پٹرول کے نرخوں میں تازہ اضافے کا نوٹیفکیشن نافذالعمل ہو گیا ہے۔نئے نرخوں کے مطابق پٹرول 26.02 روپے اور ڈیزل17.34روپے فی لٹر مہنگا ہوا ہے۔نئے اضافے کے بعد پٹرول 331 اور ڈیزل 329 روپے فی لٹر فروخت ہو گا۔اضافے کے بعدملکی تاریخ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔بلاشبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ کئی طرح کے دیگر اضافے معمول بن چکے ہیں،لوگوں کا سفر کرنا، سامان کی نقل و حمل اور سفری لاگت بڑھنے کا بوجھ عوام کی جیب پر پڑتا ہے۔نگران حکومت کے لئے یہ چیلنج اس لحاظ سے زیادہ سنگین ہے کہ اسے سابق حکومتوں کی پالیسیوں کے نتائج بھگتنے پڑ رہے ہیں۔ برسہا برس سے مستحکم معاشی ماڈل اختیار نہ کرنے کی وجہ سے پاکستان میں پٹرول کی قیمت کئی عوامل سے متاثر ہوتی ہے، بشمول بین الاقوامی خام تیل کی قیمتیں، شرح مبادلہ اور حکومت کی طرف سے عائد کردہ ٹیکس۔ یوں عالمی سطح پر خام تیل کی قیمت میں اضافے سے پاکستان میں پٹرول کی قیمت ہر باربڑھ جائے گی۔ پاکستانی روپے کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں پچھلے دس سال میں تیزی سے گر رہی ہے۔پی ڈی ایم دور میں یہ گراوٹ سنگین ہو گئی۔ اس صورت میں درآمد شدہ خام تیل کی قیمت بڑھ جاتی ہے ۔ حکومت کی طرف سے عائد ٹیکسوں میں کوئی تبدیلی بھی ملک میں پٹرول کی خوردہ قیمت کو متاثر کر سکتی ہے۔جیسا کہ آئی ایم ایف کی شرائط میں کہا گیا تھا کہ پاکستان پٹرولیم پر لیوی کی حد پچاس روپے فی لٹر تک لے کر جائے۔حالیہ اضافے سے یہ شرط پوری ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ پٹرول کی قیمت کو متاثر کرنے والے بنیادی عوامل میں سے ایک بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت کا بڑھنا ہے۔ خام تیل وہ خام مال ہے جو پٹرول کی پیداوار کے لیے استعمال ہوتا ہے، طلب اور رسد، جغرافیائی سیاسی تناؤ اور معاشی حالات اس کی قیمت کا تعین کرتے ہیں۔ جب خام تیل کی مانگ بڑھتی ہے تو اس کی قیمت بھی بڑھ جاتی ہے جس کا براہ راست اثر پٹرول کی قیمت پر پڑتا ہے۔خام تیل کی قیمت عام طور پر امریکی ڈالر میں بتائی جاتی ہے ۔ پاکستانی روپے اور امریکی ڈالر کے درمیان شرح مبادلہ پٹرول کی قیمت کا تعین کرنے میں کردار ادا کرتا ہے۔ اگر امریکی ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر گرتی ہے تو خام تیل کی درآمد کی لاگت مزید مہنگی ہو جاتی ہے، جس سے پٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے۔ حکومت پٹرول پر محصولات کے لئے ٹیکس عائد کرتی ہے۔ یہ ٹیکس اور لیویز، جو کہ پٹرول کی خوردہ قیمت کا ایک اہم حصہ ہیں، حکومتی پالیسیوں میں تبدیلی کے ساتھ بڑھ سکتے ہیں، جو پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ پاکستان سمیت بیشتر ممالک میں حکومتی ریونیو حاصل کرنے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی فروخت پر ٹیکس عائد کیا جاتا ہے۔یہ ایکسائز ٹیکس، ویلیو ایڈڈ ٹیکس (VAT) یا دیگر محصولات ہو سکتے ہیں۔ پٹرول پر عائد ٹیکس اس کی خوردہ قیمت کا کافی حصہ ہوسکتا ہے، ٹیکسوں میں اضافہ پیٹرول کی قیمت میں اسی طرح اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ حکومت پٹرول پر ٹیکس بڑھاتی ہے تو ایندھن کی پیداوار اور فروخت کی لاگت بڑھ جائے گی جو کہ زیادہ خوردہ قیمتوں کی صورت میں صارفین تک پہنچے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر خام تیل کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ہے تو تب بھی ٹیکسوں میں اضافہ پٹرول کی قیمت میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔پٹرول کی مانگ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ مانگ میں یہ اضافہ بڑھتی ہوئی آبادی، بڑھتی ہوئی اقتصادی سرگرمیوں اور بڑھتی ہوئی شہر کاری کی وجہ سے ہے۔پاکستان مالی مسائل کا شکار ملک ہے،اسے ایسی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو آبادی میں اضافے کو قابو کر سکیں،موٹر گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ روک سکیں اور متبادل سستے ایندھن کو فروغ دے سکیں۔ بڑھتی ہوئی معیشتوں کا مطلب توانائی کی زیادہ مانگ ہے، خاص طور پر پیداکار سے صارفین تک سامان کی منتقلی کے لیے ایندھن درکار ہوتا ہے۔ ایک پرانی کہاوت ہے کہ ’’بدترین کے لیے تیاری کرو اور بہترین کی امید رکھو‘‘ پاکستان کو تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور روپے کی گرتی ہوئی قیمت کے دو چیلنجوں کا بیک وقت سامنا ہے۔ توانائی کی مصنوعات درآمد کرنے والا ملک ہونے کے ناطے پاکستان خام تیل، مائع قدرتی گیس (LNG) اور پٹرول و ڈیزل جیسے ایندھن کی مانگ کو پورا کرنے کے لیے سالانہ بھاری اخراجات برداشت کرتا ہے، جو گزشتہ مالی سال میں 17 ارب ڈالر تھے۔ روپے کی قدر میں گراوٹ صورتحال کو مزید خراب کر دیتی ہے، جس سے ان اشیاء کی درآمد مزید مہنگی ہو جاتی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے معاہدے اور دوست ممالک کی جانب سے سرمائے کی آمد اور دالر ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف حالیہ کارروائیوں کے بعد امریکی ڈالر کے مقابلے پاکستانی روپے کی قدر میں کچھ اضافے کے باوجود، روپیہ کمزور ہے۔ یہ کمی اس وقت بھی ہوئی جب سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر ایک ماہ کے اندر دوگنا ہو گئے۔حکومت کا یہ رویہ مسائل حل ہونے کی امید دلاتا ہے کہ وہ مستقبل کی معاشی پالسیسیوں پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی سنجیدہ آرزو رکھتی ہے۔