لاہور(خصوصی نمائندہ، کامرس رپورٹر،اپنے خبر نگار سے ،نمائندہ خصوصی سے ) پنجاب اسمبلی میں حکمراں جماعت پی ٹی آئی اور اتحادی جماعتوں نے وزیراعلیٰ ، سپیکر اور دیگر اراکین کی تنخواہوں میں دوگنا اضافے کے لیے محض ایک روز قبل پیش کیے گئے بل کو اپوزیشن کی غیرموجودگی میں منظور کرلیا۔پنجاب سے اسمبلی میں بل کی منظوری کے بعد اب وزیراعلیٰ پنجاب کو 4 لاکھ 25 ہزار، سپیکر کو 2 لاکھ 60 ہزار،صوبائی وزرا ڈھائی لاکھ سے زائد،اراکین کو فی کس ایک لاکھ 92 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ اور مراعات ملیں گی۔ اراکین کی تنخواہوں میں اضافے کا بل گزشتہ روز پیش کیا گیا تھا جس کو 24 گھنٹوں کے دوران ایوان سے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے منظور ہونے والی 4 لاکھ 25ہزار روپے ماہانہ تنخوا میں 50 ہزار روپے کا مہمان داری الاؤنس بھی شامل ہو گا۔پنجاب اسمبلی نے نئے بل میں کہا ہے کہ اگر صوبے کے وزیراعلیٰ کا لاہور میں گھر نہیں ہوتو صرف دور حکومت مکمل کرنے کے بجائے تاحیات گھر بھی ملے گا۔منظوری کے مطابق اراکین کو بنیادی تنخواہ 80 ہزار، رہائش کے لیے 50 ہزار روپے ، 4 ہزار روپے روزانہ الاؤنس، یوٹیلیٹی 20 ہزار، مہمان داری الاونس 20 ہزار روپے اور ٹیلی فون الاؤنس 10 ہزار نئی تنخواہ میں شامل ہے ۔ وزیراطلاعات صمصام بخاری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘بہت سارے اراکین ایسے ہیں جن کی واقعتاً اپنے شہر سے باہر آکر لاہور میں اپنی ضرورتیں پوری نہیں ہوتیں۔علاوہ ازیں پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ اینڈ ریسرچ سنٹر2019 کا بل بھی منظور کر لیاگیا جبکہ ن لیگ کے ممبران نے سپیکر سے نوک جھونک اور انکی ترامیم بل میں شامل نہ کرنے کو بنیاد بنا کر جزوی واک آؤٹ کیا اور اسمبلی کی سیڑھیوں پر احتجاج کیا۔اجلاس میں سابق سپیکر اورڈپٹی سپیکر کو ڈپلومیٹک پاسپورٹ دینے کا بل بھی منظور کر لیا گیا۔ سابق وزیراعلی کو بھی حکومت پنجاب کی جانب سے متعدد مراعات ملیں گے ، سابق وزیراعلی کو سکیورٹی کیلئے 5 اہلکار بھی ملیں گے ۔ سابق وزیراعلی کو سیکورٹی کے لئے 2500 سی سی گاڑی بھی ملے گی ،ڈرائیور بھی حکومت کی طرف سے ہوگا ۔ ایک پرسنل سیکرٹری ،دو جونیر کلرک بھی حکومت فراہم کرے گی ۔ ایک نئی گاڑی بھی سابق وزیراعلی کوملے گی ۔ دس ہزار روپے ماہانہ ٹیلی فون الاونس بھی ملے گا۔ پاک فضائیہ کی جانب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کے کامیاب تجربے پر مسرت جمشید چیمہ نے خراج تحسین کی قرارداد پیش کی۔ صحافی برادری کو ہیلتھ کارڈ دینے کیلئے قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی گئی، قرارداد مسلم لیگ( ن) کے رکن صہیب احمد ملک نے جمع کروائی، لاہور میں بین الاقوامی بس ٹرمینل کا منصوبہ ختم کرنے کے خلاف تحریک التوا کار پنجاب اسمبلی اسمبلی میں جمع،تحریک التوا کار مسلم لیگ (ن) کی رکن اسمبلی عنیزہ فاطمہ کی جانب سے جمع کرائی گئی۔بعدازاں وزیر برائے اعلیٰ تعلیم راجہ یاسر ہمایوں سرفراز نے پنجاب اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لیپ ٹاپ سکیم سے متعلق محکمہ ہائر ایجوکیشن کے جواب کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ۔ علاوہ ازیں ترجمان وزیراعلی پنجاب شہباز گل نے سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کو لیپ ٹاپ سکیم میں پنجاب حکومت کی طرف سے کلین چٹ دینے کی خبرکی تردیدکردی،بعدازاں سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی سے صوبائی وزیراطلاعات و نشریات سید صمصا م علی شاہ بخاری نے سپیکر چیمبر میں ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد نے کہا ہے کہ میاں نوازشریف کی صحت بہتر ہے ،جیل میں انہیں مکمل طبی سہولتیں دستیاب ہیں،مسلم لیگ ن اور شریف خاندان علاج پر سیاست نہ کرے ان کی صحت پر توجہ دیں۔مریم کو مشورہ دوں گی وہ ٹویٹ کرنے کے بجائے گھر میں بیٹھ کر ان کی صحت کے لیے دعاکریں۔پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی سید حسن مرتضی نے کہا کہ بلاول کا نئے میثاق جمہوریت کا فارمولا مسترد کرنیوالی تحریک انصاف کون ہوتی ہے ،یہ کونسی سیاسی جماعت ہے ،حکومت میاں نوازشریف کی صحت پر سیاست کررہی ہے ،قیدی کی اپنی مرضی کیا ہوتی ہے ۔