BN









کالم


آج کے کالم 


  


کالم آرکیو


کشمیر میں نسل کشی پر انتباہ

پیر 23 نومبر 2020ء
عبدالرفع رسول
اسلامیان جموںو کشمیرقابض بھارتی فوج کے حصاراوراس کے نرغے میں بدستوریرغمال ہیں اور پھڑپھڑارہے ہیں۔وہ ’’جائے ماندن نہ پائے رفتن‘‘ والی اضطراری کیفیت کے شکار ہیں۔ 73 برسوں سے وہ لگاتار اقوام متحدہ کی زنجیر ہلانے کی کوشش بسیارکررہے ہیں،لیکن یہ زنجیر ایسی جگہ پر آویزاں ہے جہاں ایسٹ تیموراورجنوبی سوڈان کے مسیحیوںکے ہاتھ پہنچ توجاتے ہیں مگرارض کشمیرکے فریادیوں کے رسائی اس تک ممکن نہیں ۔چندبرس قبل اقوام متحدہ کی یہ زنجیرہل گئی اورمشرقی تیمور جوانڈونیشیاکاباضابطہ طورحصہ تھاکو ریفرنڈم کے ذریعے مسلمان ملک انڈونیشیاسے کاٹ کر الگ کردیاگیا۔عین اسی طرح جنوبی سوڈان کومسلم مملکت سوڈان سے کاٹ دیاگیااوردونوں خطوں
مزید پڑھیے


عاشق رسولؐ کا جنازہ

پیر 23 نومبر 2020ء
سجاد میر
میرے منہ سے بے ساختہ نکلا یہ ایک عاشق رسولؐ کا جنازہ تھا۔ اسے محض مسلمانوں کا اجتماع نہ سمجھو‘یہ عاشقان رسولؐ کا اجتماع تھا۔ اس بنیادی سے نکتے پر ذرا گہرائی سے غور کرو تو اس راز کو پا سکو گے کہ اسلام کس چیز کا نام ہے۔ کہتے ہیں یہ لاہور کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا۔ صرف جنازہ ہی نہیں‘ایسا اجتماع بھی چشم فلک نے کبھی نہیں دیکھا۔مجھے احمد بن حنبل کا ایک قول یاد دلایا گیا کہ کسی عالم کی دربار حق میں قبولیت کا اندازہ لگانا ہو تو اس کی نماز جنازہ سے
مزید پڑھیے


جنازوں کا فرق

اتوار 22 نومبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
مینار پاکستان گرائونڈ میں ہونے والا علامہ خادم حسین رضوی کا جنازہ افراد کی شرکت کے حوالے سے ایک غیر معمولی ، تاریخ ساز اجتماع تھا۔پاکستان کی تاریخ کے چند یادگار جنازوں میں سے ایک۔لاہور کی تاریخ میںجنازے کے دو چار بہت بڑے اجتماع ہوئے ہیں، علامہ خادم رضوی کا جنازہ ان سے زیادہ نہیںتو، ان میں سے ایک ضرور ہے۔ تقسیم سے پہلے غازی علم الد ین شہید کا جنازہ تاریخ ساز تھا، ویسے اجتماع کی مثال اس سے پہلے نہیں ملتی ۔ عاشق رسول ﷺ کے آخری سفر کے لئے خلق خدا امڈآئی تھی۔ علامہ اقبال کا جنازہ
مزید پڑھیے


عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

اتوار 22 نومبر 2020ء
ارشاد احمد عارف
علامہ حافظ خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ میں انسانوں کے بے کراں ہجوم کو دیکھ کر امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول یاد آیا‘ فرمایا ’’ہمارے بعد ہمارے جنازے فیصلہ کریں گے کہ حق پر کون تھا؟‘‘ ہم سب نے تحریک لبیک کے سربراہ اور بریلوی مسلک کے عالم دین کی نماز جنازہ سمجھ کر قیاس کے گھوڑے دوڑائے‘ حافظ خادم حسین رضوی کی چار پانچ سالہ سیاسی جدوجہد کو عوامی مقبولیت کے ترازو میں تولا اور 2018ء کے انتخابات میں تحریک لبیک کی انتخابی ناکامی کے علاوہ لاہور کے دھرنے میں پیر افضل قادری
مزید پڑھیے


اسد دُرانی کی باتیں

اتوار 22 نومبر 2020ء
عدنان عادل
لیفٹیننٹ جنرل (ر)اسد درانی کی تازہ کتاب ’آنر امنگ دی اسپائز‘ (جاسوسوںمیں عزت و وقار) سے یہ تاثر ملتا ہے کہ پاکستانی ریاست اسامہ بن لادن کوامریکی حملہ میں ہلاک کرنے کے واقعہ میں شریک تھی۔ اسد درانی نے بھارتی میگزین ’دی ویک‘ میں اپنی کتاب کے بارے میںدیے گئے انٹرویومیں کہا ہے کہ انکی اس کتاب میں یہی بات سب سے زیادہ سچ کے قریب ہے۔ انکا کہنا ہے کہ انکے ایک ساتھی کو سرکاری طور پر اس معاملہ میں رسائی حاصل تھی لیکن وہ ہر بات جو اُس نے دیکھی بتانے کو تیار نہیں لیکن انکے دوست
مزید پڑھیے


