پاکستان اور ایران کے درمیان 100میگاواٹ بجلی کی فراہمی کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ جاری اعلامیے کے مطابق معاہدے پر این ٹی ڈی سی اور ایرانی کمپنی سوانیر کے حکام نے دستخط کیے ہیں۔ پاکستان میں بجلی کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔ ان حالات میں ہمیں توانائی پیدا کرنے کے سب ذرائع کو استعمال کرنا چاہیے تھے مگر بدقسمتی سے حکومت نے اس جانب توجہ ہی نہیں دی۔ گلگت بلتستان سے کئی ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے ۔ وہاں پر قدرتی طور پر پہاڑوں اور آبشاروں پر صرف خصوصی مشینری لگانے کی ضرورت ہے لیکن اس جانب سے غفلت برتی جا رہی ہے۔اب حکومت نے ایران سے 100میگاواٹ بجلی خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔ یہ معاہدہ خوش آئند ہے لیکن اس کے ممعاہدے کو ماضی کی طرح تاخیر کا شکار نہیں ہوناچاہیے۔ 2013ء کے آخر میں سابق صدرآصف علی زرداری نے ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کا معاہدہ کیا تھا ، اس میں یہ شرط بھی رکھی گئی تھی کہ اگر پائپ لائن منصوبے میں تاخیر ہو گئی تو ہر دن کے حساب سے جرمانہ عائد ہو گا۔ وہ تو بھلا ہو ایران کا جس نے جرمانہ وصول نہ کیا لیکن اس طرح کے معاہدوں میں کئی مسائل جنم لیتے ہیں۔ اب حکومت نے ایران سے بجلی کی خریداری کا معاہدہ کیا ہے تو اسے فی الفور پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے تا کہ توانائی کے بحران پر قابو پا سکیں۔ اس کے علاوہ حکمران اتحاد کو ماضی میں کیے گئے معاہدہ گیس پائپ لائن کو بھی پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہیے تا کہ گیس کی قلت بھی دور کی جا سکے۔