ہوتا کیونکہ آجکل وہ آلو کا ریٹ بھی 5روپے بتاتے ہیں یہی بات ان کی لا علمی کی دلیل کیلئے کافی ہے۔افسوس کا مقام جو اتنی زیادہ خطرات، مشکلات، شدید گرمی، یخ بستہ سردی اور ہر قسم کے حالات کا سامنا کرتے ہیں ان کو دو وقت کے کھانے کی مزدوری بھی مشکل سے ملتی ہے جبکہ جو سکون سے سردیوں میں ہیٹر اور گرمیوں میں اے سی میں بیٹھتے ہیں وہ لاکھوں اور کروڑوں سے کھیلتے ہیں اب یہ گورنمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ ا ن مزدوروں کیلئے اقدامات کرے، مزدوروں کے بچوں کیلئے سکول اور دیگر سہولیات بھی فراہم کرے مگر افسوس کہ اس شہر کیا شاید پورے پاکستان میں کوئی بھی شہر ایسا نہیں جہاں گورنمنٹ کے حکم کے مطابق سہولیات میسر ہوں ۔ حکومت کو چاہیے کہ ، سہولیات فراہم کرنے کیلئے سخت ایکشن لے تاکہ اس مظلوم طبقے کو بھی انصاف مل سکے جو کہ پاکستان میں بہت مشکل ہے۔( علی جان جوہرٹائون لاہور)