اسلام آباد(عمران وسیم) پنجاب حکومت بہاولپور میں شکار گاہ کی 2 لاکھ ستر ہزار ایکڑ سے زائد اراضی قابضین سے واگزار کرانے میں ناکام ہو چکی ہے ، زمین کا قبضہ واگزار نہ کرانے سے محکمہ مال پنجاب کا سالانہ تقریبا ً4 ارب کا نقصان ہو رہا ہے جب کہ مجموعی طور پر جسٹس ریٹائرڈ عبد القدیر چودھری کمیشن رپورٹ 2006 ئکی روشنی میں 50 ارب سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے ۔ذرائع کے مطابق ریاست بہاول پور کے 1954 ئمیں پاکستان کے ساتھ الحاق کے بعد امیر آف بہاولپور کی ذاتی اور سرکاری زمین کے تعین کا معاملہ کئی سال عدالتوں میں زیر التوا رہا۔سپریم کورٹ نے 1982 ئمیں نواب آف بہاولپور کی ذاتی وراثت کے تعین اور باقی ماندہ اراضی کے معاملہ مارشل لاریگولیشن 64 سال 1959ء کے تحت عمل کرکے بحق سرکاری زمین ٹیک اوور کرنے کا حکم دیا ۔ذرائع کے مطابق عدالتی فیصلے کی روشنی میں وارثت کے تعین کیلئے وفاقی حکومت نے جسٹس ریٹائرڈ عبد القدیر چودھری کی سربراہی میں عمل در آمد کمیشن تشکیل دیا جس میں پنجاب لینڈ کمیشن،ممبر بورڑ آف ریونیو بہاولپور،ای ڈی او اور ڈسٹریکٹ ریونیو آفیسر شامل تھے جس نے امیر آف بہاولپور کی وراثت کا تعین کرنے بارے رپورٹ جون 2002 ئاور مارچ 2006 ئمیں پیش کی۔ذرائع کے مطابق کمیشن کی رپورٹ میں امیر آف بہاولپور کی ذاتی اور سرکاری زمین کے تعین کے بعد وفاقی حکومت نے مئی 2006 ئمیں اراضی کی تقسیم سے متعلق ایس آر او جاری کیا جس کے تحت شکار گاہ کی 3 لاکھ 12 ہزار ایکڑ زمین سے قلعہ ڈراور اور شاہراؤں کا رقبہ نکال کر محکمہ مال کے حصے میں2 لاکھ70 ہزار ایکڑ سے زائد زمین آئی۔ذرائع کے مطابق عدالت عظمیٰ نے نواب آف بہاولپور کی زمین کی تقسیم بارے کمیشن کی رپورٹ کے خلاف متفرق درخواستیں اکتوبر 2018 ء میں خارج کر دی ہیں جس میں یہ کہا گیا ہے کہ شکار گاہ کی زمین پر تھرڈ پارٹی کا کوئی حق نہیں۔ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے بعد تھرڈ پارٹی کو فائدہ پہنچانے کیلئے پنجاب حکومت عدالتی فیصلہ کے خلاف نظر ثانی درخواست دائر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔شکار گاہ کی زمین پر ٹیک اوور نہ کرنے سے سالانہ 4 سے ساڑھے 4 ارب کا صوبائی خزانہ کو نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ مجموعی طور پر 2006 ئکی تقسیم سے لیکر اب تک 50 ارب سے زیادہ کا نقصان ہو چکا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملہ پر پنجاب حکومت عدالت عظمیٰ میں نظر ثانی درخواست دائر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس کی قانونی مدت میعاد گزر چکی ہے ۔