BN

کالم



آج کے کالم 


  


کالم آرکیو



میں بہت شرمندہ ہوں

جمعه 30  اگست 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
یہ کہانی نہیں میری شرمندگی کی داستان ہے، لوگ مجھے ایک بہادر آدمی سمجھتے ہوں گے لیکن اس واقعہ نے مجھ پر ثابت کر دیا تھا کہ میں کتنا کمزور اور بے بس شخص ہوں،کاش اس دن جب یہ واقعہ رونما ہوا تھا، اس دن کا سورج ہی نمودار نہ ہوتا، کاش میں اس دن بھی سماج سے بغاوت کر دیتا اور ایک بیٹی کے مکالمے پر زندگی قربان کرکے اسے سینے سے لگا لیتا اور اسے اپنے وجود کا حصہ بنا لیتا،پتہ نہیں آج وہ کہاں ہوگی؟ کس حال میں ہوگی؟ پچیس سال بیت گئے ہیں اس سے
مزید پڑھیے


پیپلز پارٹی میں فارورڈ بلاک

جمعه 30  اگست 2019ء
عمر قاضی
جس دن پیپلز پارٹی نے سندھ میں تیسری بار حکومت بنائی تھی، اس دن سے پیپلز پارٹی میں فارورڈ بلاک کی باتیں ہونا شروع ہوئیں۔ وہ باتیں اب تک چل رہی ہے۔ سندھی زبان میں کہاوت ہے کہ ’’کنوؤں اور لوگوں کے منہ کون بند کرسکتا ہے؟‘‘ اب اس کہاوت میں کچھ ترمیم کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ کنوؤں کے منہ تو کسی طور پر بند بھی ہوسکتے ہیں مگر لوگوں کے منہ بند کرنا ممکن نہیں۔ خاص طور اس صورت میں جب سوشل میڈیا ہر پل ایک نئے افواہ کا پرندہ اڑاتا ہے۔سوشل میڈیا کے بس میں ہو تو
مزید پڑھیے


خیال سے وجود تک

جمعه 30  اگست 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
میرے کالم ’’دام خیال‘‘ کا عنوان برسوں پہلے محمد صلاح الدین شہید نے تجویز کیا تھا۔ لہٰذا بعد میں جہاں کہیں بھی میں نے لکھا اسی عنوان سے لکھا۔ کبھی غور نہیں کیا کہ اس عنوان کے معنی کیا ہیں؟ دام خیال یعنی خیالات کا جال کیا ہے اور مرزا غالب نے جو اس شعر میں ہستی کے فریب میں نہ آنے سے روکا‘ منع کیا‘ یہ کہہ کر کہ ع ہستی کے فریب میں آ جائیو اسدؔ کیوں کہ عالم تمام حلقہ دام خیال ہے۔ تو یہ ہستی کا فریب کیا ہے اور سارا عالم اور
مزید پڑھیے


بااثر صنعت کاروں کو 208ارب روپے کی معافی کیوں؟

جمعه 30  اگست 2019ء
اداریہ
اسلام آباد سے روزنامہ 92نیوز کی رپورٹ کے مطابق صدارتی آرڈیننس کے ذریعے بااثر صنعت کاروں‘ کھاد فیکٹریوں ‘ سی این جی سٹیشنزاور پاور پلانٹس کے مالکان کو 208ارب روپے معاف کر دیے گئے ہیں۔ یہ رقم مختلف کمپنیوں اور صنعت کاروں نے انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سرچارج کی مدمیں غریب کسانوں اور عوام سے پانچ سال کے دوران وصول کیے تھے۔ حکومتی اقدامات سے لگتا یہی ہے کہ سارے دکھ اٹھانے کے لئے ملک میں صرف غریب طبقہ ہی رہ گیا ہے۔ بڑے مگرمچھ تو کسی نہ کسی طرح اپنی گردن چھڑا لیتے ہیں۔ کیا عوام پوچھ سکتے ہیں کہ ان
مزید پڑھیے