دھرنوں کی سیاست

اتوار 22 نومبر 2020ء
بریگیڈئیر (ر)ارشد ملک
چند روز قبل پھر سے اسلام آباد کو ایک دھرنے نے اپنی جکڑ میں لے لیا تھا۔ یہ دھرنا تقریباً 40گھنٹے رہا اور راولپنڈی اسلام آباد کے شہریوں کو مفلوج کر کے رکھ دیا گیا۔ حکومت سے مذاکرات کے بعد یہ دھرنا ختم ہوا۔ مذاکرات میں طے پایا کہ جلد پارلیمنٹ کا اجلاس بلا کر فرانس کے سفیر کو ملک بدر کیا جائے گا‘ پاکستان اپناسفیر فرانس نہیں بھیجے گا۔ پاکستان میں سرکاری سطح پر فرانس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے گا ۔جس کے بعد تحریک لبیک کا دھرنا ختم ہو گیا۔ یہ دھرنا تو ختم ہوا لیکن اب
مزید پڑھیے


ایک عاشق رسولؐ کا سفر آخرت

اتوار 22 نومبر 2020ء
سعدیہ قریشی
حیران کن سفر آخرت لاکھوں کا مجمع‘ تاحد نظر لوگ ہی لوگ جو سچے عاشق رسول کے ساتھ محبت اور عقیدت کی ڈور میں بندھے تھے۔ لاہور کی تاریخ بلکہ شاید پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ علامہ خادم رضوی کو نصیب ہوا جو دنیاوی حیثیت سے ماورا ایک سچے عاشق رسول تھے۔ ہر زندگی گزارنے والے کو موت کے پار اترنا ہے۔ جب موت اسے زندگی سے دور لے جاتی ہے تو جانے والے کو جن الفاظ میں یاد کیا جاتا ہے وہ اصل میں اس کے وہ نظریات وہی خواب وہی خواہشیں ہوتی ہیں جن
مزید پڑھیے


’’پاکستان ، امریکہ یا روس‘‘

اتوار 22 نومبر 2020ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
بین الاقوامی تعلقات میں دفاع یا دشمن سر زمینوں پر قبضے کی خواہش پہلا مقصد ہے ، تجارت اورمعاشی فوائد بعد کی باتیں بعد میں ہیں، پاکستان کو مشرق میں بھارت اور مغرب میں روس سے خطرہ در پیش تھا، اس خطرے نے 1970ء میں عملی شکل اختیار کرلی ، جب اندرا گاندھی کے دورۂ ماسکو میں دفاعی معاہدہ طے پایا، یہ دفاعی معاہدہ امریکہ کے خلاف تھا نہ چین کے، بلکہ یہ پاکستان کے حصے بخرے کرنے کی دستاویز تھی، ان خطرات کی پیش بینی کرتے ہوئے ہماری قیادت نے امریکہ کا اتحادی بننا قبول کیا، اولاً امریکہ اپنے
مزید پڑھیے


وبائی قاعدہ (2)

اتوار 22 نومبر 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ہم وبا لکھتے رہے ، وہ وفا پڑھتے رہے ایک ہی غلطی نے ہمیں محرم سے مُجرم کر دیا کہتے ہیں وبا اور وفا پلٹ کے آ جائے تو اس میں زیادہ شدت اور حدت ہوتی ہے۔ ان دونوں میں ایک قدر مشترک یہ بھی کہ دونوں نظر نہیں آتیں، صرف اثرات چھوڑتی ہیں۔ سب سے اہم بات یہ کہ دونوں بعض حالات میں جان لیوا ثابت ہوتی ہیں۔ ان میں فرق صرف یہ ہے کہ وفا ایک انفرادی عمل بھی ہو سکتا ہے جب کہ وبا اجتماعی طور پر اثر انداز ہوتی ہے۔ سچ بات تو یہ ہے کہ یہ انسان
مزید پڑھیے


