BN

کالم



آج کے کالم 


  


کالم آرکیو



جنریشن گیپ !

هفته 19 جنوری 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
آپ نے "جنریشن گیپ" کا لفظ تو سن رکھا ہوگا۔ جب اس لفظ کا استعمال ہوتا ہے تو ساتھ ہی "نئی نسل" کا لفظ بھی سننے کو ملتا ہے۔ ایک بچہ پیدا ہوتا ہے اور وہ بیس برس کی عمر کو پہنچتا ہے تو یہ اکائی نئی نسل کے طور پر اپنی فملی میں باقاعدہ درج ہو جاتی ہے۔ پھر خاندان میں یہ گروپ خاندان کی نئی نسل ہوتا ہے اور اسی طرح یہ قبیلے، صوبے اور قومی سطح پر نئی نسل قرار پاتا ہے۔ چونکہ بڑی سطح پر دو الگ نسلوں کو گننا ممکن نہیں ہوتا چنانچہ اس سطح
مزید پڑھیے


پھولوں سے محبت کرنے والا

هفته 19 جنوری 2019ء
سعد الله شاہ
مجھے یاد ہے جب نظم کے طرحدار شاعر اختر حسین جعفری دنیا سے رخصت ہوئے تو کچھ اسی طرح کا یخ بستہ موسم تھا اور ہمارے کالم نگاروں نے ان کے لیے انہی کا کینٹو کوٹ کیا ہے۔ انہوں نے ایذرا پائونڈ کی وفات پر لکھا تھا: تجھ کو کس پھول کا کفن ہم دیں تو جدا ایسے موسموں میں ہوا جب درختوں کے ہاتھ خالی ہیں پھولوں کے کفن سے میرا دھیان میرے بزرگ دوست ملک محمد حنیف کی طرف گیا کہ وہ میرے پڑوس میں رہتے ہیں جن کا جنازہ رات عشاء کے بعد امیر جماعت اسلامی سراج الحق صاحب نے خدیجۃ
مزید پڑھیے


ملک مظہر عباس راں کی وفات

هفته 19 جنوری 2019ء
ظہور دھریجہ
پاکستان تحریک انصاف کے رکن پنجاب اسمبلی ملک مظہر عباس راں دو روز قبل لاہور میں انتقال کر گئے۔ ملک مظہر عباس منگل کے تین روز اسمبلی اجلاس کے دوران ہی اچانک طبیعت خراب ہونے پر ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کا بلڈپریشر بڑھ گیاتھا اور ان کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی ہے ۔ ملک صاحب کی وفات پر پورے وسیب میں تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے، وہ باصلاحیت سیاستدان اور نہایت ہی اچھے پارلیمنٹرین تھے، میں اُن کی ایک تقریر شیئر کرنا چاہتا ہوں، دو ماہ قبل ملتان کے
مزید پڑھیے


بات کرنی ہوگی

هفته 19 جنوری 2019ء
قدسیہ ممتاز
جسٹس ثاقب نثار اب سابق چیف جسٹس ہوچکے۔ ان کا دور منصفی کئی اعتبار سے ہنگامہ پرور رہا۔اس دوران ایک وزیر اعظم اپنے ہی دور حکومت میںسابق اور نااہل و سزایافتہ ہوئے۔ ایک سابق صدر اور ان کے رفقا کے خلاف جے آئی ٹی بنی۔ابھی اس کا ہنگام اپنے عروج پہ ہی تھا کہ وقت رخصت آن پہنچا۔اب ان مقدمات کا فیصلہ نئے چیف جسٹس محترم آصف کھوسہ کی سربراہی میں ہوگا۔جسٹس افتخار چوہدری نے کئی تحفظات کے باوجود سو موٹو کے حوالے سے جس عدالتی فعالیت کا آغاز کیا تھا، دیکھا جائے تو جسٹس ثاقب نثار اسی کا تسلسل
مزید پڑھیے


