امریکہ کے بعد بھارت سے شکست پر کرکٹ کے شائقین سوال اٹھا رہے ہیں کہ فلاں فلاں کھلاڑی کس خوبی کی بنیاد پر ٹیم کا حصہ ہے ، یہ قومی کرکٹ ٹیم ہے جہاں اہلیت کی بنیاد پر انتخاب ہوتا ہے یا یہ داماد الیون اور ذاتی دوستوں کا ایک کلب ہے جہاں اہلیت کی بجائے اقربا پروری سے کام چلتا ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ بہت اہم سہی لیکن میرے دامن سے ایک اور سوال لپٹا ہے۔ کھلاڑیوں کی بات بعد میں کریں گے اس سے پہلے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ چیئر مین پی سی بی کی اپنی اہلیت کا معیار کیا ہے؟ اس منصب کے لیے کوئی بنیادی اہلیت اور قابلیت بھی درکار ہوتی ہے یا مال غنیمت ہے جسے جب جہاں اور جیسے کی بنیاد پر کسی بھی منظور نظر کی خدمت میں پیش کیا جا سکتا ہے؟یہاں درجہ چہارم کی ملازمت کا کوئی اشتہار آتا ہے تو مطلوبہ اہلیت اور قابلیت کی ایک فہرست ساتھ ہوتی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ چیئر مین پی سی بی کے عہدے کے لیے مطلوبہ اہلیت اور قابلیت کا معیار کیا ہے؟ محسن نقوی صاحب کرکٹ بورڈ کے سربراہ ہیں۔ کیا ہم جان سکتے ہیں کہ ان کی کرکٹ کے معاملات میں اہلیت اور قابلیت کس قدر ہے؟ ان کے سیاسی عہدے ایک طلسم کدہ ہیں۔ اس طلسم کدے کو تو ایک طرف رکھ دیجیے لیکن اس سوال کا کیا جواب ہے کہ ایک آدمی جو وزیر داخلہ بھی ہے ایسی کیا مجبوری آن پڑی تھی کہ اسی کو کرکٹ بورڈ کا سربراہ بنا دیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ کا منصب غیر معمولی توجہ چاہتا ہے ، اس منصب پر بیٹھا آدمی ایسا فارغ کیسے ہو گیا کہ وہ کرکٹ کے امور بھی دیکھ لیتا ہے؟ کیا وطن عزیز میں کرکٹ کا اس سے بڑا ماہر کوئی نہ تھا کہ نگران وزیر اعلیٰ کے بعد وزیر داخلہ کے ساتھ ساتھ کرکٹ بورڈ کا سربراہ بھی اسی کو بنا دیا گیا؟چیئر مین کرکٹ بورڈ آخر کرکٹ کو کتنا سمجھتے ہیں؟ ان کے اپنے کیریئر میں کرکٹ یا کرکٹ فہمی کے کتنے حوالے موجود ہیں؟ اہم مناصب اگر نو آبادیاتی طرز حکومت کا مال غنیمت نہیں بلکہ ایک مہذب ملک میں ذمہ داری ہیں تو حکومت اور پی سی بی سے ان سوالات کاجواب مانگا جانا چاہیے۔منصب کوئی سا بھی ہو ، وہ اس شعبے کے کسی اہل آدمی کے سپرد ہونا چاہیے۔ ہمیں یہ بات اب سمجھ لینی چاہیے کہ مناصب مال غنیمت نہیں ہوتے۔ پی سی بی کے چیئر مینوں کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو سر پیٹنے کو جی کرتا ہے۔ پیپلز پارٹی نے جناب ذکاء اشرف کو پی سی بی کا چیئر مین بنایا تھا، کیا وہ زرعی ترقیاتی بنک میں بیٹھ کر ساری عمر گگلی کراتے رہے تھے اور دنیا میں ان کی اس مہارت کا ڈنکا بج رہا تھا کہ انہیں یہ منصب دیا گیا؟تماشا دیکھیے کہ پیپلز پارٹی کو دوسری بار اقتدار میں حصہ ملا تو موصوف کو دوسری بار چیئر مین پی سی بی بنا دیا گیا۔ سینیٹ میں ان کی اہلیت کا سوال اٹھا تو جواب دیا گیا کہ کرکٹ ان کا مشغلہ ہے۔ معلوم انسانی تاریخ میں ’مشغلے‘ کی بنیاد پر ایسی نوازشات کی مثال تلاش کرنا وطن عزیز کے علاوہ کہیں بھی ممکن نہیں۔ اسی طرح نجم سیٹھی صاحب کا معاملہ ہے۔ وہ بھی صحافت فرماتے فرماتے اچانک نگران وزیر اعلی بنے اور پھر پی سی بی کے سربراہ بنا دیے گئے ۔ ان کی کرکٹ کی مہارت کیا تھی؟ بلے باز تھے، بائولر تھے یا فیلڈنگ میں جانٹی روڈ کے استاد محترم کے درجے پر فائز تھے؟ ایک صحافی میں آخر وہ کیا خوبی تھی کہ اسے کرکٹ بورڈ کا سربراہ بنا دیا جائے؟نون لیگ کو دوبارہ اقتدار ملا تو ساتھ ہی سیٹھی صاحب ایک بار پھر چیئر مین بنا دیے گئے۔ ذکاء اشرف صاحب کی طرح۔ شہر یار خان تو ایک سفارت کار تھے۔ ایک سہانی صبح وہ بھی کرکٹ بورڈ کے سربراہ بنا دیے گئے ، معلوم نہیں انہیں کرکٹ کی دنیا میں کون سے کارناموں کی وجہ سے پی سی بی کا سربراہ بنایا گیا؟ جنرل توقیر ضیاء صاحب بھی چیئر مین رہے۔ آج تک معلوم نہیں ہو سکا ان کا کرکٹ سے کیا تعلق تھا۔ ان کے دور میں ان کے صاحبزادے کی سلیکشن تو ہو گئی، اور پھر سربراہی ختم ہوتے ہی نونہال کا کرئیر بھی ختم ہو گیا، صاحب زادے کہیں پی ایس ایل میں بھی نظر نہیں آتے ۔ ظفر الطاف صاحب بھی یہاں کرکٹ بورڈ کے سربراہ رہے۔کیا کوئی صاحب بتا سکتے ہیں موصوف کے انتخاب کا میرٹ کیا تھا اور کرکٹ کے میدان میں ان کی مہارت کا عالم کیا تھا؟ کرکٹ سے موصوف کے تعلق کی نوعیت کیا تھی کہ صاحب کو اٹھاکر بورڈ کا سربراہ بنا دیا گیا۔ کرکٹ میں انہوں نے جو جھنڈے گاڑے تھے ان کی مبلغ تفصیل یہ ہے کہ دورہ بھارت میں بارہویں کھلاڑی کے طور پرانہیں فیلڈنگ کے لیے بھیجا گیا اور انہوں نے ایک کیچ پکڑ لیا۔ صرف چھ عدد فرسٹ کلاس میچ کھیلے ا ور ایک دن چیئر مین بنا دیے گئے۔ اعجاز بٹ نے مبلغ آٹھ ٹیسٹ کھیل رکھے تھے اور اپنے کیریئر میں پوری تین عدد وکٹیں لے رکھی تھیں۔اس کارکردگی کے ساتھ تو وہ شاید آئی سی سی کے سربراہ بھی بن سکتے تھے یہ تو ان کی میانہ روی تھی کہ پی سی بی کے مال غنیمت پر ہی مطمئن ہو گئے اور زیادہ کی ہوس نہیں کی۔ سابق بیوروکریٹ خالد محمود کی کرکٹ کے لیے کیا خدمات تھیں کہ پی سی بی کے سربراہ بنا دیے گئے؟ سپین میں پاکستان کے سفیر رہنے والے سید ذوالفقار بخاری کا کرکٹ سے کیا اور کتنا تعلق تھا کہ کرکٹ بورڈ کے سربراہ بنا دیے گئے؟ جنرل زاہد علی اکبر، جنرل غلام صفدر بٹ، جنرل خواجہ محمد اظہراور ائیر مارشل نور خان صاحب کا کرکٹ ریکارڈ کیا تھا کہ وہ کرکٹ بورڈ کے سربراہ بنا دیے گئے؟ نواب آف ممدوٹ افتخارحسین خان اور سندھ کے سابق وزیر اعلی عبد الستار پیرزادہ کا کیا استحقاق تھا کہ کرکٹ بورڈ کے سربراہ بنائے جاتے؟لاہور کے پہلے میئر میاں امین الدین کیا کرکٹر تھے کہ کرکٹ بورڈ کے سربراہ بن بیٹھے؟ پاکستان کے تیسرے وزیر اعظم محمد علی بوگرہ نے ساری زندگی کرکٹ کے کتنے میچ کھیلے تھے کہ بورڈ کے سربراہ بنا دیے گئے؟ صدر ایوب اور سکندر مرزا بھی کرکٹ بورڈ کے سربراہ رہے۔ کیا ہم جان سکتے ہیں ان کا میرٹ کیا تھا اور کرکٹ کی دنیا میں ان کی وہ کون سی گراں قدر خدمات تھیں کہ انہیں یہ منصب عطا کیا گیا؟ جسٹس کارنیلیس قانون اور انصاف کی دنیا کا بہت بڑا نام ہے لیکن سوال یہ ہے وہ کرکٹ بورڈ کے سربراہ کیسے بنا دیے گئے؟ ان کی انصاف پسندی دیکھیے وہ بن بھی گئے۔ سید فدا حسین اور اکرام احمد خان جیسے بیوروکریٹ کیسے کرکٹ بورڈ کے سربراہ بن گئے؟ یہی رویہ خرابی کی جڑ ہے۔ ہر شعبے کا سربراہ اس شعبے کا متعلقہ آدمی ہو گا تو وہ شعبہ ترقی کر سکے گا ۔لیکن اگر مناصب اسی طرح بانٹے جائیں گے جیسے نو آبادیاتی دور غلامی میں بانٹے جاتے تھے تو پھر یہی انجام ہو گا جس سے ہماری کرکٹ دوچار ہے۔ اس پر کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہیے۔