مکرمی ! گزشتہ ایک ہفتے سے مولانا فضل الرحمن اسلام آباد میں دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ بارش بھی آزادی مارچ کے شرکاء کاکچھ نہ بگاڑ سکی ، ان کی استقامت اوروابستگی میں ذرہ بھربھی لغزش نہیں آئی ،اسلام آبادمیں سردی کاموسم شروع ہوچکاہے اس موسم میں جب لو گ گھروں میں لحاف اوررضائیوں میں ٹھٹرتے ہیں وہاں پشاورموڑکے یہ نئے مکیںکھلے آسماں تلے اپنی دنیامیں مگن ہیں ، ان کے معمولات زندگی بدستورچل رہے ہیں ،اس شریفانہ احتجاج نے توحکومت کوبھی چکراکررکھ دیاہے ۔جمعیت علماء اسلام کے کارکن اس کی پرواہ نہیں کررہے کہ ن لیگ اورپیپلزپارٹی والے اس سے آگے جانے کوتیارنہیں ،جے یوآئی کے کارکن باشعورہیں انہیں معلوم ہے کہ کون آزادی مارچ کوکیش کروارہاہے ،کون پس منظرمیں کیاکھیل کھیل رہاہے ؟ہرکوئی مولاناکے درپرسلامی دے کراپنی قیمت بڑھارہاہے مولانااوران کے کارکنوں کومعلوم ہے کہ کون ان سے کتنامخلص ہے ؟اورکون کیاکھیل کھیل رہاہے ؟ میری ارباب اختیار سے التماس ہے کہ دھرنا ختم کروانے کے لیے کاوش تیز کی جائے تاکہ پشاور موڑ کے نئے باسی بھی سرد موسم میں اپنے گھروں کو جا سکیں۔ (عمرفاروق)