BN

کالم



آج کے کالم 


  


کالم آرکیو



پیپلزپارٹی کے لئے آزمائش کی گھڑی

جمعه 18 اکتوبر 2019ء
سعید خاور
آج جب آپ یہ سطور پڑھ رہے ہیں تو سندھ کی ایک اہم صوبائی نشست پی ایس 11لاڑکانہIIکے ضمنی انتخاب کانتیجہ سامنے آچکا ہوگا،اس نشست پر پورے ملک کے تجزیہ کاروں کی نظریں جمی ہوئی تھیں۔ اس ایک نشست نے25جولائی 2018ء کے عام انتخابات سے جیالوں کی نیندیں حرام کررکھی ہیں۔ یہ پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثاراحمد کھوڑوکی روایتی نشست ہے،جو وہ ہمیشہ ’’زندہ ہے بھٹو ،زندہ ہے‘‘کی بنیادپر بہ آسانی جیتتے چلے آئے ہیں،گزشتہ سال عام انتخابات میںنثار کھوڑو اپنی ایک شادی خفیہ رکھنے میںناکام رہے تو انتخابات کے لئے نا اہل قراردے دئیے گئے
مزید پڑھیے


استعفیٰ یا دوبارہ الیکشن

جمعه 18 اکتوبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
آج کل اہم ترین موضوع گفتگو مولانا فضل الرحمان کا کراچی سے اسلام آباد تک امن مارچ اور ممکنہ دھرنا ہے، مولانا کو اپنی اس ’’جدوجہد‘‘ میں پہلی بڑی کامیابی یہ ہوئی کہ حکومت ’’ مذاکرات‘‘ پر آمادہ ہوچکی ہے۔ جبکہ مولانا نے بات چیت کے لئے بھی استعفیٰ ساتھ لے کر آنے کی شرط لگا دی ہے۔میں اس موضوع پر کچھ نہیں لکھنا چاہتا تھا لیکن پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی قیادت کے پوری طرح مولانا کے شکنجے میں آجانے کے بعد ضروری ہوگیا ہے کہ اس بظاہر ’’بڑی لڑائی‘‘ میں کچھ حصہ ڈالا جائے۔ مولانا
مزید پڑھیے


مولانا مان جائیں گے

جمعه 18 اکتوبر 2019ء
عمر قاضی
مولانا فضل الرحمان ڈی چوک اسلام آباد میں دھرنا دیں گے یا نہیں؟ ابھی اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ شاید مولانا فضل الرحمان کے پاس بھی نہیں۔ کیوں کہ مولانا صاحب ضد کی سیاست نہیں کرتے۔ انہوں نے سیاست میں جذباتیت کی علامت بننے کے بجائے ہمیشہ عقل سے فیصلے کیے ہیں۔ وہ پاکستان کے ایک بہت بڑے عملیت پسند (Pragmatic) سیاستدان ہیں۔یہ ان کا کمال ہے کہ انہوں نے دین اور دنیا میں جوتوازن پیدا کر رکھا ہے وہ کسی اور مذہبی جماعت میں نہیں ہے۔ مولانا فضل الرحمان سے کوئی کتنے بھی اختلافات کر سکتا
مزید پڑھیے


ہیں کواکب کچھ‘ مگر کیا؟

جمعه 18 اکتوبر 2019ء
شاہین صہبائی
ملک کی صورتحال کچھ ایسی الجھی ہوئی اور گھمبیر سی لگ رہی ہے کہ اکثر وہ لوگ جو خود کو صورتحال سے واقف اور معلومات کا منبع سمجھتے ہیں، سوالات کرتے نظر آ رہے ہیں اور ان سے اگر کوئی سوال کیا جائے تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔ اس طرح کی صورتحال کو غیر یقینی کہنا شاید چھوٹی بات لگے کیونکہ کچھ حکومتی اور ادارتی پالیسیوں میں تو غیر یقینی کا عنصر شامل ہو سکتا ہے لیکن پورا ملک اور جس طرف دیکھیں اگر یہی شکل نظر آئے تو شاید گڑ بڑ کچھ زیادہ ہی ہو گی۔
مزید پڑھیے


