لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے پولیس کی تحویل میں لوگ جو قتل ہورہے ہیں اس کی سخت سے سخت سزا ہونی چاہئے ، کوئی بھی حکومت ہواس کی اجازت نہیں ہونی چاہئے ،میرے خیال میں اس سے بڑا ظلم اورزیادتی نہیں ہوسکتی ہے ،ہماری حکومت کا یہ فرض بنتا ہے کہ اس کو روکے ، پولیس گردی کو کسی صورت برداشت نہیں کیاجائے گا۔پروگرام92ایٹ 8 میں میزبان سعدیہ افضال سے گفتگو میں انہوں نے کہامیرا خیال ہے گزشتہ تین دہائیوں سے پولیس میں ایک کلچر قائم ہوا جس کی کوئی ایک حکومت ذمہ دار نہیں سب اس میں شریک ہیں، وقت ا ٓگیا ہے کہ حکومت اوراپوزیشن مل کر پولیس میں اصلاحات کریں۔ن لیگ کے رہنما رانا تنویر حسین نے کہا ناصردرانی بہت اچھے پولیس افسرتھے ، شہبازشریف نے پولیس کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی تاہم بدقسمتی سے وہ نتائج نہیں نکلے جس کی امید تھی، آئی جی پنجاب کا اس وقت نوٹی فیکشن جاری کرنا جب پولیس کی حراست میں بہت زیادہ ہلاکتیں ہورہی ہیں کی توقع نہیں تھی، پی ٹی آئی کی حکومت میں پولیس میں ماضی کے مقابلے میں رشوت زیادہ ہوئی ہے ۔تجزیہ کار عارف حمید بھٹی نے کہاپولیس بے شمار ہلاکتیں باہر نہیں آنے دیتی،پولیس کی حراست میں سینکڑوں نہیں ہزاروں لوگ مرچکے ، پولیس والے معطل ہوتے ہیں لیکن کسی کو آج تک سزانہیں ہوئی،میں نے اپنی زندگی میں سانحہ ماڈل ٹائون اورساہیوال دیکھا، صلاح الدین کا قاتل نہیں پکڑا جائے گایہ لکھ کررکھ لیں،کتنی شرم والی بات ہے کہ ان کے ظلم کی کوئی ویڈیو نہ بنا سکے ، آئی جی پنجاب ثبوت بنانے والوں کور وک رہے ہیں یہ نہیں کررہے ہیں پولیس کو ٹھیک کریں، وزیراعظم کا حق ہے جس کو مرضی چاہیں وزیراعلی لگائیں،فی الحال توعثمان بزدار نہیں جارہے ہیں۔