اسلام آباد (اظہر جتوئی) پاکستان اور آئی ایم ایف کے مذاکرات مکمل ہوگئے ، عالمی ادارے نے ایمنسٹی سکیم کی مخالفت کرتے ہوئے پروگرام کے حصول کیلئے کڑی شرائط عائد کردیں، وزیر خزانہ آج وزیر اعظم کو مذاکرات کی تفصیلات سے آگاہ کرینگے اور کل کابینہ کے اجلاس میں ایمنسٹی سکیم منظوریکیلئے پیش کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ بھی کیا جائیگا ۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے سٹیل ملز سمیت خسارے میں چلنے والے 193 اداروں کی نجکاری اور اصلاحات کا عمل تیز کیا جائے تاکہ ان پر آنے والے اخراجات کو بچایا جا سکے ۔ آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا کہ کالے دھن کو سفید کرنے والی ایمنسٹی سکیم بھی جاری نہ کی جائے ، ٹیکس اصلاحات کی جائیں اور اس کا دائرہ کار بڑھایا جائے ،بجٹ خسارہ کم کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں، حکومت نیپرا اور اوگرا کے فیصلوں میں مداخلت نہ کرے تاکہ بجلی وگیس کے نقصانات کم اور ریکوریاں مکمل ہو سکیں، ڈالر کی قدرمتعین کرنے میں سٹیٹ بینک کو خود مختاری دی جائے ،تنخواہ دار طبقہ کی ٹیکس چھوٹ اور مختلف شعبوں میں سبسڈی ختم کی جائے ، سی پیک سمیت چین سے قرض کی تفصیلات اور قرضوں کی ادائیگی کی فہرست دی جائے ۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ آئی ایم ایف مشن آئندہ ہفتے پاکستان کا دورہ کرے گااورپاکستانی حکام سے مذاکرات کرے گا۔وزیر خزانہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کے بعد لوٹ آئے اور آج وزیر اعظم کو تفصیلات سے آگاہ کریں گے ۔