BN

کالم



آج کے کالم 


  


کالم آرکیو



ہم آہستہ آہستہ مرتے ہیں

هفته 31  اگست 2019ء
آصف محمود
گائوں میں اپنے خاندان کے قبرستان میں کھڑا تھا اور کچھ یاد نہیں آ رہا تھا کون کہاں دفن ہے۔ صرف دو قبروں پر کتبے لگے تھے ۔مٹی کی کچھ ڈھیریاں تھیں اور یادوں کا ہجوم۔ان ڈھیریوں میں میرے اپنے ہی دفن تھے۔ مگر کون کہاںتھا ، کچھ معلوم نہ تھا۔کہیں پڑھا تھا ، اچانک ہمیں موت نہیں آتی۔ ہم آہستہ آہستہ مرتے ہیں۔ ہمارے دوست ، احباب ، رشتہ داروں میں سے جب کوئی ہم سے بچھڑتا ہے تو ان کے ساتھ ہمارے وجود کا ایک حصہ بھی دفن ہو جاتا ہے۔اپنے وجود کے یہ ٹکرے دفن کرتے کرتے
مزید پڑھیے


آتش ِچنار

هفته 31  اگست 2019ء
مجاہد بریلوی
جس خاک کے ضمیرمیں ہو آتشِ چنار ممکن نہیں کہ سرد ہو وہ خاک ِ ارجمند شاعر ِ مشرق علامہ اقبال کے اس شعر سے لئے جانے والے آتش ِ چنارکے نام سے منسوب کتاب کے مصنف چالیس اور پھر پچاس ،بلکہ ساٹھ کی دہائی تک شیرِ کشمیر کے نام سے بے پناہ شہرت رکھنے والے شیخ محمد عبداللہ ہیں۔گزشتہ ہفتے لائن آف کنٹرول سے واپسی پر ڈھلتی شب میں نے اپنے میزبان سے کہا،’’کیا مظفر آباد میں بُک شاپس ہیں؟‘‘ شرمندہ کردینے والی نظروں سے کہا،’’صرف اس چوک پر آمنے سامنے پانچ کتابوں کی دکانیں ہیں۔ اِدھر کچھ
مزید پڑھیے


امتحان

هفته 31  اگست 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
اندرون اور بیرون ملک سے پرجوش قارئین فون کالز اور ای میلز کے ذریعے پوچھتے ہیں کہ پاکستان کی کشمیر پالیسی کیا ہے؟ میرا جواب یہ ہوتا ہے کہ پالیسی کا مجھے علم نہیں البتہ یہ بات میں بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ آل پارٹیز حریت کانفرنس کی تحریک آزادی کو ہندوستان دبا سکتا ہے اور نہ پاکستان چھوڑ سکتاہے۔ پاکستانی اور کشمیری عوام حکومت پاکستان سے بڑے عملی اقدامات کی توقعات باندھے ہوئے ہیں۔ ابھی تک پاکستان دنیا کو اپنا ایک سافٹ امیج اور اپنی امن پسندی اور قانون پسندی کا تاثر دے رہا ہے۔ توقع کے بارے
مزید پڑھیے


ایسی فضا میں ’’ادبی میلے‘‘ کیوں؟

هفته 31  اگست 2019ء
محمد اظہارالحق
’’2002ء کے قتل عام پر ایک نظر ڈالیے۔ اس سال 27فروری کو گجرات میں گودھرا ریلوے سٹیشن پر ایک ٹرین کو آگ لگ گئی اس میں ہندو زائرین سوار تھے۔ فی الفور اور ذرہ بھر ثبوت کے بغیر مودی نے اعلان کر دیا کہ پاکستان کی سیکرٹ سروس اس کی ذمہ دار ہے۔ پھر اس نے جلی ہوئی لاشوں کو احمد آباد شہر میں پھرایا اور اپنی ہی حکومتی پارٹی سے تین دن کی ہڑتال کرا دی۔ نتیجہ خونریزی کی صورت میں نکلا۔ سرکاری اندازوں کے مطابق ایک ہزار جانیں قتل ہوئیں۔ آزاد ذرائع یہ تعداد دو ہزار بتاتے ہیں۔بھاری
مزید پڑھیے


