Common frontend top








کالم


آج کے کالم 

  


کالم آرکیو


مجلہ ’’ صوفی‘‘پنڈی بہاء الدین

پیر 20 مئی 2024ء
آغرندیم سحر
بیسویں صدی کے ربع اول میں تصوف اور ویدانیت کے موضوع سے دلچسپی رکھنے والی صحافتی کوششوں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تصوف کے موضوع پر کوئی ہفت روزہ یا پندرہ روزہ تو شائع نہیں ہوتے رہے تاہم ماہوار رسائل اشاعت پذیر ہوئے۔جن میں ’’سادھو‘‘، ’’درویش‘‘،’’مساتنہ جوگی‘‘ ،’’الف‘‘ ،’’طریقت‘‘ ،’’ نظام المشائخ‘‘ ،’’معارف‘‘،’’انوار الصوفیہ‘‘،’’طلوعِ آفتاب‘‘،’’پریم بیلاس‘‘،’’ اسوہ حسنہ‘‘، ’’نظام‘‘، ’’پرہم‘‘،’’ست اپدیش‘‘،’’گلدستہ طریقت‘‘،’’القمر‘‘ اور’’ صوفی‘‘ کے نام سامنے آتے ہیں۔یہ ہندو مسلم عقائد کا پرچار کرنے والے رسائل تھے جو اپنے اپنے حلقہ اثر میں رہتے ہوئے قارئین کو بہترین راہنمائی فراہم کرتے تھے۔ان رسائل میں مجلہ
مزید پڑھیے


ہمارا ’’استاد‘‘

پیر 20 مئی 2024ء
ڈاکٹر احمد سلیم
کہنے کو استاد قوم کے معمار ہیں لیکن ہمارے معاشرے کی بدقسمتی اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ قیام پاکستان سے اب تک جو پیشے سب سے زیادہ معاشی اور معاشرتی بد حالی کا شکار ہیں ان میں سے ایک ٹیچنگ ہے اور جو ادارہ سب سے زیادہ تنزلی کا شکارہے وہ محکمہ تعلیم ہے۔ ہمیں تو یہی معلوم نہیں کہ طالب علموں کو ’’پڑھانا‘‘ کیا ہے اور ’’سکھانا‘‘ کیا ہے۔ ہمارے یہاں اب کسی بڑے ادارے کے اچھے استاد کا تصور بھی کریں تو ذہن میں ایک ایسے شخص کی تصویر بنتی ہے جو کچھ
مزید پڑھیے


معیشت کی گتھی سیاست ہی کھول سکتی ہے

پیر 20 مئی 2024ء
ریاض مسن
مغرب کی تقلید میں ہم نے جمہوریت کا راستہ اپنایا اور ترقی کے لیے سرمایہ دارانہ نظام کا۔ اب معیشت بند گلی میں پھنسی ہے تو جمہوریت اسے نکال نہیں پارہی۔ کیا مسئلہ جمہوریت میں ہے؟ مزاج یار کو ناگوار نہ گزرے تو ایسا ہی ہے۔ کہانی تو پرانی ہے لیکن گڑے مردے اکھاڑنے سے کیا حاصل۔ نوے کی دہائی سے ہی شروع کرتے ہیں کہ حالات میں موجودہ بگاڑکا کھرا وہیں جا کرنکلتا ہے۔ مغرب دنیا کو جمہوریت کا گہوارہ بنانے کا داعی ہوا تو اس نے سرمایہ دارانہ نظام کو ترقی اور خوشحالی کا زینہ قراردیا۔ عالمی مالیاتی
مزید پڑھیے


جائیدادیں دبئی میں !

