BN

کالم

آج کے کالم 


  


کالم آرکیو

کیوں نہ ۔ ’’شُہدائے کربلا ؑ ڈیم ‘‘ بنایا جائے؟

منگل 18  ستمبر 2018ء
اثر چوہان
معزز قارئین!۔ میاں ثاقب نثار پاکستان کے پہلے چیف جسٹس ہیں اور عمران خان پہلے وزیراعظم جو ملک میں پانی کی قلت دُور کرنے اور ’’ دِیا میر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم‘‘ بنانے کے لئے عملی طور پر جدوجہد کر رہے ہیں ۔ 5 محرم اُلحرام (16 ستمبر ) کو کراچی میں وزیراعظم عمران نے ڈیم بنانے کے لئے کراچی سے ایک ارب روپے جمع ہوگئے ہیں اور اگر اِسی طرح "Funds" ملتے رہے تو ہم 5 سال میں ڈیم بنا لیں گے!‘‘۔ قبل ازیں 4 محرم اُلحرام ( 15 ستمبر ) کو لاہور میں چیف جسٹس صاحب
مزید پڑھیے


سنسنی خیز اور تحیر انگیز سلسلہ وار کہانی تاریک دریچے (قسط 101)

منگل 18  ستمبر 2018ء
ایچ اقبال
بانو کی اس بات پر مجھے یوں لگا جیسے میرے سر پر بم پھٹ گیا ہو۔ ’’کیا؟‘‘ میں تقریباً اچھل پڑی تھی۔ ’’ہاں‘‘ بانو پرسکون نظر آئیں۔ ’’وہ لوگ جانتے تھے کہ ہم نے ہر راستہ بلاک کردیا ہوگا۔ ان کے خود کش بم بار پگارا صاحب کے گھر تک نہیں پہنچ سکیں گے لہٰذا انھوں نے فضاسے حملے کا پروگرام بنایا۔‘‘ ’’تو اب کیا ہوگا؟‘‘ میں پریشان ہوگئی۔ ’’دیکھو کیا ہوتا ہے؟‘‘ ’’یعنی… یعنی کہ… میں ہکلا سی گئی اور پھر جلدی سے بولی۔ ’’وہ پگارا صاحب کے گھر تک پہنچنے ہی والا ہے۔اوہ! خاصابڑا ہیلی کوپٹر ہے۔‘‘ ’’ہوں‘‘ بانو پرسکون رہیں۔’’کیا تم ہیلی کوپٹر
مزید پڑھیے


اپنے دکھ مجھے دے دو

منگل 18  ستمبر 2018ء
سعد الله شاہ
ایک دوست نے دوسرے دوست کو ایک تصویر دکھائی جس میں ایک شخص ایک شیر کی گردن پر پائوں رکھے ہوئے ہے اور ہاتھ میں اس کے بندوق ہے۔ شیر زندہ ہے مگر ایک طرف سر کو لٹھائے ہوئے بے بسی کا نمونہ نظر آ رہا ہے۔ دوست نے اپنے دوست سے کہا کہ دیکھو …شیر کی عاجزی اور بے بسی اور شکاری کی بہادری کہ شیر کو کیسے نڈھال کر دیا ہے۔ دوسرے دوست نے کہا’’کاش یہ تصویر شیر نے بنائی ہوتی‘‘ میرا خیال ہے کہ اس جواب سے سب کچھ سمجھ میں آ جاتا ہے۔ ایک سوال شاید
مزید پڑھیے


خونی و بادی انقلاب

منگل 18  ستمبر 2018ء
قدسیہ ممتاز
وہ پاکستانی ہی کیا جس کا اپنی پوری زندگی میںکم سے کم ایک مارشل لا، الیکشن، دھاندلی،ہڑتال، سرکاری ریکارڈ کی آتش زدگی ، کالا باغ ڈیم پہ احتجاج اور وی آئی پی موومنٹ سے پالا نہ پڑا ہو جسے عرف عام میں روٹ لگنا کہتے ہیں ۔چناچہ آپ نے گھنٹوں روکے گئے ٹریفک میں بیزار کن انتظار کے دوران دور تک سنسان سڑک دیکھی ہوگی۔ پھر نیلی بتی والی موٹرسائیکلوں اور سائرن لگی گاڑیوں کی ایک ڈار نمودار ہوتی تو کچھ امید بندھتی کہ اب جس منحوس نے گزرنا ہے وہ گزر ہی جائے گا۔اس کے بعد چمکتی لشلشاتی
مزید پڑھیے


