لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)ترجمان وزیر اعلی پنجاب شہباز گل نے کہا ہے کہ عوام کوہم سے بہت توقعات ہیں لیکن پنجاب میں پولیس کاسسٹم اسقدر خراب ہے کہ جس کو ٹھیک کرنا ا ٓسان نہیں ہے پروگرام92ایٹ 8میں میزبان سعدیہ افضال سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا پی ٹی آئی وہ پہلی پارٹی ہے جس نے عوام سے پولیس کو تبدیل کرنے کا وعدہ کیا، ماضی کے حکمران تو حکم دیکر لوگوں کو قتل کراتے تھے ،ہمارے حکم پر کسی مخالف کیخلاف پولیس کارروائی کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔ ہر حکومت کے کرپشن کے سیکنڈل آجاتے تھے لیکن میں چیلنج کرتاہوں کہ ہمار اکوئی سیکنڈل آیا ہے ؟۔پنجاب میں 50مثالی تھانے بن گئے اور اگلے دو ماہ میں کام شرو ع کردینگے ۔ہم کام کر رہے ہیں ۔پولیس 70سال میں خراب ہوئی اس کو ٹھیک کرنا آسان نہیں لیکن ہم اپنے پانچ سالوں میں اسے ٹھیک کرکے جائیں گے ۔ ہم نے کرپشن پر 36 ڈی ایس پیز نکالے لیکن وہ عدالتوں کی وجہ سے واپس آگئے ، جنہوں نے کرپشن کی، ان کیخلاف انویسٹی گیشن ہورہی ہے ۔لاہور میں شہباز شریف نے بارہ ارب روپے لگا کر کیمرے لگائے ہم نے یہی کام میانوالی میں چالیس لاکھ روپے میں کیا۔ دفاعی تجزیہ کار میجرجنرل ریٹائرڈ اعجاز اعوان نے کہا کہ پنجاب پولیس میں تبدیلی آئی اورنہ آتے دیکھ رہاہوں۔ اس کو کنٹرول کرنے کیلئے صاحب فہم شخصیت کی ضرورت ہے ۔یہ پولیس کرائم کرتی بھی ہے کراتی بھی ہے اورروکتی بھی ہے ۔60 فیصد جرائم کا جو ہوتے ہیں ان کا پنجاب پولیس کو مکمل پتہ ہوتا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پی ٹی آئی میں کرپشن نہیں لیکن ہم پولیس کی بات کررہے ہیں کیا پنجاب میں پولیس میں رشوت یا پولیس گردی کم ہوئی تو اس کا کوئی جواب نہیں ۔شہبازشریف کے دس سالہ دور میں 38ہزار قتل ہوئے اور موجودہ حکومت کے ایک سال میں ساڑھے تین ہزار افراد قتل ہوچکے ہیں تو سوال تو بنتا ہے ۔تجزیہ کار افتخارا حمد نے کہا کہ پی ٹی آئی کے منشور کے مطابق پنجاب پولیس کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔بلکہ پولیس کو مزید سیاست زدہ کردیا گیاہے ۔ میرا تعلق ن لیگ سے رہا ،وہ میرے دوست ہیں اوررہیں گے ، میں نے جوکام کیا وہ بلامعاوضہ کیا لیکن میں بد تمیزی برداشت نہیں کروں گا۔میں یہ کہتا ہوں جب تک پنجاب پولیس کی کمانڈ کو غیر سیاسی نہیں کرتے ہیں یہ ٹھیک نہیں ہوگی۔اگر پولیس میں کسی نے کرپشن کی ہے تو انہیں نکال دیں۔اگر تبدیلی ہوئی تو سب کو فائدہ ہوگا۔