پیر 20 مئی 2024ء
افتخار حسین شاہ
’’ دبئی لیکس ‘ کا بھلا ہو کہ پاکستانی قوم کو اُن کی اشرافیہ کی دبئی میں بنائی گئی جائیدادوں سے تو آگاہ کر دیا ۔’’دبئی لیکس‘‘ کے مطابق سترہ ہزار پاکستانیوں کی دبئی میں تئیس ہزار جائیدادیں ہیں ۔اگر ان جائیدادوں کی ملکیت کو کھنگالیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ یہ جائیدادیں یہاں کے سیاستدانوں اور اُن کے خاندانوں موجودہ اور سابق بیوروکریٹس ،سول و فوجی افسران یا اُن کے خاندانوں کی ہیں ۔ان تمام طبقات کا یہ دستور بن چکا ہے کہ وہ دولت یہاں سے اکٹھی کرتے ہیں اور جائیدادیں باہر کے ممالک میں بناتے
مزید پڑھیے


بٹے ہوئے پنجاب کی مشترکات پرمکالمہ

پیر 20 مئی 2024ء
اشرف شریف
روہنی سنگھ نئی دہلی میں رہتی ہیں ‘ بھارت کی نامور صحافی ہیں‘ ان کے بزرگ لالہ موسی اور راولپنڈی سے نقل مکانی کر کے تقسیم کے وقت نئی دہلی جا کر آباد ہوئے۔روہنی سنگھ ڈی ڈبلو جرمنی،دی وائر اردو،ٹی ایف ٹی پاکستان اور انڈین ایکسپریس سمیت متعدد اداروں سے وابستہ رہی ہیں۔کبھی کبھار نائنٹی ٹو نیوز میں بھی ان کا کالم شائع ہوتا ہے۔ ہفتہ کے روز ان سے بات ہو رہی تھی۔ وہ بتا رہی تھیں کہ کئی برس قبل وہ ننکانہ صاحب ‘ حسن ابدال اور دوسرے مقدس مقامات کی یاترا کے لئے پاکستان آئی تھیں‘ وہ
مزید پڑھیے


صوفیا اور محبت ……(2)

پیر 20 مئی 2024ء
ڈا کٹر طا ہر رضا بخاری
سلسلہ وارموضوع گفتگو کو نبھانا اس وقت اور بھی ذرا مشکل ہو جاتا ہے جب اثنائے وقفہ میں دیگر کئی عنوانات بھی دستک کناں ہو جائیں ،ادارتی صفحہ تو تازہ بہ تازہ کا متقاضی ہوتا ہے ،بہر حال زیر نظر عنوان تو بقول اقبال : یہ نغمہ فصل گل و لالہ کا نہیں پابند حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر ؒکا سلسلہء فیض، ان کے عظیم المرتبت خلفا، حضرت خواجہ نظام الدین اولیا اور حضرت الشیخ علاء الدین علی احمد صابر کلیری ؒسے، دو ذیلی شاخوں کی صورت میں آگے بڑھا، اوّل سے چشتی نظامی اور ثانی الذکر
مزید پڑھیے


سرکاری ہسپتالوں میں صحت کارڈ کی سہولت سے انکار!

پیر 20 مئی 2024ء
اداریہ
پنجاب بھر میں سرکاری ہسپتالوں کے اپریل کے مہینے میں 127341مریضوں میں سے 90691مریضوں کو صحت کارڈ کے تحت مفت سہولت کی فراہمی سے انکار کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ تحریک انصاف نے اپنے دور اقتدار میں پنجاب کی 11کروڑ آبادی کو یونیورسل ہیلتھ پروگرام کے تحت تمام سرکاری اور منتخب شدہ نجی ہسپتالوں میں 10لاکھ سالانہ مفت علاج کی سہولت فراہم کی تھی۔ حکومت پنجاب نے جون 2024ء تک انشورنس کمپنی کو 400ارب پریمیم کی ادائیگی کا اعلان بھی کیا تھا۔ حکومت کے اس اقدام کے بعد پنجاب کے تمام شہریوں کو بلا امتیاز سرکاری یا نجی ہسپتالوں میں
مزید پڑھیے