کلثوم نواز کی موت اور سیاسی فائدہ

منگل 18  ستمبر 2018ء
اشرف شریف
بیگم کلثوم نواز کی وفات پر پاکستانی عوام نے افسوس کا اظہار کرنے میں بخل اور سیاسی تعصب کا اظہار نہیں کیا۔ بڑی وجہ یہ تھی کہ سیاست میں ہر شخص متنازع ہو جاتا ہے لیکن بیگم کلثوم نواز نے خود کو ایسے سیاسی علاقے میں داخل نہیں ہونے دیا جہاں ان کے متعلق منفی سوچ پیدا ہوتی۔ انہیں دو بار بات کرنے کا موقع ملا۔ پہلی بار جب لاہور میں ان کی گاڑی کو کرین سے کھینچا گیا اور انہوں نے اپنے شوہر کی رہائی کے لیے جدوجہد کا اعلان کیا۔ دوسری بار کسی نے ان سے پوچھا آپ
مزید پڑھیے


بھارت:پڑوسی ممالک کیلئے عطیہ یا عفریت

منگل 18  ستمبر 2018ء
افتخار گیلانی
نومبر 2014 ء کو کھٹمنڈو میں سارک سربراہ کانفرنس اور بعد میں بنگلہ دیش کے دورہ کے موقع پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ ان کے انتخابی نعرے’’سب کا ساتھ ، سب کا وکاس(ترقی)‘‘ کا اطلاق پڑوسی ممالک پر بھی ہوتا ہے۔ یعنی بھارت کی ترقی و خوشحالی میں وہ پورے جنوبی ایشیا ء کو شامل کروانا چاہتے ہیں۔ مگر پچھلے ساڑھے چار سالوں کی بھارت کی خارجہ اور سکیورٹی پالیسی نیز حقائق و واقعات کا تجزیہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ایک حساس پڑوسی کے برعکس بھارت نے اس خطے میں اپنے آپ کو
مزید پڑھیے


مجھ سے میرا حسینؓہے…میں ہوں حسینؓ سے

منگل 18  ستمبر 2018ء
جسٹس نذیر غازی
درد‘ دیوانگی ‘ کم علمی‘ جہالت‘ ان چار عناصر میں کیسے فرق کریں کہ خبر ہو جائے کہ مریض ہے یا ہٹ دھرم‘ خیر ہٹ دھرمی بھی تو ایک مرض بذذوقی کا دوسرا نام ہے۔ ایک کہاوت ادب میں معاشرت کو سنوارتی اور بیدار کرتی آئی ہے کہ راج ہٹ‘ بال ہٹ اور تریاہٹ بری ہوتی ہیں کہ اگرراجہ کو ضد ہو جائے تو وہ بستیاں اجاڑنے کو دل کا چین سمجھتا ہے اور اگر بچے ضد پر اتر آئے تو ایڑیاں رگڑ رگڑ کر میا بابا کو جھکا لیتا ہے پھر عورت اپنی ضد کو پالے تو پورا گھر کا
مزید پڑھیے


اخبار اور اشتہار

منگل 18  ستمبر 2018ء
عبداللہ طارق سہیل
ایک حکومتی وزیر نے خوشخبری سنائی ہے کہ وہ اخبارات کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ خدا کرے ایسا ہی ہو لیکن آثار تو ایسے نظر نہیں آتے۔ نئی حکومت نے سرکاری اشتہارات کم کردیئے ہیں اور باوثوق افواہوں کے مطابق آئندہ انہی اخبارات کو اشتہارات ملیں گے جو سٹیٹس کو کے حامی ہوں گے۔ حالانکہ سٹیٹس کو، ماشاء اللہ سے اتنا مضبوط ہے کہ سیسہ پلائی دیوار بن چکا ہے۔ اگر کوئی ناعاقبت اندیش اخبار اس کی مرضی پر نہیں چلتا یا اختلاف رائے رکھتا ہوتو بھی کیا نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اخبارات کے لیے سرکاری اشتہار بھی ریڑھ کی
مزید پڑھیے


