انقرہ ( ویب ڈیسک) ابراہیم سیدیف کا تعلق ترکی سے ہے ۔ وہ ترکی کے بحیرہ اسود کے علاقے کے ایک تجربہ کار مگس بان ہیں۔کچھ عرصے سے وہ ایک شہد چرانے والے ریچھ سے کافی پریشان تھے تاہم انہوں نے اس چور ریچھ کو باقاعدہ شہد چکھنے والے ریچھ کا درجہ دے دیا ہے ۔ ایگریکلچر انجینئر اور مگس بان ابراہیم سیدیف چار مہینوں سے شہد چرانے والے ایک ریچھ سے نپٹنے کی کوشش کر رہے تھے تاہم یہ ریچھ کسی بھی طریقے سے اُن کے قابو نہیں آیا۔انہوں نے شہد کے چھتوں کو سٹیل کے پنجروں میں بند کیا تو ریچھ نے پنجرہ توڑ کر شہد حاصل کر لیا۔ ابراہیم نے چھتوں کے نیچے سیمنٹ کی بنیاد بنائی تو ریچھ نے یہ بنیاد ہی کھود دی۔ انہوں نے چھتوں کو اونچائی پر رکھا تو ریچھ اونچائی پر ہی چڑھ گیا۔ تنگ آ کر انہوں نے ریچھ کو شہد چرانے روکنا ہی چھوڑ دیا۔ اس ماہ کے شروع میں انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ریچھ کو روکیں گے نہیں بلکہ ریچھ کی شہد کھانے کی صلاحیت کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کریں گے ۔ انہوں نے ترکی کے شہر طرابزون میں واقع اپنے فارم پر شہد چکھنے کا ایک ڈیسک بنا دیا۔ ابراہیم اس ڈیسک پر مختلف اقسام کے شہد رکھ دیتے ہیں۔ڈیسک کے قریب چند اعلیٰ قسم کے نائٹ ورژن کیمرے لگائے گئے ہیں۔ ریچھ رات کو ڈیسک کے پاس آتا ہے اور کیمروں کے سامنے شہد کو چکھتا ہے ۔ابراہیم ریچھ کو کنٹرول کرنے کے لیے چیری کا مربہ بھی پیش کرتے ہیں۔ اس ساری مشق سے ابراہیم کو اپنے شہد کے بارے میں غیر متعصبانہ ریٹنگ مل جاتی ہے ۔