کوئی کوئی ۔خال خال

هفته 31  اگست 2019ء
ہارون الرشید
آخری عظیم صوفی خواجہ مہر علی شاہؒ نے کہا تھا: یہ تجلی‘ برقِ عارضی ہے کوئی تھامے رکھے تو تجلیٔ برقِیٔ دائمی بھی نصیب ہو سکتی ہے۔ کون تھام سکتا ہے؟ کوئی کوئی‘ خال خال۔ ڈاکٹر طاہر مسعود صاحب! کالم بھی تو ایک طرح کا شعر ہے ۔ اگر کوئی تازہ خیال نہ پھوٹے تو آدمی کیا کیجے؟ اردو کے ایک ممتاز شاعر تلاشِ روزگار میں دکن پہنچے کہ حاجت مند اہلِ ہنر کا ٹھکانہ تھا۔ جوشؔ ملیح آبادی ایسوں کاتو ذکرہی کیا ، اقبالؔ ایسے عبقری کو بھی سایہ نصیب ہوا تھا۔ یہ الگ بات کہ آخر غنا غالب آیا‘ اکتا گئے یہ
مزید پڑھیے


کراچی میں گندگی سے وبائی امراض پھوٹنے کا خدشہ

هفته 31  اگست 2019ء
اداریہ
بلدیہ عظمیٰ کراچی کی نااہلی کے باعث بارش پھر سے زحمت بن گئی۔ ملیر‘ کورنگی‘ لانڈھی ‘ لیاقت آباد کے نشیبی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہو گیا۔ جبکہ کرنٹ لگنے اور گڑھے میں گر کر 2افراد جاں بحق ہو گئے۔ مون سون کا تیسرا سپیل بلدیہ عظمیٰ کراچی اور سندھ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے شہریوں کے لئے اذیت بن گیا ہے۔ گٹر سے گند ابل رہے ہیں لیکن انتظامیہ منظر سے غائب ہے۔ وفاقی وزیر علی زیدی نے بڑے شدو مد سے 550چھوٹے بڑے نالوں کی مکمل صفائی کا سلسلہ شروع کیا تھا لیکن سیاسی جماعتوں
مزید پڑھیے


ماڈل کورٹس کی قابل تعریف کارکردگی

هفته 31  اگست 2019ء
اداریہ
ایک رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں قائم 167ماڈل کورٹس نے صرف پانچ ماہ کے دوران قتل اورمنشیات فروشی کے 12548مقدمات کا فیصلہ کیا ہے‘ ان کیسوںمیں 4897قتل اور 7687منشیات کے مقدمات تھے‘ اس عرصے کے دوران ان مقدمات میں 55ہزار سے زائد شہادتیں ریکارڈ کی گئیں۔ یہ اعداد و شمار اس امر کے غماز ہیں کہ رواں سال اپریل میں قائم کی گئی یہ ماڈل کورٹس مفید اور کارآمد ثابت ہوئی ہیں، ان کے مقدمات نمٹانے کی رفتار بھی انتہائی قابل رشک رہی ہے۔ اس وقت ہمارے عدالتی نظام کا سب سے بڑا مسئلہ مقدمات کی بہتات ہے جبکہ
مزید پڑھیے


مظلوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑا پاکستان

هفته 31  اگست 2019ء
اداریہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے محاصرے اور جبر کے شکار کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے پورا پاکستان جمعہ کے دن دوپہر بارہ سے ساڑھے بارہ بجے تک سڑکوں پر آ گیا۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے بزرگ چیئرمین جناب سید علی گیلانی نے دو ہفتے قبل پاکستان سے مدد کی اپیل کی تھی۔ اس اپیل کے جواب میں وزیر اعظم نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر آور کا اعلان کیا اور ساتھ ہی دنیا پر واضح کیا کہ کوئی کشمیریوں کا ساتھ دے نہ دے پاکستانی قوم آخری حد تک اہل کشمیر کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
مزید پڑھیے


جمعتہ اُلمبارک سے پہلے بیلسٹک ؔمیزائل غزنویؔ مُبارک!