ذرا سا نقصان

جمعه 18 اکتوبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
اسحاق ڈار کا نام’’منکرین‘‘ کی فہرست میں سرفہرست تو نہیں ہے البتہ شاید ایک نمبر نیچے ہے۔ کلاسیفائیڈ دستاویزات میں ان کے ’’جرم‘‘ کی نوعیت اگرچہ کچھ مخفی سی ہے لیکن آن دی ریکارڈ جرائم یہ بتائے جاتے ہیں کہ انہوں نے چار سال تک افراط زر پر ’’مصنوعی‘‘ قابو پائے رکھا اور اتنا ہی عرصہ ڈالر کی قیمت مصنوعی اقدامات کر کے بڑھنے نہیں دی۔ ایسے مصنوعی اقدامات کئے کہ گروتھ ریٹ بڑھنے لگا اور خطرہ پیدا ہو گیا کہ کہیں پاکستان بنگلہ دیش کے برابر نہ آ جائے۔ چنانچہ شکر ہے کہ راست اقدام کے لئے کی جانے
مزید پڑھیے


اعتراف

جمعه 18 اکتوبر 2019ء
ہارون الرشید
خطا سرزد ہو تو اعتراف کرنا چاہیے مگر یہ نہیں کہ ردعمل میں چوروںاور ٹھگوں کا دامن تھام لیا جائے۔ اس دن سے پہلے اللہ اس دنیا سے اٹھا لے کہ میں اس قماش کے لوگوں کو پارسا ثابت کرنے کی کوشش کروں۔ تین عشرے ہوتے ہیں،جناب احمد ندیم قاسمی کا جملہ پڑھا تو حیرت زدہ رہ گیا’’اخوان المسلمون نے اس دور میں سنّت منصورتازہ کر دی‘‘ وہ ایک مانے ہوئے ترقی پسند تھے اور کوئی ان سے یہ گمان نہ لگتا۔ ابوالکلام آزاد اور سید ابواعلیٰ مودودی کے دیرینہ رفیق نصراللہ خان سے منسوب ایک بات کبھی سنی تھی‘ وہ
مزید پڑھیے


طبیہ کالجز کی جعلی ڈگریاں جاری کرنے کا انکشاف

جمعه 18 اکتوبر 2019ء
اداریہ
روزنامہ 92 نیوز کی رپورٹ کے مطابق وزارت صحت کے ذیلی ادارہ نیشنل کونسل فارطب کے طبیہ کالجز کی طرف سے جعلی داخلوں اور برائے نام امتحانات کے بعد ڈگریاں بانٹنے کا انکشاف ہوا ہے۔ نیشنل کونسل فار طب کے ریکارڈ کے مطابق 25 ہزار کے لگ بھگ حکماء ملک بھر میں شفا خانے چلا رہے ہیں جن میں سے اطلاعات کے مطابق 5 ہزار حکیموں کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ ان کی ڈگریاں مشکوک ہیں۔ ایسے عطائی حضرات نہ صرف ہربل ادویات بلکہ ایلوپیتھک ادویات کا بے دریغ استعمال کرکے معصوم جانوں سے کھیلتے ہیں اور
مزید پڑھیے


پاکستان آرمی چیف کا دورہ ایل او سی

جمعه 18 اکتوبر 2019ء
اداریہ
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لائن آف کنٹرول کا دورہ کیا اور کہا ہے کہ ہم کشمیریوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے اور مسئلہ کشمیر پراپنا حقیقی کردار ادا کرتے رہیں گے۔ اس میں شبہ نہیں کہ مقبوضہ وادی میں جہاں بھارت نے کشمیریوں پر ظلم و بربریت کا بازار گرم کر رکھا ہے وہاں اس کے برعکس پاکستان ان کا صحیح بہی خواہ کا حقیقی کردار ادا کر رہا ہے۔ آج مقبوضہ وادی میں بھارتی پابندیوں کو قریباً 75 روز ہو گئے ہیں لیکن بھارت مسلسل قتل و غارت گری کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ بدھ
مزید پڑھیے


