BN

کالم



آج کے کالم 


  


کالم آرکیو



جمہوریت پسند

اتوار 01 دسمبر 2019ء
راوٗ خالد
پہلا سیاسی احتجاج جو دیکھا اور میں اس کا حصہ بھی تھا لیکن شعوری طور پر اس لئے نہیں گردانتا کہ میری عمر اس وقت ایسی تھی جب سیاسی معاملات کی سمجھ بوجھ نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے اور خاص طور پر جمہوریت اور آمریت کے فرق کو تو با لکل نہیں سمجھ سکتا تھا۔یہ جنرل ایو ب خان کے چل چلائو کا دور تھا انہوں نے اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لئے 1969 میں ملک بھر میں ٹرین مارچ کا آغاز کیا۔ میں جدید پرائمری سکول گوجرہ میں پانچویں جماعت کا طالبعلم تھا۔ سکول میں پتہ چلا کہ
مزید پڑھیے


یاد کی وہ پرچھائیں…!

اتوار 01 دسمبر 2019ء
سعدیہ قریشی
یاد کی ایک پرچھائیں ہے جوسدا ساتھ ساتھ رہتی ہے۔ کوئی موسم وصل و ہجر کا۔ زندگی کی سڑک کے کنارے لگے سائن بورڈ پر دکھ لکھا ہو، خوشی لکھی ہو یا وہی بے نام سی اداسی۔ یاد کی یہ پرچھائیں ہاتھ پکڑے اٹھتی ہے۔ کبھی کبھی دکھ میں ڈھارس دے جاتی ہے۔ خوشی اور کامیابی کے لمحوں میں آنسوبن کر بہنے لگتی ہے اور دنیا کی اس بھیڑ میں اپنی ’’کمی‘‘ کا احساس دلا کر اداسی کی زرد اوڑھنی کو اور بھی زرد کردیتی ہے۔ پھر آس پاس ایک میلہ بھی لگا ہوتو سب خالی خالی سا لگتا ہے۔ سچ ہی
مزید پڑھیے


چیف جسٹس کو توسیع کیوں نہیں؟

اتوار 01 دسمبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
جو لوگ کہتے تھے وزیر اعظم عمران خان دسمبر میں نظر نہیں آئیں گے اب انہوں نے انہیں مارچ2020تک کی ،، توسیع ،، دیدی ہے لیکن میرے خیال میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے ان کے اقتدار کو کم از کم ایک سال کے لئے تو دوام بخش دیا ہے، اب عمران خان پر منحصر ہے کہ وہ خود کہاں تک ٹھہرتے ہیں، اگر انہوں نے اپنی سیاست اور حکومت کا محور اپنی موجودہ ٹیم کو ہی بنائے رکھا تو کوئی بڑے سے بڑا نجومی بھی کوئی پیش گوئی کرنے سے قاصر رہے گا، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے
مزید پڑھیے


راستہ

اتوار 01 دسمبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ہر وقت کسی نجات دھندہ کی تلاش میں رہتے ہیں۔ کسی ایسے طلسماتی کردار کی راہ تکتے ہیں جو آئیگا اور ہمارے سارے زخم سی دے گا، ہمارا ہر دکھ سکھ میں بدل دے گا اور ہماری ہر محرومی کو مسرت و شادمانی کا خوش رنگ لباس پہنا دے گا۔ ہم اجتماعی دانش کی اہمیت کو ابھی تک سمجھتے ہیں اور نہ ہی سمجھنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا جونہی کوئی دو حرف تسلی کے کہتا ہے ہم اس سے ساری امیدیں وابستہ کرلیتے ہیں۔ بقول ڈاکٹر خورشید رضوی دو حرف تسلی کے جس نے بھی کہے
مزید پڑھیے


