لاہور(قاضی ندیم اقبال)پنجاب حکومت نے 6 سرکاری اداروں میں جزا و سزا میں سست روی کا نوٹس لے لیا اور ان اداروں کے سربراہان کو ملازمین اور افسروں کیخلاف گزشتہ سالوں سے التوا کا شکار ڈسپلنری کیسز اور انکوائریوں کو جلد نمٹانے کا حکم دیدیا اور اس حوالے سے رپورٹس طلب کرلیں، یہ اقدامات صوبائی مانیٹرنگ سیل کی نشاندہی پر کئے گئے ، ذرائع کے مطابق ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب کی ہدایت پر شماریات افسر سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ طاہر محمود نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، زراعت، اوقاف و مذہبی امور، کوآپریٹوز، مواصلات و تعمیرات اور ماحولیات کے سیکرٹریز کو مراسلہ بھجوا دیا ہے ، مراسلے میں کہا گیا کہ صوبائی مانیٹرنگ سیل سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (ایس اینڈ جی اے ڈی) کے 19 مارچ 2019 کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ تمام سرکاری اداروں کے ملازمین کے جزا و سزا کے معاملات کو خصوصی توجہ دی جائے تاکہ اداروں کی کارکردگی کا گراف بہتر ہو، اس ضمن میں اداروں میں التوا کا شکار محکمانہ انکوائریاں جلد نمٹا کر ان کی رپورٹ صوبائی مانیٹرنگ سیل ارسال کی جائیں گی تاہم آپ کے اداروں میں اس حوالے سے مثبت پیش رفت سامنے نہیں آئی، ذرائع نے بتایا کہ ان اداروں کو بھجوائے گئے مراسلہ کے ساتھ ان اداروں کی زیر التوا انکوائریوں کی فہرست بھی لف کی گئی ہے ، اس فہرست میں زیر انکوائری ملازم کا نام، انکوائری افسر کا نام، محکمانہ پیرو کار کا نام، التوا کی مدت کی تاریخ تک کا ذکر کیا گیا ہے ۔ذرائع نے بتایا اوقاف و مذہبی امور پنجاب میں اس وقت مجموعی طور پر 6 اہم ترین انکوائریاں التوا کا شکار ہیں۔ جن میں ڈائریکٹر پراجیکٹ اوقاف حامد مسعود کے خلاف انکوائری 18دسمبر2018سے ، ایڈمنسٹریٹر لاہور زون کے خلاف انکوائری 20نومبر2018 سے ، عبد الحمید اسسٹنٹ ڈائریکٹر و دیگر تین ملازمین کے خلاف انکوائری7نومبر2018 سے ، محسن حسنین سابق منیجر اوقاف کے خلاف انکوائری 2دسمبر2018 سے ، محمد اشرف منیجر اوقاف و دیگر دو ملازمین کے خلاف انکوائری 27نومبر2018 سے جبکہ بدر حیات سابق منیجراوقاف کے خلاف انکوائری 20 ستمبر 2017 سے التوا کا شکار ہے ۔