غیر مشروط مذاکرات،جمہوریت کا حسن

جمعه 18 اکتوبر 2019ء
اداریہ
وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے جمعیت علماء اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن سے مذاکرات کے لئے وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں چار رکنی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ جس میں چاروں صوبوں کے سینئر پارٹی رہنما شامل ہونگے۔ دوسری جانب جے یو آئی سربراہ نے وزیر اعظم کے استعفے تک حکومت سے مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اپوزیشن کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے حکومت کے خلاف احتجاج کا پورا حق حاصل ہے ،مگر جب حکومت کی مخالفت کا مقصد اصلاح کی بجائے ریاست کو نقصان پہنچانے‘ آئین
مزید پڑھیے


مولانا کی سیاست

جمعه 18 اکتوبر 2019ء
ناصرخان
چشم بد دور … چشم ما روشن دل ماشاد … شالا نظر نہ لگے اور اللہ زورِ سیاست اور زیادہ کرے۔ مولانا آج کل میڈیا میں کھڑکی توڑ رش لے رہے ہیں۔ پرانے زمانے میں کسی سینما میں فلم دیکھنے کے لیے لائن لگا کر ٹکٹ لینا پڑتی تھی۔ اس ٹکٹ کے لیے جو کشاکش ہوتی تھی اُسے کھڑکی توڑ رش کہتے تھے۔ پنڈت سر پر ہاتھ رکھے اندازے پر اندازہ لگا رہے ہیں۔ مگر یہ آواز ہے کہ بار بار سنائی دے رہی ہے ’’جینا ہوگا … مرنا ہوگا، دھرنا ہوگا … دھرنا ہوگا‘‘۔ انتخابی سیاست میں تو مولانا
مزید پڑھیے


قناعت اور دیانت سے گندھا دانشور

جمعه 18 اکتوبر 2019ء
سعدیہ قریشی
سندھی ٹوپی سر پر پہنے ہوئے‘ ہسپتال کے بیڈ پر لیٹے ہوئے بیمار اور نڈھال اجمل نیازی صاحب پہچان میں نہیں آتے تھے۔ اس لئے کہ ہم نے انہیں ہمیشہ ہی میانوالی کی مخصوص پگڑی کے ساتھ دیکھا تھا۔ ایک وقار اور دیانت سے بھری انا کے ہالے میں۔ خوب صورت گفتگو کرتے ہوئے۔ لیکن یہاں سروسز ہسپتال کے کمرہ نمبر سی۔ فائیو میں ہسپتال کے مخصوص بیڈ پر دراز ڈاکٹر اجمل نیازی بے آواز گفتگو کرتے تھے کہ ایک ماہ سے پاکستانی ڈاکٹروں کے ہاتھوں طرح طرح کی ٹریٹمنٹ سے ان کے گلے میں شدید انفیکشن ہو چکی تھی اور
مزید پڑھیے


یہاں تک تو پہنچے وہ مجبور ہو کر

جمعه 18 اکتوبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
مولانا فضل الرحمن کو ناراض نہیں خوش ہونا چاہیے‘ حکمران بالآخر اُن سے رابطے اور بامقصد مذاکرات پر آمادہ ہیں‘ مذاکراتی کمیٹی کے ذریعے صرف بات چیت نہیں وزیر اعظم عمران خان اور مولانا فضل الرحمن کے مابین ٹیلی فونک گفتگو ہو گی‘ حزب اختلاف کی ایک جماعت کو جس کے پارلیمنٹ میں درجن بھر ارکان ہیں اور کیا چاہیے؟ مولانا کی سیاسی اہمیت حکومت نے تسلیم کر لی۔ عمران خان مولانا کا نام سننے کے روادار نہ تھے‘ اب بات کرنے پر آمادہ ہیں‘ خدا نے چاہا تو معقول مطالبات بھی مانے جائیں گے اور سودے بازی کے حق
مزید پڑھیے


یہ پوزیشن لینے کا وقت ہے

جمعه 18 اکتوبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
پاکستانی سیاست میں پوزیشنیں بہت پہلے سے لی جاچکی ہیں۔ فریقین اپنے اپنے کیمپو ں میں باقاعدہ بنکر بنا کر مورچہ زن ہیں۔ تحریک انصاف والوں کا اپنا کیمپ ہے، نوجوانوں سے گھرا ہوا، غصیلے، پرجوش تیرانداز جس کی باہر کی جانب پہلی صف میں موجود ہیں، نیزے بازوں کی بھی کمی نہیں۔ مسلم لیگ ن ، پیپلزپارٹی ، جے یوآئی، اے این پی، پختون خوا میپ ،نیشنل پارٹی اور دیگرچھوٹے دھڑوں کے اپنے اپنے کیمپ ہیں، معروضی حالات کے مطابق اس کی بیرونی دیوار گرتی، بنتی رہتی ہے۔ بہرحال ان کا سیاسی موقف اور سٹینڈ بہت واضح ہے۔ عمران
مزید پڑھیے