بیورو کریسی میں اکھاڑ پچھاڑ سے مسائل حل ہو جائیں گے؟

اتوار 01 دسمبر 2019ء
محمد اظہارالحق
کیا بیورو کریسی کو اتھل پتھل کرنے سے مسائل حل ہو جائیں گے؟ کیا گملوں کی ترتیب بدلنے سے پھولوں کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے؟ ڈپٹی کمشنر اور کمشنر کے مناصب انگریز استعمار کی ضرورت تھے۔ بنیادی کام ان کا مالیہ اور محصولات اکٹھا کرنا تھا۔ پھر وقت کے ساتھ اور کام بھی سونپے جاتے رہے۔ ملکہ کی حکومت کا استحکام اصل مقصد تھا۔ انگریز نواز طبقات کو خوش رکھنا اور انگریز مخالف لوگوں کو ڈرا کر رکھنا فرائض میں شامل تھا۔ ڈپٹی کمشنر انگریزی حکومت کا ستون تھا۔ اسی ستون پر استعمار کھڑا تھا! جنرل پرویز مشرف نے ایک ہی
مزید پڑھیے


وفاق اور پنجاب میں بیوروکریسی کی اکھاڑپچھاڑ

اتوار 01 دسمبر 2019ء
اداریہ
تحریک انصاف کی حکومت نے گڈ گورننس اور اپنے عوامی فلاحی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے وفاق میں بڑے پیمانے پر اعلیٰ بیوروکریٹس کو تبدیل کیا ہے۔ قوم لگ بھگ دو برس سے تبدیلی کی آس اور اچھے دنوں کی امید لگائے بیٹھے ہیں مگر بدقسمتی عوام کو ماسوائے بیوروکریسی کے تبادلوں کے تبدیلی کے آثار دور دور تک دکھائی نہیں دے رہے۔ معاشی بحران کے نتیجے میں روپے کی قدر 35 فیصد کم ہونے اور پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافے اور مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ عوام ٹماٹر اور پیاز کی قیمتوں میں
مزید پڑھیے


لاہور بم دھماکہ

اتوار 01 دسمبر 2019ء
اداریہ
لاہور ایک بار پھر بڑی تباہی سے بچ گیا، چوبرجی کے قریب رکشہ میں دھماکہ سے 10افراد زخمی ہو گئے۔ پولیس نے ڈرائیور سمیت 2افراد کو گرفتار کر لیا۔ پاک فوج، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بے پناہ قربانیوں کی بدولت دہشت گردی کے ناسور پر قابو پایا جا چکا ہے۔ جس کے باعث ملک بھر میں امن و امان کی فضا قائم ہے اور عوام بلا خوف و خطر معاملات زندگی سرانجام دے رہے ہیں۔ امن و امان کی یہ فضا ملک دشمن عناصر کو ایک آنکھ نہیں بھا رہی جس کے باعث گزشتہ روز ایک
مزید پڑھیے


نظام عدل اور محترم چیف جسٹس کے خیالات

اتوار 01 دسمبر 2019ء
اداریہ
چیف جسٹس جناب آصف سعید کھوسہ نے لاہور ہائیکورٹ بار ملتان سے خطاب کے دوران ججوں کی کارکردگی اور سماجی امن کو ایک دوسرے کے ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جج اگر سماعت کے بعد فیصلے نہیں دیتے تو ان میں اور ایک عام قاصد میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ محترم چیف جسٹس نے کہا کہ ججوں کو معاشرے میں اس لیے عزت ملتی ہے کہ وہ فیصلے کرتے ہیں۔ محترم چیف جسٹس نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ معاشرہ غیر متوازن ہو گیا ہے۔ عدالتی نظام کسی ریاست کی بقا اور داخلی استحکام کا سب
مزید پڑھیے


نیا فتنہ

اتوار 01 دسمبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
ملک میں ایک نیا فتنہ سر اُٹھا رہا ہے۔ فرمایا ’’مومن اپنے آپ کو ایک سوراخ سے دوبارہ نہیں ڈسواتا‘‘، ہم مگر ایک ہی سوراخ سے دوبار بلکہ سہ بار نہ ڈسے جائیں تو ہمارا ایمان کامل ہوتا ہے نہ دل و دماغ مطمئن۔ بہتر سالہ تاریخ میں ناکام تجربوں کا ریکارڈ ہم نے قائم کیا اور باز اب تک نہیں آئے۔ تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینوں کی بحالی کا جوش ہمیں اس وقت چڑھا جب مولانا کے آزادی مارچ اور دھرنے کے بعد آرمی چیف کے تقرر کا معاملہ خوش اسلوبی سے طے ہوا، پورے ملک نے سکھ کا سانس
مزید پڑھیے


