بیجنگ(نیٹ نیوز) کورونا وائرس کے عالمی معیشت پر منفی اثرات کے بعددنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت کے حامل ملک چین نے کئی دہائیوں بعدرواں سال غیر متوقع طور پر معاشی ترقی کی شرح کا ہدف طے نہیں کیا تاہم سالانہ دفاعی بجٹ میں6.6 فیصد اضافہ کرتے ہوئے کیلئے 178 ارب ڈالر مختص کئے ہیں، امریکہ کے بعد چین کا دوسرے نمبر پر سب سے بڑا دفاعی بجٹ ہے ۔خبر رساں ادارے کے مطابق چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ نے قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وبا کی وجہ سے مستقبل میں غیر یقینی صورتحال کا خدشہ ہے ،شدید معاشی مشکلات پیش آسکتی ہیں،معاشی ترقی کے بجائے روزگار اور بہتر معیار زندگی کی فراہمی پر توجہ دی جائیگی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں چین کے مالیاتی خسارے میں 140 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے ۔ لی کی چیانگ نے کہا کہ تمام سرکاری اداروں کو اضافی خرچے کم کر کے فنڈز کا بہتر استعمال کرنا ہوگا۔چینی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین میں بننے والی اشیا کی غیر ملکی مانگ میں کمی کے بعد ملکی سطح پر ان اشیا کے فروغ کیلئے کام کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ایک ٹریلین یوآن کی مالیت کے حکومتی بانڈ کورونا پر قابو پانے کیلئے مختص کئے گئے ہیں، جبکہ 2 ٹریلین یوآن مقامی حکومتوں میں تقسیم کیے جائیں گے تاکہ روزگار کے مواقع اور بنیادی سہولیات زندگی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے ۔دنیا کی دوسری بڑی معیشت والے ملک چین کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بیروزگاری کی شرح میں 6 فیصداضافہ ہوا ہے ۔چین کی قومی منصوبہ بندی اور اصلاحاتی کمیشن نے صحت کے نظام میں خامیاں دور کرنے کا بھی اعلان کیا ہے ۔