مظفرآباد،لاہور( مانیٹرنگ ڈیسک،جنرل رپورٹر) پروفیسر جاوید اکرم کی سربراہی میں ڈاکٹروں کا وفد ایل او سی پہنچ گیا ۔آزاد کشمیر پولیس اور انتظامیہ کی طرف سے ڈاکٹروں کو روکنے کی کوشش ناکام ہو گئے ۔ڈاکٹروں کے ساتھ چار گھنٹے کے ناکام مذاکرات کے بعد انتظامیہ نے چکوٹھی کی جانب مارچ کی اجازت دے دی ۔جس پر ڈاکٹرز نے احتجاجاً وہیں پر میڈیکل کیمپ لگا کر زخمیوں کا علاج شروع کردیا ۔ پروفیسر جاوید اکرم نے آزاد کشمیر انتظامیہ پر واضح کردیا کہ ہر صورت کشمیری عوام کی مدد کیلئے لائن آف کنٹرول پار کریں گے ۔مظفرآباد میں ڈاکٹروں نے اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ بھی کیا ۔پروفیسر جاوید اکرم کی سفارتی عملے سے تکرار، جاوید اکرم نے کہا اقوام متحدہ اپنی ہی قراردادوں پر عملدرآمد کرانے سے معذور ہے ،سری نگر میں پہنچ کرزخمیوں کو علاج ومعالجے کی سہولیات فراہم کریں گے ،مقبوضہ کشمیر میں پہنچ کرہی دم لیں گے ۔ڈاکٹرزایل اوسی پر بھارتی مارٹرگولوں اور گولیوں سے زخمی لوگوں کا علاج کر رہے ہیں۔ڈاکٹروں کے قافلے میں خواتین ڈاکٹرز بھی موجود، قافلہ لائن آف کنٹرول سے محض 10 کلومیٹر دور رہ گیا۔