10 حکومتی فیصلے جوعدالتوں نے اڑا دیے

هفته 30 نومبر 2019ء
اسداللہ خان
اب تو ڈیڑھ سال ہو گیا، یہ حکومت آخر کب تک اپنا مذاق بنواتی رہے گی۔ ایک سال اور چند ماہ کے عرصے میں حکومت نے کئی ایسے کمزور فیصلے کیے جویا تو ازخود نوٹسزکے ذریعے اڑا دیے گئے یا انہیں عدالتوں میں چیلنج کر دیا گیا اورنتیجہ وہی کہ حکومت کو سبکی اٹھانا پڑی ۔کوئی دس واقعات تو میں ابھی آپ کے گوش گزار کر دیتا ہوں، ذہن پہ زیادہ زور دیا جائے تو یہ تعداد بڑھ بھی سکتی ہے ۔ جنوری میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے دو ممبران کے ریٹائر ہو جانے کے بعد آئینی و قانونی طور
مزید پڑھیے


کیا آپ بھی کسی کے حصے کے بے وقوف ہیں؟

هفته 30 نومبر 2019ء
آصف محمود
سوشل میڈیا پر ایک اودھم مچا ہے۔ شائستہ اطوار لوگ بھی موجود ہیں مگر اکثریت ان کی ہے جنہیں دیکھ کر یقین ہو جاتا ہے واقعی ہر رہنما اپنے حصے کے بے وقوف ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے۔ہر قائد انقلاب کے حصے کے یہ بے وقوف سیاسی اختلاف پر ایک دوسرے کی عزت نفس کی دھجیاں اڑا دیتے ہیں اور اس بات پر قدرت رکھتے ہیں کہ برسوں کے تعلقات ایک لمحے میں ختم کر دیں۔ یہ صرف اپنے اپنے رہنما کے حصے کے مجاور ہیں۔ ان لشکریوں کو سوشل میڈیا پر چاند ماری کرتے دیکھتا ہوں تو
مزید پڑھیے


فہمیدہ ریاض ۔ ۔ ۔ 2

هفته 30 نومبر 2019ء
مجاہد بریلوی
اب یہ وقت نہیں کہ نیپ اور بھٹو صاحب کی لڑائی کی تفصیل میں جایا جائے۔ قصور دونوں طرف کے مہم جو انقلابیوں کا بھی تو تھا۔جس کے نتیجے میںجنرل ضیاء الحق کا چیختا چنگھاڑتا مارشل لاء تو آنا ہی تھا۔فہمیدہ ان شاعروں ،ادیبوں میں تو تھیں نہیں کہ جو بھٹو مخالفت پر ضیاء الحق کے دور میں اکیڈمی آف لیٹر سے خود کو کیش کرا رہے تھے ۔اب وہ ضیاء آمریت کے خلاف کھڑی پیپلز پارٹی کے جیالوں کے ساتھ کھڑی تھیں۔جو جئے بھٹو کا نعرہ لگا کر ننگے پیٹوں پر کوڑے کھا رہے تھے ۔فہمیدہ نے اس
مزید پڑھیے


ایک جھٹکا ایک وارننگ

هفته 30 نومبر 2019ء
شاہین صہبائی
پاکستان میں ایک عدالتی طوفان آیا اور امریکہ کے موسمی Hurricanes کی طرح آیا اور چلا گیا۔ کچھ گھنٹے یا ایک دو دن گہرے بادل اور گھٹائیں چھائی رہیں مگر جیسے ہی آندھی گزری اپنے ساتھ کئی کچرے کے ڈھیر صاف کر گئی۔ حکومت میں جو نااہل حضرات کا ڈیرہ ہے وہ بے جامہ اور بے نقاب ہو گیا۔ قوانین میں سوراخ در سوراخ نظر آتے گئے اور کئی قوانین تو معلوم ہوا وجود ہی نہیں رکھتے مگر سالہا سال سے کام اسی تنخواہ پر جاری ہے۔ اب معلوم ہوا عمارت کی بنیاد ہی نہیں تھی اور کئی دور گزر
مزید پڑھیے


