پاکستان اور چین کے درمیان رابطوں میں اضافہ کے لیے بس سروس کا اجراء کر دیا گیا۔ عالمی تعلقات میں ذرائع آمدو رفت کو دو اقوام کے تعلقات کو ماپنے کا پیمانہ مانا جاتا ہے ۔ ماضی میںپاک بھارت تعلقات میں بہتری کے لیے سابق بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی پاکستان آئے تو دونوں ممالک نے عوامی رابطوں میں اضافہ کے لیے دوستی بس سروس کا آغاز کیا گیا تھا ۔پاکستان اور چین کی دوستی کوہ ہمالیہ سے بلند ہے اور دونوں ممالک مشکل وقت کے آزمائے ہوئے دوست ہیں۔ دونوںکی دوستی کی زندہ مثال دنیا کی بلند ترین چوٹیوں سے گزرتی شاہراہ ریشم ہے۔ اس رشتے کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اقتصادی راہداری کے عظیم منصوبے کو مکمل کرنے کے بعد اب گزشتہ دنوں پہلی باضابطہ بس سروس کا آغاز ہوا ہے جو بلا شبہ خوش آئند اقدام ہے مگر بدقسمتی سے پاک چین بس سروس کے آغاز سے پہلے ہی ازلی دشمن بھارت نے منفی پراپیگنڈا شروع کر کے عالمی برادری کو گمراہ کرنا شروع کر دیا تھا جبکہ بس سروس کے آغاز کے بعد کچھ عناصر نے اس منصوبے کے قانونی پہلوئوں کے حوالے سے سولات اٹھائے ہیں۔ پنجاب اور کے پی کی افسر شاہی کے منفی اقدامات کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ بہتر ہو گا حکومت بس سروس کے قانونی سقم دور کرنے کے ساتھ اس مکروہ کھیل میں ملوث عناصر کو بھی نشان عبرت بنائے تاکہ بس سروس کو نظر بد سے محفوظ رکھا جا سکے۔