پاک افغان سرحد پرفائر بندی

پیر 20 مئی 2024ء
اداریہ
ضلع کرم میں پاک افغان سرحد پر پانچ روز سے جاری جھڑپوں پر سیز فائر کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ مذاکرات میں شامل خرلاچی کے مقامی رہنماوں کا کہنا ہے کہ جمعے کی شام افغانستان سے خرلاچی کے سرحدی ٹرمینل پر آنے والے متحارب قبائل کے رہنماؤں نے ان سے اتفاق کیا کہ پہلے لڑائی روکی جائے پھر دوسرے تنازعات پر بات کریں گے۔پاکستان اور افغانستان دو ہمسائیہ ممالک ہیں دونوں کی سرحدیں جڑی ہوئی ہیں ،ایک خاندان پاکستان میں رہتاہے تو اس کے دوسرے رشتے دار افغانستان میں مقیم ہیں ۔اس لیے سرحد کے قریب مقیم افراد
مزید پڑھیے


وزیر اعظم کو آئی ایم ایف کا مجوزہ بجٹ پیش

پیر 20 مئی 2024ء
اداریہ
وزارت خزانہ نے وزیر اعظم شہباز شریف کو اگلے بجٹ کا مسودہ پیش کر دیا ہے۔یہ بجٹ مسودہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے کا تجویز کردہ ہے جس کا کل حجم 18000ارب روپے ہے۔مجوزہ بجٹ میں 9700 ارب روپے قرضوں پر واجب الادا سود کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔ماہرین بجٹ کے مجوزہ مسودے کو حکومت کے لئے آزمائش قرار دے رہے ہیں جسے آئی ایم ایف کی جانب سے متعدد سخت مطالبات اور عوام کی توقعات کا بیک وقت سامنا ہے۔ پاکستان میں قرضوں کا بحران تشویشناک حد تک پہنچ گیا ہے۔صرف نو ماہ کے دوران قرضوں پر سود
مزید پڑھیے


’’تعمیر وطن کی راہیں ‘‘

اتوار 19 مئی 2024ء
امتیاز احمد تارڑ
شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے کہا تھا :فتوحات اور جنگیں ہی نہیں خانہ جنگیاں بھی سیاسی اور معاشی طور پر ریاست کو کمزور اور بالآخر ناکام بنا دیتی ہیں۔مملکت خداداد میں یہی کچھ ہو رہا ہے ۔سیاسی جماعتوں اور اسٹبلشمنٹ کی آپسی لڑائیوں نے ریاست کو کمزور کر دیا ہے ۔کئی دنوں سے ڈاکٹر حافظ محمد سلیم عثمانی صاحب نے ایک کتاب تھمائی ۔جس کے مصنف ایس ایم اشفاق صاحب ہیں ۔اس کتاب میں ملکی مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ایس ایم اشفاق ایک کارباری شخصیت ہیں لیکن انھوں نے اپنے آپ کو خدمت خلق کے لیے وقف
مزید پڑھیے


ایلیٹ گروہوں کا گٹھ جوڑ اور امکانات !

اتوار 19 مئی 2024ء
فیصل مسعود
پاکستان اس وقت ایلیٹ گروہوں کے آہنی شکنجے کی گرفت (Elite capture) میں ہے۔ آج کا پاکستان اسی گٹھ جوڑ کے نتیجے میں معاشی اور سیاسی اداروں کے غیر فعال ہونے کی ایک’ٹیکسٹ بک ‘ مثال ہے۔یہ نہیں کہ ہمارے معاشرے میں مالی بدعنوانی کا عنصر نیا ہے۔سیاست بھی روزِ اول سے ہمارے ہاںسیاسی خانوادوں کے گھروں کی ہی لونڈی رہی ہے۔ پنجاب میں یہی وہ جاگیردار یونینسٹ تھے، ہندوئوں کے کاروباری غلبے اور نہرو کی زرعی اصلاحات کے امکانی خدشات سے گھبرا کر آخری لمحوں کے اندرجو مسلم لیگ کی گاڑی میں سوار ہو گئے تھے۔ صرف
مزید پڑھیے