کیا عوامی چندے سے ڈیم بن پائے گا؟

منگل 18  ستمبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
عوامی چندے سے نہ صرف ڈیم بنے گا بلکہ قوم بھی بیدار ہو گی۔ سچ تو یہ ہے کہ قوم نہ صرف بیدار ہو چکی ہے بلکہ کمر بستہ بھی ہو گئی ہے۔ ذرا ربّ ذوالجلال کی طرف سے ملنے والی نوید بھی سن لیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے’’جب تم نے عزم کر لیا تو پھر اللہ پر بھروسا کرو‘‘ عزم صمیم کو دنیا کی کوئی قوت شکست نہیں دے سکتی۔ کچھ لوگ ڈیم فنڈ میں آنے والے چند ارب روپوں کو ڈیم کی کئی ارب ڈالر لاگت کے مقابلے میں مونگ پھلی کے چند دانے قرار دے رہے ہیں۔ بلا
مزید پڑھیے


ایک دن اس کا جہاز آ جائے گا

منگل 18  ستمبر 2018ء
محمد اظہارالحق
شہروں میں شہر ہے اور بہشتوں میں بہشت! افسوس! شاہ عباس صفوی کو اس شہر کا پتہ نہ تھا ورنہ تبریز کو چھوڑا تو اصفہان کے بجائے یہاں کا رخ کرتا۔ تیمور اسے دیکھتا تو سمرقند کا درجہ دیتا۔ بابر کا گزر ہوتا تو کابل کو یاد کرکے آنسو نہ بہاتا۔ شاہ جہان اسی کو آگرہ بنا لیتا۔ بادشاہ نے بخارا سے دور پڑائو ڈالا۔ واپسی کا نام نہیں لے رہا تھا۔ رودکی نے بخارا کو یاد کرایا تو چل پڑا ؎ بوئی جوئی مولیاں آید ہمی یاد یار مہرباں آید ہمی میر مہ است و بخارا آسماں ماہ سوئی آسماں
مزید پڑھیے


ریل سفر کو محفوظ بنانے کی ضرورت

منگل 18  ستمبر 2018ء
اداریہ
مسان اور سوہان ریلوے سٹیشن کے درمیان خوشحال خان ایکسپریس کا انجمن اور 7 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں،جس سے 20 مسافر زخمی ہو گئے۔ مسافر ریلوے پر سستا، محفوظ اور بروقت منزل پر پہنچنے کے لیے سفر کرتے ہیں لیکن ریلوے کا سفر سستا ہونے کے ساتھ غیر محفوظ ہوتا جارہا ہے۔ گزشتہ پانچ سال میں ٹرینوں کے 520 حادثات جبکہ 14 بڑے سانحات ہوئے ہیں، اس کے باوجود محکمہ ریلوے ٹرین کے سفر کو محفوظ بنانے میں ناکام ہے۔ ریلوے کا نظام قدیم ضرور ہے لیکن فرسودہ نہیں، اس وقت بھی 85 فیصد حادثات پھاٹک یا پھر
مزید پڑھیے


قبائلی علاقوں میں تدریسی سرگرمیوں کی بحالی

منگل 18  ستمبر 2018ء
اداریہ
قبائلی علاقوں میں قائم تین کالجوں سمیت 600سے زائد تعلیمی اداروں میں تدریسی سرگرمیاں گزشتہ دس برس سے معطل ہیں۔ جنوبی وزیرستان کے علاقے اورکزئی اور محسود میں صورتحال زیادہ گھمبیر ہے جہاں سینکڑوں سرکاری سکول اور کالجوں میں تالے لگے ہوئے ہیں۔ ان علاقوں میں لڑکیوں کے 190سکول غیر فعال ہیں۔ تعلیمی اداروں کے غیر فعال ہونے کی وجہ سے ہزاروں اساتذہ جنوبی وزیرستان سے کراچی منتقل ہو گئے یا پھر حصول روزگار کے لیے خلیجی ممالک چلے گئے ہیں‘ بلا شبہ امن و امان کے قیام کے دوران پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مجموعی طور پر قریباً6ہزار سے
مزید پڑھیے


ٹیکس اصلاحات کا فیصلہ

منگل 18  ستمبر 2018ء
اداریہ
اطلاعات ہیں کہ وفاقی حکومت نے ٹیکس اصلاحات کے لیے لائحہ عمل تیار کر لیا ہے۔ اصلاحاتی لائحہ عمل کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ختم کر کے اس کی جگہ نیشنل ٹیکس اتھارٹی قائم کی جائے گی۔ اصلاحاتی عمل میں ٹیکسز کو سادہ اور شفاف بنانے کے لیے بعض تبدیلیوں کو بروئے کار لایا جائے گا۔ کارپوریٹ ٹیکس 20فیصد اور سیلز ٹیکس میں کمی کر کے اسے 8فیصد کیا جائے گا۔ کمپنیوں کے علاوہ آمدن کے تمام ذرائع پر 10فیصد فلیٹ ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ اسی طرح ہر قسم کی آئٹمز پر دو فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد
مزید پڑھیے


