بیجنگ(نیٹ نیوز) کچھ عرصے پہلے جب چینی شہر ووہان میں کورونا وائرس کی وبا پھیلی تو وہاں اور دیگر چینی علاقوں میں مقیم پاکستانی طالب علموں نے وطن واپسی کی بھرپور مہم لائی تاہم ووہان میں لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد اب ان کی رائے بدل گئی ہے ۔لیہ سے تعلق رکھنے والے طالب علم ندیم بھٹی، جو ہوزونگ یونیوسٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں سول انجنیئرنگ پڑھ رہے ہیں،نے بات کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں ہم لوگ جذبات کی رو میں بہہ گئے تھے لیکن اب ہمیں لگتا ہے کہ ہمارا وہاں رکنے کا فیصلہ صحیح تھا کیونکہ پاکستان میں تو ٹیسٹنگ کٹس بھی مناسب تعداد میں نہیں ہیں،ڈاکٹروں کے پاس پی پی ای بھی وافر مقدار میں موجود نہیں جبکہ حکومت سماجی فاصلے سے متعلق ضوابط کو بھی سختی سے نافذ نہیں کر پا رہی۔طالبہ حنا فاطمہ نے کہا ہے کہ جب چین میں وبا پھیلی تو پاکستان کا رخ کیا اور اب لاہور میں اپنے گھر میں لاک ڈاؤن میں وقت گزار رہی ہوں،میرا خیال ہے کہ چین میں معاملات ہم سے بہت بہتر تھے ، یہاں تو سننے میں آ رہا ہے کہ جس کو یہ مرض لگ جائے ، اس کو گھسیٹ کر لے جاتے ہیں، ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت بہت کم ہے ۔گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے طالب علم امجد حسین، جوووہان کی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں، نے کہا اپنے دوستوں کو اس وقت بہت سمجھایا کہ وہ پاکستان جانے کا مطالبہ نہ کریں لیکن وہ اتنے جذباتی ہورہے تھے کہ کچھ سننے کے لئے تیار نہ تھے لیکن مجھے امید ہے کہ وہ اب خوش ہوں گے کہ انہوں نے بحران کا وقت یہاں گزارا کیونکہ پاکستان میں کورونا کے حوالے سے سہولیات کا فقدان ہے ۔ہوزونگ یونیوسٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں کیمسٹری کے طالب علم شاہد جدون نے کہا ہم نے قرنطینہ میں 70 دن سے زائد گزار لئے ہیں، پاکستان جا کر ہمیں دوبارہ سے بند ہونا پڑے گا اور پھر وہاں سہولیات کا بھی فقدان ہے ، اب ہم ووہان میں ہی رکنا چاہیں گے ۔