آستینوں میں چھپے ہیں قزاق

هفته 19 جنوری 2019ء
جسٹس نذیر غازی
کسی دور میں غریبوں کے آنسو پونچھنے کے لیے اہل قلم اپنا حق ادا کرتے تھے، اپنی نظموں سے، اپنی غزلوں سے، نثرپاروں میں غم دوراں کے ماتم میں وہ شریک ہوتے، بے چارگان کے لیے، بے نوائوں کی نوا شاعر خستہ دل ہوا کرتے تھے۔ لہو میں ڈوبی انگلیاں ظلم کی داستان خونچکاں رقم کرتی تھیں۔ تب بھی قصیدہ خوان دربار، فرعون صفت بادشاہ کوسایہ خدا ثابت کرنے کے لیے مبالغہ کلام کو شرمندہ کرتے تھے اور دنیائے بے وقعت کو قلب کی ترازو میں سجاتے تھے۔ نگری میں اندھیرا بڑھتا جارہا ہے۔ راجہ نجانے کہاں کہاں چوپٹ ہوئے خود اندھے
مزید پڑھیے


نرگسیت کے گھونسلے سے اتر کر زمین پر آ جائیے

هفته 19 جنوری 2019ء
آصف محمود
کیا ہر وہ آدمی بد دیانت، خائن اور چور ہے جو حکومت کا ناقد ہے ؟ صبح دم ا ٹھتے ہی جس جس کا اس با برکت عہد میں بٹتی فیوض و برکات پر اظہار تشکر میں’ نچنے نوں دل نہ کردا ‘ ہو کیا اسے پٹواری کہا جائے گا؟کیا صرف چودھریوں کی ق لیگ اور کراچی کی ایم کیو ایم وہ جماعتیں ہیں جو خالص اللہ کی رضا کے لیے حکومت کی اتحادی بنی ہیں اور ان کے علاوہ ہر وہ جماعت جو اپوزیشن کی صف میں ہے اصل میں خائنوں اور لٹیروں کا ایک ٹولا ہے؟ اور
مزید پڑھیے


کمال کی باتیں

هفته 19 جنوری 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
’’فیض صاحب سے پہلی بار ملنے کا شرف اس وقت حاصل ہوا جب وہ روزنامہ پاکستان ٹائمز اور امروز کے مدیر ہوتے تھے۔ بڑے لوگوں سے ملنے کا خبط، چھوٹے لوگوں کے دلوں میں پنہاں ہوتا ہے اور فیض صاحب تو پاکستان بھر کے سب سے بڑے شاعر اور آدمی تھے۔ ان سے ملنے کا خبط کیوں نہ رنگ لاتا۔ جب میں پاکستان ٹائمز کے دفتر میں داخل ہوا تو پہلی منزل پر ایک کمرے کے باہر فیض صاحب کے نام کی تختی دیکھی اور دل تیزی سے دھڑکنا شروع ہو گیا۔ پتہ نہیں ان سے ملنے سے زیادہ دیکھنے
مزید پڑھیے


کیا ہمارے ہیرو صرف وہی ہیں جو……

هفته 19 جنوری 2019ء
محمد اظہارالحق
کچھ دیر کے لیے وزیر اعظم کو چھوڑ کر دیکھیے۔ زرداری صاحب اور میاں صاحب کو بھی اپنے مسائل سے خود نمٹنے دیجیے، کچھ وقت ہمیں اپنے لیے بھی نکالنا چاہیے۔ہم کون ہیں؟کوئی ہمارا آگا پیچھا بھی ہے یا نہیں؟کیا ہمارے ہیرو صرف وہی ہیں جو کرکٹ کھیلتے ہیں اور فلموں میں کندھے اچکا کر رٹے رٹائے ڈائیلاگ بولتے ہیں، ایک صاحبزادے سے جنہوں نے او یا اے لیول میں بہت سے اے(A)لیے تھے، پوچھا غالب کا کوئی شعر سنائیے۔ بھلا ہو گلزار کا کہ غالب کی زندگی پر ڈرامہ لکھا اور فلمایا۔ کچھ غزلیں اس میں گائی گئیں۔ ان
مزید پڑھیے