هفته 31  اگست 2019ء
اثر چوہان
معزز قارئین!۔ حسب پروگرام وزیراعظم عمران خان کی اپیل پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے پوری قوم نے ، "Kashmir Hour" منایا۔ الیکٹرانک میڈیا پر سب کچھ دِکھایا ، سُنایا گیا اور آج ( ہفتہ کے دن ) قومی اخبارات میں اُس کی تفصیلات بھی شائع کی گئی ہیں لیکن، جمعہ سے ایک دِن پہلے 29 اگست کو ملکی دفاع کو مزید مضبو ط بنانے کے لئے ایک اور قدم اُٹھاتے ہُوئے ، پاکستان نے ’’ فاتح سومناتھ ‘‘ غزنی کے سُلطان محمود غزنوی (998ئ۔ 1030ئ) کے نام پر۔ ’’زمین سے زمین پر مارنے والے "Ballistic Missile" غزنوی
مزید پڑھیے


معاشی صورتحال؟

هفته 31  اگست 2019ء
عا رف نظا می
حکومتی عمائدین چند دنوں سے خود کو مبارکبادیں دے رہے تھے کہ بالآخر اکانومی مستحکم بنیادوں پر کھڑی ہونا شروع ہو گئی اور نئی اقتصادی ٹیم کے وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں مثبت اقدامات کے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔اس ضمن میں سٹاک ایکسچینج کے حوالے دئیے جا رہے تھے کہ ریکارڈ خسارے میں جانے کے بعد اوپر جانا شروع ہو گئی ہے۔پاکستان میں سٹاک ایکسچینج کا بھی ماجرا عجیب ہے،یہ محض ایک جوا ہے اور اس کے بلند ہونے کی بنیاد پر دعویٰ کرنا کہ اقتصادی حالت درست ہو گئی ہے خود کو طفل تسلی دینے کے
مزید پڑھیے


کشمیریوں سے یکجہتی ، بروز جمعہ!"Quick March"

جمعه 30  اگست 2019ء
اثر چوہان
معزز قارئین!۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا آئندہ اجلاس 17 ستمبر 2019ء کو شروع ہونے والا ہے ۔ شیڈول کے مطابق 27 ستمبر کو وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے اور 28 ستمبر بھارتی وزیراعظم مسٹر نریندر مودی ۔ 27 ستمبر کو ’’جمعتہ اُلمبارک ‘‘ (Friday) ہوگا اور 28 ستمبر کو ’’ہفتہ ‘‘ (Saturday) ۔ جمعتہ اُلمبارک کو ہم مسلمان اپنی اپنی قریبی مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کرتے ہیں ۔ ماہِ رمضان کے آخری جمعہ کو ’’ جمعتہ الوداع ‘‘ کہا جاتا ہے ۔ جمعہ کی فضیلت یہ ہے کہ ’’ یہ دِن
مزید پڑھیے


سیلاب اور دریائے سندھ

جمعه 30  اگست 2019ء
ظہور دھریجہ
سندھی لینگویج اتھارٹی حیدر آباد کے احسان خان لغاری اور مہر سرمد حسین سندھی ملتان آئے۔ جھوک سرائیکی میں ظہرانے کا اہتمام کیا گیا، ظہرانے میں پیر آف کوٹ مٹھن شریف خواجہ غلام فریدکوریجہ‘ ماہر لسانیات پروفیسر شوکت مغل اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ میزبانی کے فرائض راقم الحروف نے سر انجام دیئے۔ احسان خان لغاری نے سندھ اور وسیب کے تاریخی‘ جغرافیائی‘ ثقافتی‘ لسانی و تہذیبی روابط کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ کہا کہ سندھ میں سیلاب کا خطرہ ہے۔مگر وسیب پانی کے مسئلے کا سب سے بڑا فریق ہے اور سب سے زیادہ نقصان بھی وسیب
مزید پڑھیے


مجھ سا جہاں میں کوئی نادان بھی نہ ہو

جمعه 30  اگست 2019ء
ارشاد احمد عارف
طارق چودھری نے پتے کی بات کی۔ کہا ’’ایک جنگ بتا دیں جو کسی ریاست نے مضبوط معیشت اورخوشحالی کی بنا پر جیتی ہو‘‘ مشتاق چودھری کے اعزاز میں برادرم حفیظ اللہ نیازی نے عشائیہ کا اہتمام کیا تھا اور مخدوم جاوید ہاشمی و مجیب الرحمن شامی سمیت طارق چودھری ‘ میاں خالد اور مشتاق چودھری کے بیشتراحباب شریک محفل تھے۔ دگرگوںپاکستانی معیشت اور بھارتی جارحیت کے خطرات ایک ساتھ زیر بحث تھے۔ ان دنوں بھارتی شردھالو اور عمران مخالف حلقے ایک ہی بات شد ومد سے کہہ رہے ہیں کہ اگر خدانخواستہ جنگ چھڑ گئی پاکستان کا کیا بنے
مزید پڑھیے


