لاہور(محمد نواز سنگرا)پنجاب حکومت چکیوں کو گندم جاری کرنے کے حوالے سے اپنی ہی پالیسیوں پر عملدرآمد کرانے میں ناکام رہی۔اگست 2019 میں محکمہ خوراک کی جانب سے پنجاب کے تمام ڈویژنل افسران کوآٹا چکیوں کو 5بوری گندم روزانہ جاری کرنے کے احکامات کے باوجودایسا نہ کیا گیا اور بھاری سٹاک کے باوجودبحران کی وجہ سے آٹا مہنگا ہوا۔محکمہ خوراک کے اعلیٰ افسران کی نااہلی کی وجہ سے بھاری سٹاک کے باوجود ایک طرف تو چکیوں کو تاحال 100کلو گرام کی پانچ بوریاں روزانہ جاری نہیں ہو سکیں دوسری طرف فلور ملز کا کوٹہ بڑھانے میں تاخیر کی گئی جس کے نیتجے میں اوپن مارکیٹ میں گندم کی کمی کے باعث ریٹ بڑھنے سے آٹے 70روپے کلو ہو گیا ۔گندم کے حوالے سے جاری کردہ 2019-20کی پالیسی گائیڈ لائنز کے مطابق ڈائریکٹوریٹ آف فوڈ ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی جانب سے تما م ڈویژنز کے ڈپٹی ڈائریکٹرز کو احکامات جاری کیے گئے جس کے مطابق لاہور میں موجود فلور ملز کو 100کلوگرام کی 35بوریاں، فیصل آباد،راولپنڈی،ملتان،ساہیوال،ڈی جی خان،بہاولپور ،گوجرانوالہ اور سرگودھاکی فلور ملز کو 100کلوگرام کی25بوریا ں ،دیگر تمام اضلاع کی فلور ملز کو 20بوریاں فی باڈی کے حساب سے جاری کی جائیں ، یہ بھی واضح کیا کہ تمام آٹا چکیوں کو 100کلو گرام کی 5بوریاں فی سٹون روزانہ جاری کی جائیں۔پالیسی کے مطابق فلور ملز کو تو گندم جاری ہوتی رہی مگر دسمبر میں ڈویژنل افسران کی جانب سے فلور ملز کا کوٹہ بڑھانے کی درخواست کے باوجود محکمہ فوڈ نے ملز کا کوٹہ نہ بڑھایا۔محکمہ فوڈ کے ایک افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر روز نامہ92نیوز کو بتایا پنجاب میں حالیہ آٹا بحران کی وجہ صرف اور صرف محکمہ خوراک کے اعلیٰ افسران کی طرف سے تاخیری فیصلے ہیں ،اگر افسران پالیسی پر عملدرآمد کر لیتے تو یہ نوبت نہ آتی،سٹاک موجود ہے اگر اب بھی پالیسی پر عملدرآمد شروع ہو جائے تو بحران ختم اور اضافی گندم بھی نکل جائے گی۔