سکول فیسوں میں اضافہ: حکومت مانیٹرنگ پالیسی بنائے

هفته 19 جنوری 2019ء
اداریہ
سپریم کورٹ نے پانچ ہزار سے زائد فیس وصول کرنے والے نجی سکولوں کی فیسوں میں 20 فیصد کمی کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے۔ آئین تمام شہریوں کو تعلیم، روزگار اور صحت کے یکساں مواقع فراہم کرنے کی ضمانت فراہم کرتا ہے مگر بدقسمتی سے گزشتہ سات دہائیوں سے حکومتیں تمام بچوں کو معیاری تعلیم کے یکساں مواقع تو کیا فراہم کرتیں، نجی تعلیمی اداروں کی مانیٹرنگ کا موثر نظام مرتب کرنے میں بھی ناکام ہیں جس کی وجہ سے نجی تعلیمی ادارے بے مہار ہو چکے ہیں۔ حکومتی گرفت نہ ہونے کا سب سے بڑا
مزید پڑھیے


پاکستانی آلو پر 25 فیصد ڈیوٹی: حکومت افغان حکام سے بات کرے

هفته 19 جنوری 2019ء
اداریہ
وزارت خوراک غذائی تحفظ اور زرعی تحقیق نے افغان حکومت کی جانب سے پاکستانی آلو پر 25 فیصد ڈیوٹی عائد کرنے کے فیصلے کے بعد صورتحال پر غوروفکر کے لیے اگلے ہفتے بین الصوبائی اجلاس طلب کیا ہے۔ پاکستان میں آلو کی سالانہ ضرورت 3.75 ملین ٹن اور پیداوار 4.2 ملین ٹن ہے۔ہر سال یہ معمول بن چکا ہے کہ جب نئی فصل آتی ہے تو آلو کے نرخ اس حد تک گر جاتے ہیں کہ کاشتکاروں کو اپنی فصل کھیتوں میں ضائع کرنا پڑتی ہے۔ پاکستان اپنی زرعی اجناس نہ صرف ہمسایہ ممالک افغانستان، ایران بلکہ وسط ایشیائی ممالک
مزید پڑھیے


میثاق حکمرانی کی تجویز

هفته 19 جنوری 2019ء
اداریہ
نئے چیف جسٹس جناب آصف سعید خان کھوسہ نے منصب سنبھالنے سے قبل ریاستی اداروں کے درمیان بد اعتمادی ختم کرنے، آئین و قانون کی حکمرانی قائم کرنے اور جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیے صدر مملکت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ میثاق حکمرانی کے لیے تمام اداروں کے ذمہ داروں کا اجلاس بلائیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نئے چیف جسٹس آف سپریم کورٹ آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ پارلیمانی عدالتی،انتظامی اور فوجی قیادت ریاستی امور چلانے کے لیے عملی پالیسی کا فریم ورک بنائیں۔ آئین
مزید پڑھیے


جسٹس ثاقب نثار۔۔۔جوڈیشل ایکٹوازم

هفته 19 جنوری 2019ء
عا رف نظا می
جسٹس میاں ثاقب نثار 17 جنوری جمعرات کو ریٹائر ہو گئے اور جسٹس آصف سعید خان کھوسہ چیف جسٹس آف پاکستان کا منصب سنبھال چکے ہیں۔ جسٹس ثاقب نثار نے جو دوسال 18 دن چیف جسٹس آف پاکستان کے منصب پر فائز رہے اپنے مخصوص انداز میں انصاف کیا، انھوں نے سوموٹو نوٹس کا خوب اور بھرپور استعمال کیا۔ سیاست، معیشت کے علاوہ بنیادی حقوق، صحت، تعلیم، ڈیموں، صاف پانی کی فراہمی، خاندانی منصوبہ بندی، مالی بے ضابطگیوں، منی لانڈرنگ، تھر میں بچوں کی اموات، خزانے کی لوٹ مار کے خلاف مقدمات کی سماعت کی۔ اسی بنا پر جہاں بہت
مزید پڑھیے


جی آیاں نُوں! چیف جسٹس صاحب!

