لاہور(گوہر علی)پنجاب اسمبلی میں ا یک سال گزرنے کے باوجود 40 محکموں میں سے صرف 21 کی سٹینڈنگ کمیٹیاں تشکیل دی جاسکی ہیں جس کی وجہ سے قانون سازی سست روی کاشکار ہوگئی ،7مسودہ قانون التوا کاشکارہیں ۔ پنجاب اسمبلی کی طرف سے بھیجی گئیں مختلف تحریکوں پربھی پیش رفت نہ ہوسکی ، تمام تر کوشش کے باوجود چالیس محکموں میں سے صرف21 سٹینڈنگ کمیٹیاں ہی قائم ہوسکی ہیں۔ ایک سا ل گزرنے باوجود ناراض اراکین اسمبلی کو سٹینڈنگ کمیٹیاں کے چیئرمین بنے کی امید دلائی جارہی ہے ،جن محکموں کی سٹینڈنگ کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں، ان میں لا، انڈسٹریز ،کامرس ، انویسمنٹ،سپیشللائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن،ہائر ایجوکیشن،ہائوسنگ ،اربن ڈویلپمنٹ ۔ پبلک ہیلتھ انجینئر نگ ، ہومین رائٹس اینڈ منیارٹیز افیئر ز،لیبر اینڈ ہومن ریسوس،پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر،سکول ایجوکیشن،چیف منسٹر انسپیکشن ٹیم، جنیڈر مین سٹریمنگ،ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن،پاپولیشن ویلفیئر، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ،مائنز اینڈ منرلز،اینوائر منٹ پروٹیکشن،زکوۃ اینڈ عشر،لوکل گورنمنٹ اینڈ کیمونٹی ڈویلپمنٹ ،ہوم،پبلک پراسیکیویشن، ریونیو،ریلیف اینڈ کنسولیڈیشن شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان 21 کمیٹیوں کے قیام کے لئے بھی حکومت کو سخت دھوپ دوڑ کرنا پڑی اورکئی بار ان کمیٹیوں کے چیئر مین کا انتخاب بھی التوا کاشکار ہوا۔پنجاب اسمبلی میں تاحال دی پنجاب واٹر بل2019 ، دی پنجاب کھل پنچائیت بل2019، دی پنجاب اینیمل ہیلتھ بل2019اور دی سنٹینسنگ بل2019 ، دی پنجاب ایمپلائز سوشل سکیورٹی ترمیمی(بل )2019 ، دی پنجاب لینڈ ریونیو ترمیمی) بل)2019 دیگر زیر التوار ہیں۔ذرائع کے مطابق جن بلز کی منظوری کے لئے سٹینڈنگ کمیٹیاں موجود ہیں وہ سٹینڈنگ کمیٹیاں بھی بروقت اجلاس کا انعقاد نہیں کررہی ہیں جس وجہ سے قانون سازی کا عمل التوا کا شکار ہے ۔