پاک ایران گیس منصوبے کیلئے تیسرا معاہدہ کرنیکا فیصلہ

جمعه 30  اگست 2019ء
اداریہ
پاکستان اور ایران نے امریکی پابندیوں کے باوجود ایک بار پھر آئی پی گیس پائپ لائن منصوبے کو 2024 ء تک مکمل کرنے کے لئے تیسرا معاہدہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 11 مارچ 2013ء کو پاکستان اور ایران کے صدور نے پاکستانی علاقے میں پاک ایران گیس پائپ لائن بچھانے کا افتتاح کیا تھا۔ ایران اپنے علاقے میں پہلے ہی لائن بچھانے کا کام مکمل کر چکا ہے بلکہ پاکستان کو 50 کروڑ ڈالر قرض کی حامی بھی بھری تھی۔ 22 ماہ میں منصوبے کی تکمیل کے بعد پاکستان میں توانائی کا بحران ختم ہونے کی امید تھی
مزید پڑھیے


کشمیریوں کیساتھ اظہار یکجہتی کا دن

جمعه 30  اگست 2019ء
اداریہ
وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر آج پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے 12سے ساڑھے بارہ بجے تک آدھے گھنٹے کے لئے سڑکوں پر آئے گی، جس کا مقصد پوری قوم کی طرف سے کشمیریوں کو اپنی حمایت کی یقین دہانی کرانا ہے۔ اس موقع پر ہر طرف قومی اور کشمیر کے ترانے گونجیں گے دوسری جانب ڈی جی آئی ایس پی آر نے اعلان کیا ہے کہ اس بار’’ کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ یوم دفاع کی تقریبات کا حصہ ہو گا۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد مودی سرکار نے وادی کو
مزید پڑھیے


نیم حکیم اور نیم ملا

جمعرات 29  اگست 2019ء
محمد حسین ہنز ل
ذات انسان ابتدائے آفرینش سے دوحیثیتوں کی حامل رہی ہے ۔ایک جسمانی حیثیت اور دوسرا روحانی ۔جسم کو بھی مرض لاحق ہوسکتاہے اور روح بھی مختلف امراض میں گھر سکتی ہے ۔جسمانی امراض کی مسیحائی ماضی میں حکیم اور آج کل ڈاکٹر حضرات کراتے ہیں جبکہ روحانی امراض کا علاج ان لوگوں کاکام ہوتاہے جو الٰہامی والٰہی علوم کے ماہر ہوتے ہیں۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ معاشرے میں ان دو مسیحاوں کا کردار ہر دورمیں انتہائی اہم اور ناگزیر رہاہے ۔ اول الذکر مسیحا یعنی حکیم اگر نااہل ہو اور علاج کرانے میں غلطی وکوتاہی
مزید پڑھیے


"میزبان نے کہا"

جمعرات 29  اگست 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
میں نے گپ شپ آگے بڑھاتے ہوئے پوچھا "آپ کو شمال والوں پر اعتماد ہے ؟"وہ یقین سے بھرپور لہجے میں بولے"جی ہاں ہے ! جب وہ ماسکو میں بات چیت کے لئے آرہے تھے تو طالبان نے شرط رکھی کہ آپ کسی تنظیم کے نمائندے کی حیثیت سے نہیں آئیں گے۔ بطور افغان آپ سب کا ذاتی قد کاٹھ ہے اور ہم اس کی قدر کرتے ہیں، آپ ذاتی حیثیت میں بھی ہمارے لئے قدر و منزلت رکھتے ہیں۔ انہوں نے طالبان کی یہ گزارش تسلیم کی، اور ذاتی حیثیت میں آئے۔ بات چیت بھی مثبت اور تعمیری ہوئی"میں نے
مزید پڑھیے


دو اہم کامیابیاں

جمعرات 29  اگست 2019ء
قدسیہ ممتاز
بات دو ٹوک اور سیدھی ہے۔بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنا اور مقبوضہ کشمیر میں فیصلہ کن لشکر کشی درحقیقت پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازعہ کشمیر پہ یکطرفہ بھارتی قبضہ ہے۔ اسے کچھ اور سمجھنا نرم ترین الفاظ میں حماقت ہے۔بھارت اپنے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف وزری کرکے دو اہداف حاصل کررہا ہے۔ ایک اصل کارروائی یعنی مقبوضہ کشمیر پہ بھارتکے آئینی قبضے سے دنیا کی توجہ ہٹانا۔دوم۔ مقبوضہ علاقے میں مسلمانوں کی ایسی نسل کشی جس سے علاقے کی ڈیمو گرافی تبدیل ہو سکے
مزید پڑھیے


