آج کل آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ جس سے بات کرو، وہ معمولی سے ایشو پر اچانک آگ بگولا ہوجاتا ہے۔ دکاندار سے تھوڑی سی بحث کریں، سیلزمین کو مختلف آئٹم دکھانے کا زیادہ کہہ دیں تو وہ پلٹ کر ٹکا سا جواب دے گا۔ حتیٰ کی پھلوں اور سبزیوں کی ریڑھی والے بھی اتنا زیادہ جارحانہ رویہ دکھاتے ہیں کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے۔ اس کا اثر ہر جگہ اور ہر سطح پر پڑ رہا ہے۔ گھروں میں، دفاتر میں، سرکاری محکموں یا کہیں پر بھی یہ نظر آتا ہے کہ لوگ اپنی برداشت اور تحمل کھو رہے ہیں۔ دوسروں کے لئے حسن ظن بھی خوفناک حد تک کم ہوچکا۔ مجھے یہ سب دیکھ کر ایک مشہور انڈین آرٹ فلم’’البرٹ پنٹو کو کیوں غصہ آتا ہے؟‘‘یاد آجاتی ہے۔ایک زمانے میں بھارت میں متوازی سینما ایک خاص اہمیت کا حامل تھا، ستر اور اسی کے عشرے میں بہت خوبصورت آرٹ فلمیں بنیں۔ ہر قسم کے موضوعات پر طبع آزمائی کی گئی۔ تخلیقی تجربات کرنے والوں کا اچھا خاصا حلقہ بھارت میں موجود تھا۔ سنجیدہ سٹریٹ تھیٹر سے لے کر انوکھے موضوعات پر آرٹ فلموں تک بہت عمدہ کام ہوا۔ نصیر الدین شاہ نے ان آرٹ فلموں میں یادگار قسم کے کردار ادا کئے۔ ایسے کردار کہ بیس پچیس سال پہلے دیکھی فلم کا ہر منظر ذہن میں نقش رہتا ہے۔ سمیٹا پاٹل اور شبانہ اعظمی ان فلموں کی خاتون اداکار ہوتیں۔ فاروق شیخ اکثر فلموں میں ہیرو ہوتے ۔ان فلموں کا بجٹ بہت ہی کم ہوتااور شائد فاروق شیخ ہی ان اداکاروں میں سب سے وجیہہ اداکار تھے۔ اوم پوری کا بھی بعض فلموں میں عمدہ کام ہے، ''پارٹی‘‘ میں ان کی اداکاری مجھے ابھی تک یاد ہے، اس میں نصیر الدین شیخ ایک سین کے لئے، فلم کے آخر میں آئے ،مگرو ہ ہلا دینے والا منظرتھا۔ پارٹی کے ڈائریکٹر گووند نہلانی تھے۔قیام پاکستان سے سات سا ل پہلے کراچی میں پیدا ہونے والے گووند نہلانی ایک لیجنڈری بھارتی فلم ڈائریکٹر ، پروڈیوسر اور سکرپٹ رائٹر ہیں۔ ان کی تین فلموں کی ایک سیریز تھی، اکروش (Aakrosh)،اردھ ستی(Ardhsatia ) اور پارٹی (Party)۔ موقعہ ملے تو یہ تینوں فلمیں ضرور دیکھنی چاہئیں۔ اکروش کو اوم پوری اپنی بہترین فلموں میں سے ایک مانتے ہیں۔ اوم پوری کا ذکر آیا تو ایک چھوٹا سا دلچسپ واقعہ سنتے جائیے۔ وہ چند سال قبل لاہور آئے تو ایک اعلیٰ صوبائی شخصیت کے صاحبزادے نے انہیں چائے پر مدعو کیا۔یہ تحریک انصاف کے حکومت میں آنے سے پہلے کی بات ہے۔ اوم پوری کے ساتھ لاہور کے بعض شوبز جرنلسٹ بھی تھے۔ان میں سے ایک اس واقعہ کے راوی ہیں۔ان صاحبزادے نے اوم پوری کا پرجوش خیرمقدم کیا اور کہا کہ میں آپ کی فلموں کا بڑا فین ہوں، خاص طور سے ایک فلم میں آپ کا کردار مجھے بہت پسند آیا تھا۔ اوم پوری نے سوچا کہ میزبان نے شائد میری مشہور فلموں میں سے کوئی دیکھ رکھی ہوگی۔ انہوں نے دو تین فلموں کے نام لئے، اکروش، پارٹی وغیرہ۔ نوجوان میزبان نے انکار میں سرہلایا اور چمکتی ہوئی آنکھوں سے بولے کہ آپ کی ایک فلم ’’گپت ‘‘تھی ، اس میں آپ انسپکٹر بنے تھے، وہ بڑے مزے کی تھی۔ اوم پوری کے چہرے پر مایوسی چھا گئی، دھیرے سے وہ بولے، صاحب ، وہ تو میری کچن فلموں میں سے ایک تھی، ایسی عام کمرشل فلمیں تو ہم گھر کا خرچہ چلانے کے لئے سائن کر لیتے ہیں، اداکاری کا مارجن کہاں ہوتا ہے ان میں۔ اس پر میزبان پرجوش انداز میں بولے ، نہیں نہیں، آپ نے کمال کام کیا تھا اس میں۔ اوم پوری نے بے چارگی سے اپنے ساتھیوں کو دیکھا اور مسکرا کر شکریہ ادا کیا اور پھر خاموشی سے چائے پینے لگ گئے۔ ان پرانی بھارتی آرٹ فلموں میں سے ''البرٹ پِنٹو کو غصہ کیوں آتا ہے؟‘‘بھی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ نصیرالدین شاہ اس میں البرٹ پنٹو بنے تھے۔ اس فلم کے ہدایت کار سعید اختر مرزا ہیں۔ سعید مرزا ترقی پسند رائٹر اور ڈائریکٹر تھے اور ان کی فلموں میں ایک خاص انداز سے سماجی مسائل کو اجاگر کیا جاتا تھا۔ البرٹ پنٹو ایک عیسائی کردار تھا، گوا سے اس کا تعلق ہونے کے باوجود حالات اسے ممبئی میں بطور موٹر مکینک کام کرنے پر مجبور کر چکے تھے۔ البرٹ پنٹو کے اندر شدید قسم کی فرسٹریشن اور غصہ تھا جو مختلف طریقوں سے چھلکتا رہتا۔ وہ دولت مند بننے کا خواہش مند تھا۔ اس کا خیال تھا کہ محنت کرنے، اچھا کام کرنے اور اپنے گاہکوں کے ساتھ سوشل ریلیشن بنانے سے وہ کامیاب ہوسکتا ہے۔اس کے بعض دولت مند گاہک اسے کہتے کہ ہڑتال کرنا بہت بری بات ہے اور جو مزدور یا ورکر ہڑتال کرتے ہیں، وہ خطرناک ہیں، ملک کو نقصان پہنچاتے ہیں، کاروبار تباہ کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ البرٹ پنٹوکو ان لیبر یونین کے ورکرز پر بے تحاشا غصہ آتا۔ اسے ان دولت مند گاہکوں پر بھی غصہ آتا جو اس کی تمام تر کوشش کے باوجود اسے غریب اور نچلے طبقہ کا ہونے کا احساس دلاتے رہتے۔ البرٹ پنٹو کو زندگی اور دنیا کا سسٹم سمجھ نہیں آتا ، وہ اس پر ہر وقت جھنجھلایا رہتا، غصہ کا اظہار کرتا رہتا، کبھی اپنی محبوبہ سے الجھ پڑا، کبھی کسی اور کو سنا دیں۔ دراصل اس فلم میں نہایت خوبصورتی سے اس معاشی اور سماجی نظام کو نشانہ بنایا گیا جو ایک نوجوان کو سوائے شدید فرسٹریشن اور غصہ کے کچھ نہیں دے رہا۔ البرٹ پنٹو پہلے ورکرز اور ہڑتال کرنے والوں کے خلاف تھا، پھر اس کا اپنا باپ جب ہڑتال کرنے کی پاداش میں مل مالک کے غنڈوں کا نشانہ بنا تو اس پر حقائق منکشف ہوئے۔ اس کا غصہ بعد میں بھی جار ی رہا ،مگر اب اس کا ہدف وہ سرمایہ دارانہ نظام اوراستحصالی سرمایہ دار تھے۔ فلم کا نام مختلف ہونے کی وجہ سے یاد رہ جاتا ہے۔ البرٹ پنٹو میں لفظ پنٹو (Pinto) شامل ہونے کی وجہ بھی دلچسپ تھی۔ فلم کا بجٹ کم ہونے کے باعث اس کی زیادہ تر شوٹنگ ایک مکان میں ہوئی، جو مزاحیہ اداکار پنٹو کی ملکیت تھا۔ پنٹو کو خوش کرنے کے لئے اس کا نام فلم کے نام میں شامل کیا گیا۔ یوں البرٹ سے'' البرٹ پنٹو کو غصہ کیوں آتا ہے ؟‘‘ ہوگیا۔ یہ فلم اور اس کا دلچسپ نام آج کل ہمارے آس پاس ، چاروں اطراف میں پھیلے شدید غصے کی کیفیات اور اس کے بے محابہ اظہار کو دیکھ کر یاد آجاتا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ البرٹ پنٹو کی طرح ہمارے ہاں بھی اس غصے کی ایک بڑی وجہ تو ہمارا استحصالی نظام ہے ، ہر طرف ظلم، لوٹ مار، عام آدمی کی تذلیل اور توہین۔ سرکاری ہسپتال سے تھانہ کچہری اور شناختی کارڈ دفتر سے پاسپورٹ آفس تک ہر جگہ جہاں کہیںلوگوں کا سرکاری اہلکاروں سے رابطہ ممکن ہے، وہاں قدم قدم پرعوام کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ تم کمی، کمین اور کسی منحوس ترین درجے کی مخلوق ہو، جس کا کوئی حق نہیں کہ اس کی عزت افزائی کی جائے۔ حیرت ہوتی ہے کہ جس دفتر میںجائو ، بے پناہ رش ملتا ہے۔ لوگ صبح آٹھ بجے اٹھ کر قطاروں میں لگتے ہیں اور پھر پورا دن ضائع کرنے کے بعد کہیں جا کر کچھ سنی جاتی ہے۔ حکمرانوں کو یہ قطعی خیال نہیں آتا کہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ وغیرہ کے دفاترکی تعداد دوگنا کر دیں،اس میں کتنا خرچ آ جائے گا؟ لوگوں کو کتنا سکھ ملے گا، اس کا سوچ کر ہی یہ تمام خرچے قابل قبول لگتے ہیں، مگر چونکہ یہ تکالیف عام آدمی کے لئے ہیں، اس لئے ہماری اشرافیہ کبھی ایسا نہیں کرے گی، خواہ کتنا ہی شور مچتا رہے۔ ایک اور پہلو یہ ہے کہ رشوت ستانی کا نظام بھی اب زیادہ ایکسپوز ہوچکا ہے۔ صرف ایک ادارہ فوج کا ایسا ہے جہاں سو فی صد میرٹ پر تقررہوتے ہیں اور وہاں ترقی میں بھی صلاحیت دیکھی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ہر سول محکمے میں سب کچھ الٹ پلٹ ہے۔ پہلے کچھ نہ کچھ بھرم رکھا جاتا تھا، اب اس کی کوئی زحمت ہی نہیں کرتا۔ پیسے دے کر ملازمت لینا ہو، سفارش اور اثرورسوخ سے تبادلہ کرانا یا دیانت دار افسروں کو کھڈے لائن لگا دینا۔ یہ سب نہایت دیدہ دلیری اور ڈھٹائی سے کیا جاتا ہے۔ یہ اس لئے پریشان کن ہے کہ جب نوجوانوں کو میرٹ اور اہلیت کی بنا پر آگے آنے کی امید نہ نظر آئے تو ان میں شدید مایوسی در آتی ہے۔ البرٹ پنٹوکا غصہ تو چلو اس کی اپنی ذات پر نکل جاتا تھا، مگر نوجوان نسل اگر زندگی میں آگے بڑھنے کے حوالے سے مایوسی ہوجائے تو یہ زیادہ تشویشناک امر ہے۔ ہمارے ارباب اختیار کو اس جانب توجہ کرنا چاہیے ۔