هفته 19 جنوری 2019ء
اثر چوہان

معزز قارئین!۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار ،تقریباً2 سال اور ایک ماہ تک ( 31 دسمبر 2016 ء تا 17 جنوری 2019ء ) چیف جسٹس آف پاکستان رہے اور 18 جنوری کو با عزّت "Retired" (سبکدوش ) بھی ہوگئے لیکن میرے خیال میں وہ ابھی تک "Tired" ( تھکے ہارے ) نہیں ہیں۔ میاں ثاقب نثار صاحب نے پاکستان کے عوام کے بنیادی حقوق کے لئے ایسے ایسے کام کئے جو حکمرانوں کے فرائض میں شامل ہوتے ہیں ، جس کی وجہ سے اُنہیں "A Living Legend" کہا جاسکتا ہے ۔ چیف جسٹس کی حیثیت سے میاں ثاقب نثار کے
مزید پڑھیے


بھارتی قبضہ سے قبل کا جموں و کشمیر

جمعه 18 جنوری 2019ء
عبدالرفع رسول
بھارتی جبری قبضے سے قبل کا جموں شہر گمٹ کے دروازے سے پنج تیرتھی تک ڈھلوان پر آباد تھا جس میں اگر چہ ہندوئوں کی اکثریت غالب تھی لیکن مسلمانوں کی بڑی آبادی بھی وہاں رہتی تھی۔ جموںشہر میں مسلمانوں کی چھوٹی بڑی 25مساجد تھیں۔ اس دور میں تعلیمی اور اقتصادی طور پر بھی مسلمانوں کی حالت جموی ہندئووں کے مقابلے میں کافی بہتر تھی ،اگر چہ سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہی روا رکھا جاتا تھا تاہم اپنی ذاتی کوششوں اور تگ و دو کے باعث اکثر جموی مسلمان خوش حال اور کھاتے پیتے تھے۔ لاہورکی
مزید پڑھیے


تشکیک اور حقیقت

جمعه 18 جنوری 2019ء
سعد الله شاہ
پہلے ایک شعر: تھوڑی سی وضعداری تو اس دل کے واسطے تونے تو اس میں وہم بھی پلنے نہیں دیا اپوزیشن کے اتحاد سے مجھے اردو ادب کی کانفرنس کا وہ سیشن یاد آیا جس میں ثمینہ راجا‘ فاطمہ حسن اور میں خاص طور پر ضیا محی الدین کو سننے کے لئے گئے۔ ادیبوں اور شاعروں سے بھرے ہوئے اس ہال میں ساری نظریں اس بے مثل پرزنٹر پر تھیں اور سب ہمہ تن گوش تھے۔ ضیا محی الدین نے ابن انشا کی تحریر پڑھی جس میں بتایا گیا تھا کہ ایک عمر رسیدہ باپ نے اپنے تین بچوں کو بلایا جو
مزید پڑھیے






کالم نگار

اداریہ
اداریہ





سجاد میر
شہر آشوب




مستنصر حسین تارڑ
ہزار داستان

مجاہد بریلوی
شہر ناپرساں


مبشر لقمان
کھرا سچ

عبداللہ طارق سہیل
وغیرہ وغیرہ


نو شی گیلا نی
کا لم کہا نی

بشریٰ رحمان
چادر چاردیواری اور چاندنی


افتخار گیلانی
مکتوب دہلی

خاور نعیم ہاشمی
پردہ اٹھتا ہے


رضا رومی
رومی نامہ

انجم نیاز
یادداشت از امریکا





خاور گھمن
گھمن گھیریاں

سعید خا ور
حر ف درما ں

راوٗ خالد
رولا رپہ



ایچ اقبال
ایچ اقبال

اشرف شریف
شہر نامہ


قدسیہ ممتاز
حرف تازہ



سعود عثمانی
دل سے دل تک

اثر چوہان
سیاست نامہ

عامر متین
عامر متین

ارشاد محمود
بات یہ ہے


راحیل اظہر
غبارِخاطر

عبدالرفع رسول
مکتوب سری نگر

خالد ایچ لودھی
دل کی باتیں

رعایت اللہ فاروقی
گفتار و پندار

یوسف سراج
نقش قدم

عمر قاضی
لالہ صحرائ

محمد عامر رانا
اقلیم در اقلیم

احمد اعجاز
کہانی کی کہانی


رحمت علی رازی
درون پردہ


وسی بابا
باتاں