شکّر گنج جیؒ !۔ تُہاڈی ملنگنی ، شکّر کِیویں ، وَنّڈے؟

جمعرات 29  اگست 2019ء
اثر چوہان
پرسوں (27 اگست کو ) پاک پنجاب کے شہر پاکپتن میں چشتیہ سلسلہ کے ولی اور پنجابی زبان کے پہلے شاعر حضرت فرید اُلدّین مسعود المعروف بابا فرید شکر گنج ؒ کے 777 ویں عُرسِ مبارک کی تقریبات کا آغاز ہو گیا ہے ۔ خبروں کے مطابق دربار کے سجادہ نشین ، دیوان مودود مسعود چشتی نے عُرس مبارک کے پہلے روز زائرین میں برکات تقسیم کیں توفضا ’’ حق فرید ؒ ، یا فریدؒ ‘‘ کے نعروں سے گونج اُٹھی ۔ پاکپتن میں آسودۂ خاک ، بابا فرید شکر گنج ؒ کی زندگی کا خاص پہلو
مزید پڑھیے


کیا اقوام متحدہ کی قراردادیں بے معنی ہو چکی ہیں؟

جمعرات 29  اگست 2019ء
آصف محمود
بعض حلقوں کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ شملہ معاہدے کے بعد اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کوئی حیثیت نہیں رہی۔ اس معاہدے میں ہم بھارت کے ساتھ اپنے تنازعات کو دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی بات کر چکے ہیں اور اب یہ ایک دو طرفہ معاملہ ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادیں اب کوئی اہمیت نہیں رکھتیں کیونکہ ویانا کنونشن کے آرٹیکل 59 کے تحت جب فریقین باہم کوئی نیا معاہدہ کر لیتے ہیں تو پرانا معاہدہ کالعدم سمجھا جاتا ہے۔ یہ موقف درست نہیں ہے۔ اس کے ابلاغ کی دو ہی صورتیں ہو سکتی
مزید پڑھیے


موجودہ صورت حال اور کشمیری پنڈتوں کا کردار

جمعرات 29  اگست 2019ء
افتخار گیلانی
معروف مورخ جادو ناتھ سرکار کے مطابق مغل سلطنت کے دوران کشمیری مسلمانوں کو امور سلطنت سے دور رکھا گیا۔ اس طرح کشمیر کے بطن سے مغلوں نے ایک قابل اعتبار Fifth Coloumnistوطن فروش گھر کا بھیدی پیدا کیا۔ مسلمانوں پر فوج کے دروازے بند تھے، مگرپنڈتوں کیلئے کھلے تھے۔ کشمیری میرو پنڈت تو نو ر جہاںکی ذاتی فوج کا نگران اعلیٰ تھا۔ پنڈتوں کی یہ بالا دستی اورنگ زیب کے دور میں بھی جاری تھی۔ اس کے دربار میں مہیش شنکر داس پنڈت کا خاصا اثر و رسوخ تھا۔ افغان دورکی ظلم و ستم کی کہانیاں جہاں کشمیر میں
مزید پڑھیے


ہمارے ارتقاء کی کہانی

جمعرات 29  اگست 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
یہ خبر ہمارے ارتقا کی کہانی کا عنوان ہے۔ خبر یہ ہے کہ ایف بی آر حکام نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ پانامہ لیکس میں جو 444کیس سامنے آئے تھے‘ ان میں سے 150کا سراغ ہی نہیں ملا جبکہ باقی میں سے 242زائد المعیاد ہوچکے اس لئے کارروائی نہیں ہو سکتی۔ 46پھر بھی باقی رہ گئے ان کے خلاف کارروائی کا ارادہ نہیں یا ضروری نہیں‘ حکام نے اس پر کچھ نہیں بتایا۔ کل ملا کے کہانی کا خلاصہ یہ نکلا کہ 444ناموں میں سے ایک کے خلاف بھی کارروائی نہیں ہوئی حالانکہ غل یہی مچا
مزید پڑھیے