صرف زمین نہیں، ملکیت بھی گردش میں ہے

هفته 30 نومبر 2019ء
محمد اظہارالحق
پجارو تھی یا لینڈ کروزر!جو بھی تھی فاخرہ سواری تھی! اور بالکل نئی نویلی! نئی نویلی گاڑی رواں دواں تھی، قصبوں، قریوں اور بستیوں کے درمیان، فراٹے بھرتی، ڈرائیور چلا رہا تھا، مالک گاڑی کا نشست پر یوں بیٹھا تھا جیسے گاڑی ہی کا نہیں، کرۂ ارض کا بھی مالک وہی ہو، لباس اس کا سفید لٹھے کی شلوار قمیض تھی، کلف سے کھڑ کھڑاتی ہوئی، انگلیوں میں سونے کی اور چاندی کی اور عقیق کی انگوٹھیاں پہنے تھے۔ گردن اس کی تنی ہوئی تھی۔ راستے میں ایک شخص نے گاڑی کو ہاتھ دیا۔ ڈرائیور نے گاڑی روک لی، عجیب آدمی تھا
مزید پڑھیے


ہم جانتے ہی نہیں 

هفته 30 نومبر 2019ء
ہارون الرشید
ڈاکٹر صاحب نے کہا: بلا سو د معیشت اور قرضے ممکن ہیں۔ پاکستان میں اللہ کی راہ میں دینے والوں کی کمی نہیں اور غریب آدمی بھیک نہیں ، محنت پر یقین رکھتا ہے مگر ہم جانتے نہیں ، ہم جانتے ہی نہیں۔ تیس پینتیس برس کا وہ آدمی موٹر سائیکل پہ سوار تھا۔ پچھلی سیٹ پر ایک بزرگ خاتون تشریف فرما۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کو اس نے سلام کیا اور بتایا کہ ڈھونڈتے ڈھانڈتے وہ ان کے دفتر تک پہنچا ہے۔ خاتون کے ہاتھ میں چھوٹا سا ایک بیگ تھا۔ یہ بیگ اس نے ڈاکٹر صاحب کے حوالے کیا اور
مزید پڑھیے






کالم نگار

اداریہ
اداریہ









سجاد میر
شہر آشوب

مستنصر حسین تارڑ
ہزار داستان

مجاہد بریلوی
شہر ناپرساں


مبشر لقمان
کھرا سچ

عبداللہ طارق سہیل
وغیرہ وغیرہ


بشریٰ رحمان
چادر چاردیواری اور چاندنی

نو شی گیلا نی
کا لم کہا نی


افتخار گیلانی
مکتوب دہلی

خاور نعیم ہاشمی
پردہ اٹھتا ہے


رضا رومی
رومی نامہ

انجم نیاز
یادداشت از امریکا



خاور گھمن
گھمن گھیریاں


سعید خا ور
حر ف درما ں


راوٗ خالد
رولا رپہ



اشرف شریف
شہر نامہ

ایچ اقبال
ایچ اقبال


قدسیہ ممتاز
حرف تازہ





سعود عثمانی
دل سے دل تک

اثر چوہان
سیاست نامہ

عامر متین
عامر متین

ارشاد محمود
بات یہ ہے


ناصرخان
فرنٹ لائن

عدنان عادل
امروزوفردا

ذوالفقار چودھری
تیسری آنکھ

شاہین صہبائی
چلتے چلتے



سعید خاور
حرفِ درماں


مظفر بخاری
گستاخی معاف

رعایت اللہ فاروقی
گفتار و پندار

یوسف سراج
نقش قدم


عمر قاضی
لالہ صحرائ

عبدالرفع رسول
مکتوب سری نگر

احمد اعجاز
کہانی کی کہانی

خالد ایچ لودھی
دل کی باتیں

رحمت علی رازی
درون پردہ

وسی بابا
باتاں


راحیل اظہر
غبارِخاطر

محمد عامر رانا
اقلیم در اقلیم