اسلام آباد(قاسم نواز عباسی)نیب کی جانب سے مسلم لیگ(ن) کے 6 موجودہ ارکان قومی اسمبلی جبکہ پیپلزپارٹی کے 4 اور تحریک انصاف کے ایک رکن کے خلاف کرپشن ، اختیارات کے ناجائز استعمال اور مالی بے ضابطگیوں کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔قومی احتساب بیورو(نیب)کی جانب سے قومی اسمبلی کے 11 اراکین نیب تحقیقات کی زد میں ہیں، ان اراکین میں سب سے زیادہ ارکان مسلم لیگ( ن) لیگ کے ہیں، دوسرا نمبر پاکستان پیپلز پارٹی جبکہ تیسرا پی ٹی آئی کا ہے ۔ 446 ممبران پارلیمنٹ میں سے 11 نشانے پر ہیں، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کیساتھ تحریک انصاف بھی زد میں ہیں۔ نیب کی جانب سے سابق صدر آصف زرداری، بلاول بھٹو، شہباز شریف، شاہد خاقان عباسی، پرویز خٹک اور دیگر کو نوٹسز جاری ہو چکے ہیں۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو نیب نے آشیانہ سکینڈل میں جبکہ سعد رفیق کو پیراگون سکینڈل میں کرپشن الزامات پر گرفتار کیا۔ شاہد خاقان عباسی پر ایل این جی سکینڈل ، خواجہ آصف پر منی لانڈرنگ، ریاض پیرزادہ پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور مریم اورنگزیب کے خلاف اثاثہ جات کیسز پر نیب انکوائری جاری ہے ۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور کوچیئرمین آصف زرداری کیخلاف پارک لین انکوائری جبکہ خورشید شاہ کے خلاف اثاثہ جات کیس کی چھان بین ہو رہی ہے ۔ارکان پارلیمنٹ میں کرپشن کے سب سے زیادہ مقدمات سابق وزیراعظم پرویز اشرف کے خلاف ہیں۔ سابق وزیراعظم رینٹل پاور سمیت ایک درجن مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔حکمران جماعت تحریک انصاف کے ارکان پارلیمنٹ میں کرپشن کیس صرف ایک رکن وزیر دفاع پرویز خٹک کے خلاف ہے ۔ نیب خیبر پختونخوا نے ان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی سفارش کر رکھی ہے ۔