روٹی

جمعرات 29  اگست 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
منظر انقلاب فرانس کا ہو‘ ہندوستان کا ہو یا آج کے پاکستان کا ‘ انسانوں کی ساری دوڑ دھوپ ایک شے کے لئے ہوتی ہے جسے ’’روٹی‘‘ کہتے ہیں۔ جب اٹھارویں صدی کے آواخر میں فرانس کے عوام بادشاہ اور کلیسا کے گٹھ جوڑ کے خلاف پارلیمنٹ سے نکل کر سڑکوں پر آ گئے تھے تب ایک فرانسیسی شہزادی نے ایک جملہ کہہ کر عوام کے غیظ و غضب میں مزید شدت پیدا کر دی تھی۔ شہزادی نے کہا تھا کہ ان لوگوںکو روٹی نہیں ملتی تو یہ کیک کھائیں۔ عین اسی زمانے میں ہندوستان کے شاعر نظیر اکبر آبادی
مزید پڑھیے


ڈر…جو ہمیں کھا گئے

جمعرات 29  اگست 2019ء
محمد اظہارالحق
آپ گاڑی چلا رہے ہیں۔ یہ بڑی شاہراہ ہے جسے ’’مین روڈ‘‘ کہتے ہیں سامنے ‘ بائیں ہاتھ پر‘ ایک چھوٹی سڑک اس بڑی شاہراہ سے مل رہی ہے۔ اس چھوٹی سڑک پر ایک گاڑی عین اس وقت نمودار ہوتی ہے جب آپ موڑ پر پہنچنے والے ہیں۔ آپ کو ڈر لگتا ہے کہ اگر چھوٹی سڑک سے آنے والی گاڑی نہ رکی اور مین روڈ پر چڑھ آئی تو آپ کی گاڑی سے ٹکر لگے گی اس ڈر سے آپ بریک لگاتے ہیں ۔چھوٹی گاڑی والا ایک ثانیے کے لئے بھی نہیں رکتا۔ بس یہی وہ ڈر ہے جو
مزید پڑھیے






کالم نگار

اداریہ
اداریہ









سجاد میر
شہر آشوب

مستنصر حسین تارڑ
ہزار داستان

مجاہد بریلوی
شہر ناپرساں


مبشر لقمان
کھرا سچ

عبداللہ طارق سہیل
وغیرہ وغیرہ


بشریٰ رحمان
چادر چاردیواری اور چاندنی

نو شی گیلا نی
کا لم کہا نی


افتخار گیلانی
مکتوب دہلی

خاور نعیم ہاشمی
پردہ اٹھتا ہے


رضا رومی
رومی نامہ

انجم نیاز
یادداشت از امریکا



خاور گھمن
گھمن گھیریاں


سعید خا ور
حر ف درما ں

راوٗ خالد
رولا رپہ



اشرف شریف
شہر نامہ

ایچ اقبال
ایچ اقبال


قدسیہ ممتاز
حرف تازہ




سعود عثمانی
دل سے دل تک

اثر چوہان
سیاست نامہ

عامر متین
عامر متین

ارشاد محمود
بات یہ ہے


ناصرخان
فرنٹ لائن

عدنان عادل
امروزوفردا

ذوالفقار چودھری
تیسری آنکھ

شاہین صہبائی
چلتے چلتے

رعایت اللہ فاروقی
گفتار و پندار

یوسف سراج
نقش قدم


عمر قاضی
لالہ صحرائ

عبدالرفع رسول
مکتوب سری نگر

احمد اعجاز
کہانی کی کہانی

خالد ایچ لودھی
دل کی باتیں

رحمت علی رازی
درون پردہ

وسی بابا
باتاں


راحیل اظہر
غبارِخاطر

محمد عامر رانا
اقلیم در اقلیم