اسلام آباد(سہیل اقبال بھٹی)وفاقی حکومت نے مستقبل قریب میں نیب کی ممکنہ کاروائیوں سے وزرائ،ارکان پارلیمنٹ، بیوروکریسی اور سرکاری افسران کو محفوظ رکھنے کیلئے نیب آرڈیننس میں31اہم ترین ترامیم کا مسودہ تیار کرلیا ہے جس کے تحت عوامی عہدوں پر فائز شخصیات، بیوروکریسی اور سرکاری افسران کے خلاف نیب انکوائری کا سلسلہ مشروط اورچیئرمین نیب کے اختیارات انتہائی محدود کردیئے گئے ہیں۔سرکاری افسران کے خلاف نیب انکوائری 6رکنی سکروٹنی کمیٹی کی منظوری کے بعد شروع ہوسکے گی۔ نیب کسی بھی عوامی عہدہ رکھنے والی شخصیت یا کوئی بھی فرد جس کے اثاثے انکم ٹیکس ریٹرن،ویلتھ ٹیکس سٹیٹمنٹ،ڈیکلریشن آف ایسٹس میں ظاہر کئے گئے ہوں انکے خلاف کاروائی کا مجازنہیں ہوگا۔ بے نامی اثاثے رکھنے پر بھی نیب کاروائی نہیں کرسکے گا۔ نیب لامحدود عرصے کی بجائے 6ماہ میں انکوائری کرنے کاپابندجبکہ ملزمان کو90روز کی بجائے صرف 14روز کیلئے ریمانڈ پر اپنی تحویل میں رکھ سکے گا۔ نیب پرکسی وزیر،رکن پارلیمنٹ،تاجر یا کسی بھی فرد کے خلاف ریفرنس دائر ہونے سے پہلے بیان جاری کرنے پرپابندی عائد ہوگی۔نیب آرڈیننس میں صدرمملکت کو حاصل اہم ترین اختیارات وفاقی حکومت کو منتقل کردئیے جائیں گے ۔چئیرمین نیب افسران کے خلاف شکایت اور افسران کی کارگردی رپورٹ سہ ماہی بنیادوں پر وفاقی حکومت کوارسال کرنے کاپابندہوگا۔جس عوامی عہدہ رکھنے والی شخصیت نے اپنے نام پر رکھے اثاثے انکم ٹیکس ریٹرن میں ظاہر نہ کئے ہوں اور انکی مالیت50کروڑ روپے سے زائد ہوتو نیب انکوائری کرنے کا مجاز ہوگا۔31نکاتی مجوزہ ترامیم حتمی منظوری کیلئے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کی جائیں گی۔ ترمیمی آرڈیننس میں نئے قانون کا اطلاق پہلے سے جاری کیسز پرنہ ہونے کی شق شامل نہ کی گئی تو کئی سیاسی شخصیات اور بیوروکریٹس کے خلاف جاری انکوائریاں اور ٹرائل کے دائرہ اختیار سے ختم ہوجائیں گے ۔92نیوزکوموصول وزیراعظم کی ہدایت پر خصوصی کمیٹی کی جانب سے تیار کردہ ترامیم کے مسودے کے مطابق سیکشن 18کے پیراگراف(F)میں لفظ ’’مکمل ہو گئے ‘‘کے بعد درج الفاظ نکال کرالفاظ ’’چھ ماہ کے اندر‘‘شامل کیا جائے گا جس کے ذریعے نیب کرپشن کیسز کی انکوائری اور تحقیقات لامحدود عرصے کی بجائے 6ماہ میں مکمل کرنے کاپابند ہوجائے گا۔ سیکشن 18میں نیا پیراگراف(i)شامل کیا جائے گا جس کے تحتاس آرڈیننس کے تحت کسی شکایت کی انکوائری بند ہو جانے کے بعددوبارہ نہیں کی جا سکے گی۔سیکشن 19کے پیراگراف(a)میں الفاظ’’یا دستاویزات‘‘کو لفظ ’’معلومات‘‘کے بعد اور لفظ’’سے ‘‘سے پہلے شامل کیا جائے گا۔سیکشن 19کے پیراگراف(d)کے بعد مندرجہ ذیل شرائط شامل کی جائیں گی۔اس سیکشن کے تحت طلب کی گئی معلومات صرف متعلقہ تحقیقات کیلئے استعمال ہوں گی۔سیکشن 24کے پیراگراف(d)میں لفظ’’مقصد ‘‘کے بعد شامل’’اور انکوائری‘‘کو نکال دیا جائے گا۔الفاظ ’’حد سے زیادہ‘‘اورکورٹ کے درمیان درج الفاظ 90’’دن‘‘ کو’’ 14دن‘‘سے تبدیل کر دیا جائے گا۔ نیب آرڈیننس کا سیکشن 27ختم کردیاجائے گا جس کے تحت چئیرمین نیب اور انکے مجاز کردہ کسی بھی افسر کو وفاقی وصوبائی حکومت، بینکوں،مالی اداروں اور نجی اداروں سے معاونت حاصل کرنے کا اختیار حاصل ہے ۔ سیکشن 31میں پیراگراف(b)کے بعد نیا پیراگراف شامل کیا جائے گا۔سیکشن 31(c)اس سیکشن کے تحت اسکروٹنی کمیٹی کی منطوری کے بغیر کسی بھی سرکاری ملازم کے خلاف کارروائی نہیں کی جا سکے گی۔سیکشن 32کے پیراگراف(a)میں لفظ’’کے درمیان‘‘کے بعد درج لفظ ’’دس‘‘کو ’’تیس‘‘سے تبدیل کر دیا جائے گا جسے کے مطابق نیب یا کوئی بھی مجرم فیصلے کے خلاف اپیل 10 یوم کی بجائے 30یوم میں کرسکے گا۔سیکشن 33Eکے بعد نیا سیکشن شامل کیا جائے گا۔ کسی بھی سرکاری ملازم کے خلاف بطور ملزم یا گواہ انکوائری سکروٹنی کمیٹی کی منطوری کے بغیر شروع نہیں کی جا سکے گی۔سکروٹنی کمیٹی میںچیئرمین نیب کنوینر ہوں گے جبکہ کمیٹی میں سیکرٹری کابینہ،سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ،چیئرمین ایس ای سیپی،چیئرمین ایف بی آر اور وزارت قانون کا نمائندہ جو کہ 21ویں گریڈ کا افسرہو گا شامل ہونگے ۔ متعلقہ ڈویژن کا سیکرٹری یا چیف سیکرٹری کمیٹی کا ممبرمنتخب کیا جا سکے گا۔کمیٹی کیس کی بنیاد پر کسی اور شخص کا انتخاب کر سکتی ہے ۔سیکشن 33Gکے نام سے نیا سیکشن شامل کیا جائے گا جس کے تحتاگر کسی سرکاری ملازم پر اپنے امور کی انجام دہی کے دوران الزام عائد کیا جاتا ہے تو کوئی عدالت اس جرم کا نوٹس نہیں لے سکتی سوائے پچھلی منظوری کے اس شخص کے کیس میں اگر وہ وفاق یا صدر سے متعلق امور دیکھ رہا ہو،اس شخص کے کیس میں اگر وہ صوبے یا صوبے کے گورنر سے متعلق امور دیکھ رہا ہو۔سیکشن 34میں لفظ ’’صدر‘‘کو’’ وفاقی حکومت ‘‘سے تبدیل کیا جائے گاجس کے نتیجے میں نیب رولز وفاقی حکومت کی منظوری سے بنائیں جاسکیں گے ۔سیکشن 36میں الفاظ’’سکروٹنی کمیٹی‘‘کو ’’صوبائی حکومت ‘‘کے بعد اور ’’چیئرمین‘‘سے پہلے شامل کیا جائے گاجس کے تحت سکروٹنی ممبران کو نیب قانون سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ سیکشن36A کے تحت چیئرمین نیب اپنے افسران کے خلاف شکایت کے ازالے کا طریقہ کار وضع اور افسران کی کارگردگی رپورٹ ہر 4ماہ بعد حکومت کو جمع کرانے کے پابند ہوں گے ۔ پراسیکیوٹرجنرل کی تعیناتی صدرمملکت کی بجائے وفاقی حکومت کی مشاورت سے ہوگی۔ پراسیکیوٹرجنرل نیب کی عدم دستیابی یا کام سے معذوری کی صورت میں چیئرمین نیب وفاقی حکومت سے مشاورت کے بعد کسی افسر کو پراسیکیوٹرجنرل کی خدمات کی اجازت دیں گے ۔حکومتی عہدیدار نے 92نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ نیب آرڈیننس میں مجوزہ ترامیم میں مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی سمیت اپوزیشن اور اتحادی جماعتوں کے مطالبات اور تحفظات کو مدنظررکھا گیا ہے ، سیاسی انتقام اور امورمملکت میں بہتری لانے کیلئے مجوزہ ترامیم ناگزیر ہوچکی ہیں بصورت دیگر کوئی بھی جماعت عوامی توقعات کے مطابق خدمات انجام نہیں دے سکے گی۔