اسلام آباد (وقائع نگار، خبر نگار خصوصی، سپیشل رپورٹر، نیوز ایجنسیاں ، مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور حکومت کی جانب سے متنازعہ قانون سازی کے خلاف صحافیوں کا دھرنا ختم ہو گیا ۔ صحافتی تنظیموں نے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان اس ہفتے کے اختتام پر کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ گزشتہ روز اسلام آباد میں ملک بھر سے صحافی تنظیموں کے عہدیداروں اور کارکنوں نے میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قیام کے خلاف ریلی نکالی اور پارلیمنٹ کے سامنے پہنچ کر دھرنا دیا بھی ۔ اس موقع پر صحافیوں کے دھرنے میں اپوزیشن رہنماؤں نے بھی شرکت کی ۔ صدر ن لیگ اور اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں صحافیوں کیلئے بھر پور احتجاج کیا ۔ پی ایم ڈی اے کالا قانون ہے ، اسے منظور نہیں ہونے دینگے ۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے خطاب میں کہاکہ میڈیا کنٹرول کرنے کی سازش کامیاب ہوگئی تو پاکستان میں آئین اور جمہوریت کی موت ہوجائے گی ۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کہ وزیراعظم عمران خان کو فوجی قیادت کو سیاست میں نہیں گھسیٹنا چاہیے ، پیپلز پارٹی پی ایم ڈی اے کو نہیں مانتی یہ جمہوریت پر ڈاکہ اور عدلیہ پر بھی حملہ ہے ۔ ۔ شیری رحمن نے کہا کہ میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لئے نئے قانون کی ضرورت نہیں پہلے ہی ادارے موجود ہیں۔ سابق چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے کہا کہ پی ایم ڈی اے کالا قانون ،کسی صورت منظور نہیں ہونے دیں گے ۔عوامی نیشنل پارٹی کے زاہد خان نے کہاکہ میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا مجوزہ بل سب کا مسئلہ ہے ۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے نے اپنے بیان میں کہا کہ پی ایم ڈی اے قانون کے ذریعے حکومت میڈیا کو زنجیروں سے باندھنا چاہتی ہے ۔ ممبر پاکستان بار کونسل امجد شاہ نے کہاکہ میڈیا پر ایسی پابندی نہ لگائیں جس سے ملک کو نقصان ہو ۔سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی سید نیر بخاری نے اپنے بیان میں کہا کہ میڈیا پر پابندیاں اور میڈیا پرسنز کی زبان بندیاں افسوسناک ہیں۔