اسلام آباد (نامہ نگار،92 نیوزرپورٹ) ڈپٹی چیئرمین سینٹ سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ چیئرمین نیب کہتے ہیں انہیں بلیک میل کیا جا رہا ہے ، پارلیمنٹ میں آکر بتائیں کون بلیک میل کر رہا ہے ۔ گزشتہ روزچیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا جس میںخطاب کرتے ہوئے سلیم مانڈو ی والا نے کہا نیب ہر ایک کے اکاؤنٹ میں گھس جاتا ہے ،جس ملک میں پارلیمنٹ ڈر جائے وہاں عام آدمی کا کیا ہو گا،سٹیٹ بینک بھی یرغمال ہے ، ملک میں کسی کا اکاؤنٹ محفوظ نہیں، نیب کے ان اقدامات کا اثر انٹرنیشنل معاہدوں پر بھی ہو گا، تاثر دیا گیا کہ میں ڈیل کرنا چاہتا ہوں، پارلیمنٹ کو اس معاملے پر کھڑا ہونا چاہئے ، نیب کی غلطیوں کو روکنا ہو گا، گورنر سٹیٹ بینک کو بلائیں یا چیئرمین ایس ای سی پی کو سب یہی رونا روئیں گے ، انہوں نے کہا مجھے میسجز آ رہے ہیں کہ جتنا بولیں گے اتنے کیسز بنا ئینگے ، اب ہر ہفتے نیب متاثرہ افراد سامنے آ ئینگے ،سلیم مانڈوی والا نے کہا حکومت کو نیب کا احتساب کرنے میں کیا مشکل ہے ؟ ڈی جی عرفان منگی کا خاندان باہر رہتا ہے تو ہم ان سے کیوں نہیں پوچھ سکتے ؟ کون انکے اخراجات برداشت کرتا ہے ؟جب تک نیب والے آکر اثاثوں کی وضاحت نہیں کرتے ہم نہیں رکیں گے ، حفیظ شیخ کو بھی نوٹس بھیجا گیا ،صرف ایک شخص کو ذلیل کرنے کیلئے یہ سب کیا جا رہا ہے جن لوگوں نے نیب کی وجہ سے خودکشیاں کی ہی انکے اہل خانہ سے ملنا چاہئے ،نیب کی جانب سے میرے خلاف ریفرنس فائل کر دیا گیا ہے ۔ چیئرمین نیب کو مبارکباد بھی پیش کی ہے کہ میرے کہنے پر ریفرنس تو فائل ہو گیا ، بابر اعوان کو بھی ریفرنس بھیجا ہے ، میں چاہتا ہوں اوپن ٹرائل ہو۔مشیر وزیر اعظم بابر اعوان نے کہا پارلیمنٹ کے پاس اختیار ہے کسی کو طلب کرے ، یا ریکارڈ منگوائے ،پی اے سی ، سرکاری اکا ئونٹ کو چیک کرے گی،کیا اب کسی کے مرنے کی وجہ بھی پی اے سی چیک کرے گی ؟ ۔دریں اثناء پیپلزپارٹی نے ملک میں بجلی بریک ڈائون کا معاملہ ایوان میں اٹھا دیا۔شیری رحمان کا کہنا تھا توانائی بحران پر حکومت نیپرا کے ذریعے معاملے کی انکوائری کر رہی ہے جسے ہم مسترد کرتے ہیں ۔وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا ابتدائی رپورٹ کے مطابق گدو کے ساتھ ایک بریکر پر تین دن سے لگاتار کام ہورہا تھا اوربریکر کو غلط طریقے سے آپریٹ کیا گیاجسکی وجہ سے بریک ڈاؤن ہوا۔ایوان میں عمر ایوب کی جانب سے آصف زرداری کو مسٹر ٹین پرسنٹ کہنے پر پیپلز پارٹی نے شدید احتجاج بھی کیا ۔بعد ازاں سینیٹ کا اجلاس پیر کی سہ پہر 3 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