پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سلطان سردار سلیم حیدر خان نے صوبہ کے سینتالیسویں گورنر پنجاب کے آئینی عہدے کا حلف اْٹھالیا ہے۔ پیپلز پارٹی کو یہ آئنی عہدہ پنجاب میں گیار ہ سال بعد نصیب ہوا ہے۔ اِس جماعت سے تعلق رکھنے والے آخری گورنر مخدوم احمد محمود تھے جو 2012سے 2013تک اِس عہدے پر تعینات رہے۔ اْن سے قبل سردار لطیف کھوسہ بھی دو سال کیلئے گورنر پنجاب رہے مگر حالیہ الیکشن میں انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر پاکستان تحریک ِ انصاف جوائن کرلی اور لاہور سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ نئے گورنر پنجاب کے سامنے اعلیٰ تعلیم سے لے کر کسانوں کے مسائل کے انبار پھْن پھیلائے کھڑے ہیں۔ اْنہیں پہلا کام تو یہی کرنا چاہئے کہ پنجاب کی اْن سرکاری جامعات میں جہاں پرَو وائس چانسلرز تعینات ہیں، اْن کیلئے ایک سرکلر جاری کرنا چاہئے کہ وہ مستقل وائس چانسلرز کی تعینات تک سلیکشن بورڈز، سنڈیکیٹ، فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی سمیت دیگر کسی بھی اتھارٹی کے پلیٹ فارم سے ’طاقت‘ کا استعمال نہ کریں کیونکہ قانونی طور پر یہ مستقل وائس چانسلرز کا استحقاق ہے۔ان پرَو وائس چانسلرز نے مستقل وائس چانسلرز کے اِس استحقاق کا جس طرح غیر قانونی اور بے دریغ استعمال کیا ہے وہ مظالم کا ایک پہاڑ ہے جو غیر سیاسی اساتذہ اور سٹاف کے سروں پر توڑا گیا ہے۔نئے گورنر پنجاب کو چاہئے کہ وہ انٹیلی جینس اداروں سے اِن پرو وائس چانسلرز کے سیاہ کارناموں کی ایک رپورٹ مرتب کرائیں، ہائر ایجوکیشن کمیشن، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے غیر جانب دار افراد سے سمارٹ انکوائریاں کرائیں اور حکومت پنجاب کی مشاورت سے اِن کے خلاف تادیبی کارروائی کا آغاز کریں۔اِن پرووائس چانسلرز کی چونکہ وائس چانسلرکے عہدے کی تربیت نہ تھی اور اِنہیں پکی پکائی دیگ مل گئی اِنہوں نے فوراََ اہل افراد کو عہدوں سے ہٹادیا اور آتے ہی بچپن کے ساتھیوں، کلاس فیلو ز اور سیاسی حلیفوں کو اْن عہدوں پر تعینات کردیا۔ سلیکشن بورڈز، سینارٹی کا اصول، سنڈیکیٹ کے منٹس میں تبدیلیوں سمیت قوانین کو من پسند افراد کیلئے یوں تروڑا مروڑا گیا جس کی مثال پنجاب کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ حالانکہ یہ عارضی دورانیہ کیلئے عارضی طور پر تعینات ہوئے تھے اور عارضی وائس چانسلرز کیلئے قانون کہتا ہے کہ یہ محض روز مرہ کے امور سرانجام دیں گے۔ مگر انہوں نے تاریخ کا وہ سیاہ باب لکھا ہے جو آنے والے مستقل وائس چانسلرز کو بھگتنا پڑے گا۔سننے میں تو یہ بھی آرہا ہے کہ آئندہ ماہ سے یہ پَرووائس چانسلرز ملازمین کو تنخواہیں نہ دے کر یہ الزام بھی سابقہ وائس چانسلرز پہ لگانے کی تیاری پکڑچکے ہیں۔ بندہ پوچھے ایک سال کی آپ کی اپنی کارکردگی کہاں گئی؟ ان کے خلاف قانونی کارروائی اس انداز میں ہو کہ آئندہ یہ قانون کو گھر کی باندی بنانے سے قبل ڈریں اور استاد کے رتبے کا خیال رکھیں کہ یہ استاد بھرتے ہوئے ہیں نہ کہ تھانے دار۔ یقین جانیں اگر آپ یہ نہیں کریں گے تو مستقبل میں اساتذہ کے روپ میں اِن مجرموں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں بدترین سیاست کا سیا ہ باب دہرایا جاتا رہے گا۔دوسری جانب کسانوں کی حالت ابتر ہے۔ اگر کسانوں کے ساتھ انصاف نہ کیا گیا تو اگلے سال کسان گندم اْگانے سے ہچکچائے گا۔آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے ساتھ معاہدوں میں شامل ’سٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ پروگرام‘شق کے تحت مقروض ممالک میں کسانوں کی گندم اگانے سے حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ شق کے مطابق اْنہیں کیش کراپس اْگانے کی ترغیب دی جاتی ہے مگر ہم غریب ممالک کی صف میں کھڑے ہیں۔ ہمیں اپنے وسائل سے اپنے مسائل حل کرنا ہونگے۔ اِس وقت پنجاب کا سب سے بڑا آئنی عہدہ پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس ہے۔ پیپلز پارٹی سے لوگوں کو اْمیدیں وابستہ ہیں کہ وہ کسانوں کیلئے کچھ کرے گی۔ اگرچہ عام آدمی کو یہ نہیں معلوم کہ پنجاب میں ’اصل‘ اقتدار پاکستان مسلم لیگ نواز کے پا س ہے اور پیپلز پارٹی کے پاس محض رسمی سا عہدہ ہے مگر کسانوں کو دونوں جماعتوں سے امیدیں ہیں۔ اگر آج کسان کی اْمیدوں کو کچلا گیا تووہ کل گندم اگانے سے ہاتھ کھینچ لیں گے۔ اِس معاملے میں بھی وفاقی حکومت کو گندم سکینڈل کیس کی فوراََ تحقیقات کرنی چاہئیں اور ذمہ داران کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جانی چاہئے۔ طلب نہ ہونے کے باوجو د رسد کیسے ہوئی اور اتنی بڑی تعداد میں کیونکر ہوئی؟ تیسرا اہم مسئلہ پنجاب میں پارٹی کی تنظیم سازی کا ہے۔سابق وزیراعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف کی تجویز پر سلطان سردار سلیم حیدر خان کا بطور گورنر پنجاب انتخاب بھی اْسی سلسلے کی کڑی ہے جس کا اظہار چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے گورنر کی تقریبِ حلف برداری کے وقت کیا۔انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ نئے گورنر پنجاب اور باقی تنظیم کو 100دن کا وقت دے رہے ہیں کہ صوبہ بھر میں پارٹی کے حوالے سے تنظیم سازی کریں۔ نوجوانوں کو آگے لے کرآئیں۔ گورنر پنجاب کا شمار خود چونکہ نوجوانوں میں ہوتا ہے اِس لئے اْمید قوی ہے کہ وہ اِس حوالے سے نوجوانوں کو آگے لے کر آئیں گے۔بلاول بھٹو زرداری نے نئے گورنر پنجاب پہ زور دیا ہے کہ وہ پارٹی کے جیالہ ہونے کے ناتے ضلعی سطح پہ پارٹی کی تنظیم سازی کریں۔ جب وہ یہ بات کررہے تھے گورنر پنجاب اْن کے بائیں طرف جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب اْن کے دائیں طرف بیٹھی تھیں۔ خبریں چل رہی ہیں کہ مسلم لیگ نواز کی قیادت وہ سنبھالنے جارہی ہیں اور وہ بھی چاہتی ہیں کہ مسلم لیگ نواز کی ضلعی سطح پہ تنظیم سازی ہو جبکہ پنجاب میں پاکستان تحریک ِ انصاف بھی ضلعی سطح پہ کام کررہی ہیں۔ جمہوریت کا حسن تو یہی ہے کہ باہمی عزت و احترام کا رشتہ برقرار رکھتے ہوئے جمہوری سوچ کو آگے بڑھایا جائے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اِس ماحول میں گورنر پنجاب کس قدر اہم کردار ادا کرپائیں گے کیونکہ مختلف پارٹیوں کے درمیان مقابلہ سخت ہے۔