آئی جی پنجاب نے تھانہ شمالی میں بے گناہی ثابت کرنے کے لئے خود پیش ہونے والے نوجوان کی پولیس تشدد سے ہلاکت کے بعد انکوائری کا حکم دیا ہے۔ پولیس تشدد سے کامونکی اور رحیم یار خان میں دو افراد زیرحراست مارے گئے ۔سیاسی پشت پناہی اوربدعنوانی کے باعث پولیس نظام تباہی کے دھانے تک پہنچ چکا ہے ۔ سابق حکمرانوں نے ماڈل پولیس اسٹیشن اور پولیس کی یونیفارم تبدیل کرکے بھی دیکھ لی مگر پولیس اہلکاروں کا مزاج نہ بلا جا سکا۔ اعلیٰ عدالتوں کی طرف سے پولیس افسروں کی سرزنش بھی کسی کام نہ آئی۔ جولائی 2019ء کو لاہور ہائی کورٹ میں ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران معزز جج نے صوبے کی پوری پولیس فورس کو فارغ کرکے نئی بھرتیوں کے ریمارکس تھے تو رواں برس سندھ کی عدالتوں نے پولیس کے عدالتی کارروائی میں رخنہ ڈالنے کی پاداش میں 500 پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کیا۔ تحریک انصا ف کی حکومت ماضی میں کے پی کے میں پولیس اصلاحات کے ذریعے پولیس نظام کو تبدیل کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ اس لئے توقع کی جا رہی تھی کہ پنجاب میں بھی تحریک انصاف کی حکومت پولیس نظام میں اصلاحات کے ذریعے کوئی کرشمہ انجام دے گی مگر بدقسمتی سے وزیراعظم کی درخواست پر پنجاب میں آنے والے پولیس افسر بھی یہاں زیادہ دیر تک نہ ٹک سکے۔یہ پولیس کے نظام میں سیاسی مداخلت کا ہی ثمر ہے کہ ماورا عدالت قتل کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ بہتر ہو گا حکومت سیاسی مفادات کو پس پشت ڈال کر پنجاب میں کے پی کے طرز کی اصلاحات کو یقینی بنائے تاکہ عوام کو پولیس گردی سے نجات مل سکے۔