داتا صاحب سے شیخ مجدد تک۔ اور شرح بخاری شریف

جمعرات 17 اکتوبر 2019ء
سجاد میر
اللہ کی عنایت ہے جب کتابوں کی بھر مار ہو جائے اور اس سے بڑی سعادت یہ ہے کہ یہ ایسی کتابیں ہوں جو روح اور باطن کی تسکین کرنے والی ہوں۔ گزشتہ کچھ عرصے سے میں ان میں چند ایک کا بالخصوص تذکرہ کرنا چاہتا ہوں ‘ مگر موقع ہی میسر نہیں آ رہا۔ ایک تو استاد کے کہنے پر کتابوں کے تبصرے سے اجتناب کرتا آیا ہوں کہ ایک اچھی کتاب پر تبصرہ کردوگے تو بہت سی بری کتابوں پر بھی مروت دکھانا پڑے گی جس سے طبیعت بڑی منقبض ہوتی ہے۔ بہرحال آج ایک کتاب کا تذکرہ
مزید پڑھیے


تونسہ کا منظر نہیں بدلا

جمعرات 17 اکتوبر 2019ء
ظہور دھریجہ
تونسہ کے پروفیسر ملک منظور احمد بھٹہ کی کتاب تونسہ کا منظر نامہ جنوری 2013 ء میں شائع ہوئی مگر تونسہ کا منظر نہیں بدلا، کتاب میں تونسہ کا پس منظر ، تونسہ کی قدامت، سیاسی منظر نامہ ، حضرت شاہ سلیمان تونسویؒ و دیگر شخصیات کے ساتھ ساتھ تونسہ کی ادبی ثقافتی ، معاشی اور معاشرتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ان کا ایک مضمون ’’ مستقبل کے خدشات ‘‘ کے حوالے سے ہے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ غربت ، بیروزگاری اور پسماندگی علاقے کا اہم مسئلہ ہے ، صحت کی سہولتیں ناپید ہیں ۔ سنگھڑ ،
مزید پڑھیے






کالم نگار

اداریہ
اداریہ









سجاد میر
شہر آشوب

مستنصر حسین تارڑ
ہزار داستان

مجاہد بریلوی
شہر ناپرساں


مبشر لقمان
کھرا سچ

عبداللہ طارق سہیل
وغیرہ وغیرہ


بشریٰ رحمان
چادر چاردیواری اور چاندنی

نو شی گیلا نی
کا لم کہا نی


افتخار گیلانی
مکتوب دہلی

خاور نعیم ہاشمی
پردہ اٹھتا ہے


رضا رومی
رومی نامہ

انجم نیاز
یادداشت از امریکا



خاور گھمن
گھمن گھیریاں


سعید خا ور
حر ف درما ں

راوٗ خالد
رولا رپہ



اشرف شریف
شہر نامہ

ایچ اقبال
ایچ اقبال


قدسیہ ممتاز
حرف تازہ




سعود عثمانی
دل سے دل تک

اثر چوہان
سیاست نامہ

عامر متین
عامر متین

ارشاد محمود
بات یہ ہے


ناصرخان
فرنٹ لائن

عدنان عادل
امروزوفردا

ذوالفقار چودھری
تیسری آنکھ

شاہین صہبائی
چلتے چلتے



سعید خاور
حرفِ درماں

رعایت اللہ فاروقی
گفتار و پندار

یوسف سراج
نقش قدم


عمر قاضی
لالہ صحرائ

عبدالرفع رسول
مکتوب سری نگر

احمد اعجاز
کہانی کی کہانی

خالد ایچ لودھی
دل کی باتیں

رحمت علی رازی
درون پردہ

وسی بابا
باتاں


راحیل اظہر
غبارِخاطر

محمد عامر رانا
اقلیم در اقلیم