اسلام آباد (سپیشل رپورٹر،لیڈی رپورٹر، این این آئی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ نے چیئرمین پی سی بی کی عدم شرکت پر شدید ناراضگی کا اظہارکیا ہے جبکہ پی ایس ایل فائیوکی افتتاحی تقریب پر مہرین رزاق بھٹو نے اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی افتتاحی تقریب میں بھارتی فنکاروں نے کیسے پرفارم کیا؟قائمہ کمیٹی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے گزشتہ تین سال کی آمدن و اخراجات کی تفصیلات مانگ لی ہیں۔ جمعہ کو آغا حسن بلوچ کی زیر صدارت اجلاس میں مہرین رزاق بھٹو نے کہاکہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ، انڈین آرٹسٹ کو آپ نے کتنی مراعات دے کر بلایا؟ اس صورتحال میں کشمیر کا سوال کہاں کھڑا ہوتا ہے ؟علاوہ ازیں ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے موسمی تغیرات نے میٹروپولیٹن کارپوریشن کے اسلام آ باد کو صاف ستھرا بنانے اور مارکیٹوں کو شام کے وقت جلد بند کرنے کی رپورٹ پیش نہ کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ۔علاوہ ازیں قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کا اجلاس چیئرمین سید امین کی زیرصدارت ہوا۔اجلاس میں کابینہ اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژنز نے مالی سال2020-21کی 17,283.01اور 256.882ملین مالیت کی پی ایس ڈی پی اجلاس میں پیش کئے ۔کمیٹی نے راولپنڈی میں 200بیڈ کا زچہ بچہ ہسپتال کی تعمیر میں تاخیر پرتشویش کا اظہار کیا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ کراچی گرین لائن منصوبہ دسمبر 2020ء میں مکمل ہوجائے گا۔ علی محمد خان نے کہاکہ جاری کردہ فنڈز کی تفصیلات میں ہمیں ایک پیمانہ رکھنا ہو گا،اب نیا پاکستان ہے پرانی روایت کو بھولنا ہو گا، اگر ایک روٹی ہمیں ملے گی تو اُسے بھی بانٹ کر کھانا ہوگا۔ وفاقی وزیر علی محمد خان نے کابینہ ڈویژن اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو آئندہ کمیٹی اجلاس میں پی ایس ڈی پی میں سابق فاٹا اور بلوچستان کو خصوصی طور پر شامل کرنے کی ہدایت کی۔علاوہ ازیں بچوں کے تحفظ کے حوالے سے سینٹ کی خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ خصوصی کمیٹی سارک ممالک میں لاگو قوانین کا مطالعہ کرے گی جس کے تحت بچوں کے تحفظ کیلئے اقدامات کئے جاتے ہیں۔