مسز خان کی غلطی اور لنڈے کی فیمیزم

جمعه 30  اگست 2019ء
سعدیہ قریشی
الیکٹرانک میڈیا پر آنے والے سیاسی ٹاک شوز ہوں یا پھر سماجی موضوعات پر ترتیب دیئے جانے والے مارننگ شوز‘ سب بدترین بھیڑ چال کا شکار ہیں۔ کہیں کہیں کوئی استثنا موجود ہو تو کچھ کہہ نہیں سکتی کہ میں نے اب اپنے وقت کو قیمتی جان کر ٹی وی سکرین پر بار بار کے دھراتے ہوئے ٹاک شوز دیکھنا تقریباً چھوڑ دیئے ہیں۔ مارننگ شوز تو زمانہ ہوا نہیں دیکھے۔ لیکن جو بات کچھ متنازعہ ہو وہ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم سے پتہ چل جاتی ہے۔پروگراموں میں بلائے جانے والے مہمانوں کو مدعو کرتے وقت یہ نہیں دیکھا
مزید پڑھیے


جنگ نہیں‘ دھرنا

جمعه 30  اگست 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
شیخ رشید نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں پاک بھارت جنگ دیکھ رہے ہیں، تشبیہ اور استعارے کی زبان ہے۔ دراصل وہ نومبر میں مولانا فضل الرحمن کا مارچ اور دھرنا دیکھ رہے ہیں۔ وہ اور ان کی حکومت خود کو پاکستان اور اپوزیشن کو بالخصوص مولانا کو بھارت سمجھتی ہے اور بھارت کو پھر کیا سمجھتی ہے؟ وہی جو امریکہ نے سمجھنے کو کہا ہے۔ شیخ جی کو پتہ ہے کہ پاک بھارت جنگ کا ایک فیصد امکان بھی نہیں۔ جنگ نہ ہونے کا ضامن امریکہ ہے۔ وہی امریکہ جس نے کشمیر کے معاملے کو حتمی شکل دلوائی۔ لیکن
مزید پڑھیے






کالم نگار

اداریہ
اداریہ









سجاد میر
شہر آشوب

مستنصر حسین تارڑ
ہزار داستان

مجاہد بریلوی
شہر ناپرساں


مبشر لقمان
کھرا سچ

عبداللہ طارق سہیل
وغیرہ وغیرہ


بشریٰ رحمان
چادر چاردیواری اور چاندنی

نو شی گیلا نی
کا لم کہا نی


افتخار گیلانی
مکتوب دہلی

خاور نعیم ہاشمی
پردہ اٹھتا ہے


رضا رومی
رومی نامہ

انجم نیاز
یادداشت از امریکا



خاور گھمن
گھمن گھیریاں


سعید خا ور
حر ف درما ں

راوٗ خالد
رولا رپہ



اشرف شریف
شہر نامہ

ایچ اقبال
ایچ اقبال


قدسیہ ممتاز
حرف تازہ




سعود عثمانی
دل سے دل تک

اثر چوہان
سیاست نامہ

عامر متین
عامر متین

ارشاد محمود
بات یہ ہے


ناصرخان
فرنٹ لائن

عدنان عادل
امروزوفردا

ذوالفقار چودھری
تیسری آنکھ

شاہین صہبائی
چلتے چلتے

رعایت اللہ فاروقی
گفتار و پندار

یوسف سراج
نقش قدم


عمر قاضی
لالہ صحرائ

عبدالرفع رسول
مکتوب سری نگر

احمد اعجاز
کہانی کی کہانی

خالد ایچ لودھی
دل کی باتیں

رحمت علی رازی
درون پردہ

وسی بابا
باتاں


راحیل اظہر
غبارِخاطر

محمد عامر رانا
اقلیم در اقلیم