سنسنی خیز اور تحیر انگیز سلسلہ وار کہانی تاریک دریچے (قسط 100)

پیر 17  ستمبر 2018ء
ایچ اقبال
بانو کی اس بات پر مجھے یوں لگا جیسے میرے سر پر بم پھٹ گیا ہو۔ ’’کیا؟‘‘ میں تقریباً اچھل پڑی تھی۔ ’’ہاں‘‘ بانو پرسکون نظر آئیں۔ ’’وہ لوگ جانتے تھے کہ ہم نے ہر راستہ بلاک کردیا ہوگا۔ ان کے خود کش بم بار پگارا صاحب کے گھر تک نہیں پہنچ سکیں گے لہٰذا انھوں نے فضاسے حملے کا پروگرام بنایا۔‘‘ ’’تو اب کیا ہوگا؟‘‘ میں پریشان ہوگئی۔ ’’دیکھو کیا ہوتا ہے؟‘‘ ’’یعنی… یعنی کہ… میں ہکلا سی گئی اور پھر جلدی سے بولی۔ ’’وہ پگارا صاحب کے گھر تک پہنچنے ہی والا ہے۔اوہ! خاصابڑا ہیلی کوپٹر ہے۔‘‘ ’’ہوں‘‘ بانو پرسکون رہیں۔’’کیا تم ہیلی کوپٹر
مزید پڑھیے


بھارت خطے میں فساد کی جڑ

پیر 17  ستمبر 2018ء
عبدالرفع رسول
17برس کی جارحیت اورتقریباََایک کھرب ڈالرپھونکنے اورہزیمت پرہزیمت اٹھانے کے بعد بالآخرامریکہ اس نتیجے پرپہنچاکہ طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے بغیرافغانستان سے نکلنے کاکوئی راستہ نہیں ہے۔حال ہی میںاس کااعتراف پینٹاگون اورافغانستان میں امریکی کمانڈرجنرل نکلسن نے کیاہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ فسادی طینت اورفتنہ پرورذہنیت کاحامل بھارت ایساکرنے دے گاجبکہ وہ خطے میں فساد کی جڑہے۔بھارت چاہتاہے کہ امریکہ افغانستان میں الجھتاہی رہے تاکہ اس کے ناپاک عزائم پرضرب نہ پڑسکے ۔بھارت افغانستان کی سیاست پر بھی اثر انداز ہونے کی ناکام ونامرادکوشش کر رہا ہے۔بھارت کی عملی مداخلت کے باعث پہلے کرزائی اوراب اشرف
مزید پڑھیے


کالم نگار

اداریہ
اداریہ





سجاد میر
شہر آشوب

مستنصر حسین تارڑ
ہزار داستان

مجاہد بریلوی
شہر ناپرساں


مبشر لقمان
کھرا سچ

عبداللہ طارق سہیل
وغیرہ وغیرہ


نو شی گیلا نی
کا لم کہا نی

بشریٰ رحمان
چادر چاردیواری اور چاندنی


افتخار گیلانی
مکتوب دہلی

خاور نعیم ہاشمی
پردہ اٹھتا ہے


رضا رومی
رومی نامہ

انجم نیاز
یادداشت از امریکا





خاور گھمن
گھمن گھیریاں

سعید خا ور
حر ف درما ں

راوٗ خالد
رولا رپہ



ایچ اقبال
ایچ اقبال

اشرف شریف
شہر نامہ


قدسیہ ممتاز
حرف تازہ


سعود عثمانی
دل سے دل تک

اثر چوہان
سیاست نامہ

عامر متین
عامر متین

ارشاد محمود
بات یہ ہے

راحیل اظہر
غبارِخاطر

خالد ایچ لودھی
دل کی باتیں

رعایت اللہ فاروقی
گفتار و پندار

عبدالرفع رسول
مکتوب سری نگر

عمر قاضی
لالہ صحرائ

محمد عامر رانا
اقلیم در اقلیم

احمد اعجاز
کہانی کی کہانی

یوسف سراج
نقش قدم

وسی بابا
باتاں




رحمت علی رازی
درون پردہ