اسلام آباد(وقائع نگار خصوصی)پبلک اکاؤنٹس کی ذیلی کمیٹی نے سیف سٹی پراجیکٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ نیب کے سپرد کرتے ہوئے 3ماہ میں جامع رپورٹ طلب کر لی ۔کمیٹی نے ہدایات پر عمل درآمد نہ کرنے پر نادرا حکام کی سرزنش کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں رپورٹ دینے کی ہدایت کردی۔آئی جی اسلام آباد کو ہدایت کی کہ شہریوں کو پولیس ناکوں پر بلاجواز تنگ نہ کیا جائے ۔ اجلاس کنوینر نور عالم خان کی صدارت میں ہوا۔جس میں وزارت داخلہ کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ نادرا کی جانب سے اسلام آباد پولیس کے لئے خلاف قاعدہ 22لاکھ34ہزار روپے مالیت کی 4گاڑیاں خریدی گئی تھیں۔ کمیٹی نے انکوائری میں تاخیر پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزارت داخلہ معاملے پر سنجیدہ نہیں ،یہی صورتحال رہی تو اخراجات وزارت داخلہ سے وصول کئے جائینگے ۔کنوینر کمیٹی نے پوچھا آئی جی اسلام آباد کہاں ہیں؟ جس پر ڈی آئی جی نے بتایا کہ وہ دھرنے میں مصروف ہیں۔کمیٹی نے کہا کہ دھرنا نہیں کمیٹی اجلاس اہم ہے ، فوری بلایا جائے ۔ جس پر ہنگامی طور پر آئی جی آئے اور کمیٹی کو بتایا کہ 2009ئمیں نادرا نے 4 گاڑیاں عطیہ کی تھیں جن میں سے دو چوری ہو گئیں جبکہ ایک فیض آباد دھرنے کے دوران جل گئی۔ کنوینر کمیٹی نور عالم خان نے کہا کہ پولیس سے گاڑیاں کیسے چوری ہو گئیں ؟ 30دن میں جامع انکوائری مکمل کرکے رپورٹ کمیٹی کو پیش کی جائے ۔ نور عالم خان نے کہا کہ وہ سیف سٹی کے آدھے سے زیادہ کیمرے خراب ہیں ،نیب کیا کر رہا ہے ،اس منصوبے پر قومی خزانے سے اربوں روپے لگے ہیں۔کمیٹی نے نیب حکام کو ہدایت کی کہ معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔کمیٹی نے نادرا ہیڈ کوارٹرز میں ایک کروڑ79لاکھ روپے کی لفٹس کی تنصیب کے آڈٹ پیراز کو سیٹل کرنے پر آڈٹ حکام پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اگلے اجلاس میں آڈیٹر جنرل کو بلا لیا ۔نادرا کی جانب سے پیپرا رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گیسٹ ہاؤس کی ہائرنگ پر کمیٹی ارکان پھٹ پڑے ۔