مودی کی جعلی ڈگری

اتوار 19 مئی 2024ء
ریاض احمد چودھری
انسان کو اپنے نصیب کا کچھ علم نہیں کہ وہ کب بدل جائے۔ یعنی ایک وقت ایسا ہوتا ہے کہ آپ چھوٹے موٹے کام کر کے پیسے کماتے ہیں لیکن جب وقت بدلتا ہے تو حالات بھی بدل جاتے ہیں۔جیسا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ہوا، جو کبھی ماضی میں چائے فروخت کیا کرتے تھے، لیکن کیا معلوم تھا کہ ایک دن وہ بھارتی وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوجائیں گے۔مودی جہاں چند پیسوں میں چائے بیچتے تھے آج وہ کروڑوں مالیت کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ اس بات کا اقرار انہوں نے خود کیا۔ان کے
مزید پڑھیے


اے میرے معروف صحافی!

اتوار 19 مئی 2024ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
میرے پیارے اور قابلِ احترام صحافی صاحب! سب سے پہلے تو آپ کو یہ بات باور کراتا چلوں کہ ہمارے تعلق کی مدت کم و بیش کے امکان کے ساتھ تین دہائیوں پر محیط ہے۔ مطالعے سے عشق کی بنا پر ہمیں اخبار بینی کی لَت تو خیر سکول کے زمانے ہی سے پڑ چکی تھی۔ ادبی رسائل میں لکھنے لکھانے کا سلسلہ بھی نوے کی دہائی کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا، ستائیس سال قبل اخبار میں کالم نگاری کا معاملہ بھی آغاز ہو گیا۔ جب 27 فروری 1997ء کو ’’دیر آید، غلط آید‘‘ کے عنوان سے روزنامہ ’دن‘
مزید پڑھیے


آبی پرندہ ،تنہائی اورڈاکٹر خورشید رضوی!

اتوار 19 مئی 2024ء
سعدیہ قریشی
گزشتہ موسم سرما میں باغ میں دھند آلود راستوں پر صبح کی سیر کرتے ہوئے جھیل کے پاس سے گزری تو فاختائی رنگ کے ایک آبی پرندے کو جھیل میں لگے ہوئے لائٹ ٹاور پر سر جھکائے بیٹھے دیکھا۔میں نے اس دھند الود تنہائی میں بیٹھے آبی پرندے کی تصویر بنائی اور فیس بک پرخورشید رضوی صاحب کے اس شعر کے ساتھ لگادی تم کو میری افتاد کا اندازہ نہیں ہے تنہائی صلہ ہے میرا خمیازہ نہیں ہے۔ تصویر اور شعر نے جیسے ایک دوسرے کو مکمل کردیا ہو پھر جب جب فاختائی رنگ کے اس آبی پرندے کو جھیل کے
مزید پڑھیے


ہارن کھیڈ فقیرا

اتوار 19 مئی 2024ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
ایک شخص وہ ایک مبارک گھڑی میں نہیں معلوم کیسا مقدر لے کر پیدا ہوا اس کے خلاف طوفان اٹھے‘ آندھیاں چلیں‘ زلزلے آئے‘ بادوباراں نے گھیرا‘ اک زمانہ‘ زمانے کے سارے شاعر‘ طاقتور ‘ مقتدر اسے حرف غلط کی طرح مٹا دینے کے جتن کرتے رہے لیکن وہ ہر رات ماہ کامل اور ہر دن بیچ دوپہر بن بادل کے آسمان پر سورج کی طرح چمکتا رہا‘ چمکتا ہی رہا‘ تاریخ کی ورق گردانی ہمارا بچپن سے شغل رہا ہے‘ سماجیات پر بھی نظر ڈالی، سیاسیات میں ماسٹر کر کے دیکھ لیا‘ مشاہیر کی آب بیتیاں پڑھیں‘ مشہور فاتحین‘
مزید پڑھیے