لاہور(اشرف مجید)پاکستان گڈزٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن اور منی مزدا ایسوسی ایشن نے پولیس کی جانب سے ٹرک ڈرائیورز کو ہراساں کرنے اورجی ٹی روڈ سمیت ٹرک اڈوں پر ٹائر شاپس ،ورکشاپس، ہوٹلز نہ کھولنے پرملک بھر میں اجناس اور ادویہ کی سپلائی بند ہونے کا خدشہ ظاہر کر دیا۔ پریشان کن صورتحال کے پیش نظر 50فیصد ڈرائیوروں نے گاڑیاں چلانے سے معذرت کر لی جبکہ ایسوسی ایشنز کی جانب سے وزارت مواصلات ، وزارت ٹرانسپورٹ اور ضلعی انتظامیہ کو صورتحال سے آگاہ کر دیا گیا۔تفصیل کے مطابق کرونا وائرس سے بچائو کیلئے پنجاب اور دیگر صوبوں میں لاک ڈائون جیسی صورتحال میں گڈز ٹرانسپورٹروں کیلئے ملک بھر میں اجناس اور ادویہ کی سپلائی کرنا انتہائی مشکل ہو گیا جسکی بڑی وجہ جگہ جگہ ناکوں پر موجود پولیس اہلکاروں کی جانب سے گڈز ٹرانسپورٹ کے ڈرائیورز کو مسلسل ہراساں کرنا ہے ۔ اس صورتحال کے باعث گڈز ٹرانسپورٹ کمپنیوں کیساتھ کام کرنیوالے 50فیصد سے زائد ڈرائیوروں نے گاڑیاں چلانے سے انکار کر دیا ہے جبکہ اسکے ساتھ ہی گڈز ٹرانسپورٹ سے وابستہ تمام ورکشاپس ،ٹائر شاپس اور کھانے کے ہوٹل بند ہونے سے ڈرائیورز کی ہمت جواب دے گئی اور انہوں نے کمپنی مالکان کو کام کرنے سے صاف جواب دیدیا ۔ اگر موجودہ صورتحال کو فوری طور پر قابو نہ کیا گیا تو نہ صرف پنجاب بلکہ دوسروں صوبوں میں جو تھوڑی بہت اجناس اور ادویہ کی سپلائی جا رہی ہے وہ بھی رک جائیگی۔ ذرائع کے مطابق پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن اور پاکستان منی مزدا ایسوسی ایشن نے مواصلات اور ٹرانسپورٹ کی وزارتوں اور ضلعی حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ اگر فوری طور پر گڈز ٹرانسپورٹ سے متعلق ایس او پیز نہ بنائے گئے اور متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری نہ کی گئیں تو ملک میں اجناس اور ادویہ کی قلت پیدا ہو جائیگی ۔ سیکرٹری جنرل پاکستان منی مزدا ایسوسی ایشن تنویر احمد جٹ نے روزنامہ 92نیوزسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ ملکی حالات میں گڈز ٹرانسپورٹ کو دوران سفر پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ سندھ اور پنجاب میں پولیس کی جانب سے ڈرائیورز کو مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے ،اگر حکومت نے فوری کوئی پالیسی نہ بنائی تو ملک میں اشیاء خور و نوش اور جان بچانے والی ادویہ وغیرہ کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے ۔ سیکرٹری جنرل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن طارق نبیل نے کہا کہ ڈی سی لاہور کو ڈرائیوروں کے چھوڑ کر جانے کی وجوہات، اجناس اور ادویہ کی قلت کے خدشات سمیت دیگر تمام مسائل سے آگاہ کر دیا ہے ۔ اگر فوری اقدامات نہ کئے گئے تو حکومت اسکی خود ذمہ دار ہو گی ۔