مکرمی ! حکومت کی جانب سے پولیس کلچر میں تبدیلی اور اصلاحات کے دعوے کئے جارہے ہیں جبکہ دوسری طرف پولیس بھرپور ڈھٹائی سے ٹارچر سیلز کا استعمال کر تے ہوئے ظلم و بربریت کی بدترین مثالیں قائم کررہی ہے۔ اور ستم ظریفی تو یہ کے ان ٹارچر سیلز میں زیادہ تر ان غریب لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے جن کے پاس ظلم کے خلاف آواز اُٹھانے کا کوئی مناسب ذریعہ موجود نہیں ہوتا۔ پولیس تشدد سے صلاح الدین کی ہلاکت کے بعد گزشتہ روزضلع وہاڑی کے علاقہ لڈن میں پولیس کے نجی ٹارچر سیل میں غریب خاتون کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ تبدیلی کے دورمیں بھی پولیس کلچرتبدیل نہ ہوسکا ہے، اور پولیس بدستوربااثرافرادکے ہاتھوں کھلونابنی ہوئی ہے ۔ ساہیوال میں پولیس نے ایک ہی خاندان کے افراد کو دہشت گردی کے نام پر قتل کر ڈالا، آج تک اس خاندان کو انصاف نہیں ملا۔ (رانااعجازحسین چوہان )