نیتوں کا فتور

اتوار 22 نومبر 2020ء
اوریا مقبول جان
اشفاق احمد صاحب بلا کے مجلسی آدمی تھے۔ کہانی لکھنے میں تو تحریر کے آسمان کا درخشندہ ستارہ تھے ہی مگر کہانی کہنے اور داستان بیان کرنے کے فن میں بھی کوئی دور تک ان کا ہم پلّہ نظر نہیں آتا۔ برصغیر پاک و ہند کی اردو زبان کی تاریخ میں کوئی ایسا جامع الصفات ادیب پیدا نہیں ہوا جو بیک وقت اعلیٰ درجے کا افسانہ تحریر کرے، ڈرامہ لکھنے لگے تو اس جیسا منظر نامہ، کردار نگاری اور مکالمے کوئی اور نہ لکھ پائے۔ صدا کاری کے میدان میں اپنے لیئے خود تلقین شاہ کا کردار منتخب کرے،
مزید پڑھیے


پنجاب حکومت کا باہمت بزرگ پروگرام، مستحسن اقدام

اتوار 22 نومبر 2020ء
اداریہ
وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے صوبے میں 65سال کے بزرگ خواتین اور مردوں کو 2ہزار روپے ماہانہ معاونت فراہم کرنے کے لئے باہمت بزرگ پروگرام کے آغاز کی تقریب کے دوران کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے ریاست مدینہ کا جو تصور دیا ہم اس کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ مہذب معاشروں میں بزرگوں کی رہائش خوراک اور صحت کی ذمہ داری ریاست اٹھاتی ہے۔ اس مقصد کے لئے بزرگوں کو مناسب وظیفہ فراہم کیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی باقی ماندہ زندگی کسی قسم کی محتاجی کے بغیر سکون سے گزار سکیں۔ پاکستان میں خاندانی نظام
مزید پڑھیے


سی پیک منصوبے اور چین کا اعلان

اتوار 22 نومبر 2020ء
اداریہ
چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان جیان زائو نے کہا ہے کہ چین پاکستان کی عالمی انسداد دہشت گردی کی مثبت کاوشوں کا متعرف ہے، سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی تمام سازشیں ناکام بنا دیں گے۔ سی پیک منصوبہ خطہ کے لئے گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے خطہ میں باہمی ترقی کے اصولوں پر قائم اس منصوبے کے آغاز میں ہی چین نے پاکستان کے ساتھ دیگر پڑوسی ممالک بشمول بھارت کو اس منصوبے میں شامل ہونے کی پیش کش کی تھی مگر بھارت نے پاکستان کی روایتی دشمنی کی وجہ سے نہ صرف سی پیک میں
مزید پڑھیے


بھارتی مسلمانوں کی نسل کشی کا خدشہ

اتوار 22 نومبر 2020ء
اداریہ
واشنگٹن میں ’’نسل کشی ا ور بھارتی مسلمان‘‘کے موضوع پر ہونے والے بین الاقوامی سیمینار میں عالمی ماہرین نے بھارت میں آباد 20کروڑ مسلمانوں کی نسل کشی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ بین الاقوامی تنظیم جینو سائیڈ واچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے‘ مقالہ نگار ٹینارمریز نے کہا کہ مسلم آبادی پر ظلم مسلمانوں کی معاشی حالت کو بدتر بنا رہا ہے‘ بین الاقوامی ماہر ڈاکٹر الیاس کا کہنا تھا کہ بھارت کے مسلمانوں کو ان کے آئینی حقوق دینے سے انکار کیا جا رہا ہے۔ یہ پہلا موقع
مزید پڑھیے


صحافتی اقدار کا جنازہ!!

اتوار 22 نومبر 2020ء
ملیحہ ہاشمی
"بادشاہ کا وزیر کون؟ جی حضور، جی حضور"۔ یہ ہمارے بچپن میں سب سے زیادہ مقبول کھیل کا مشہور فقرہ ہوا کرتا تھا، جسے ہم بچپن میں تو محض کھیل ہی گردانتے تھے لیکن جیسے ہی ہوش سنبھالا تو اقتدار کے ایوانوں کو اس کی زندہ جاوید مثال کے مصداق پایا۔ہر دور میں ہم نے دیکھا کہ حکومت خواہ کسی بھی جماعت کی کیوں نہ ہو، ہر صحیح، غلط، نیم صحیح، نیم غلط فیصلے پر ہمیں "جی حضور" کہنے والے سیاسی کردار ترقی کی منازل سرعت سے طے کرتے ہوئے دکھائی دیے۔ ان میں کچھ سیاسی وزیر ہوا کرتے تھے
مزید پڑھیے


علیشا اور اس دیس کے اندھے حاکم

اتوار 22 نومبر 2020ء
ذوالفقار چودھری
اقوام کی تاریخ مہینوں برسوں میں نہیں دھائیوں اور صدیوں میں بنتی ہے۔ تاریخ انسانی گواہ ہے کہ قوم کے زوال سے پہلے اس معاشرے کا اخلاق تباہ ہوتا ہے۔ ایسے معاشرے میں انسان نہیں انسانیت مرتی ہے۔ جہاں انسانیت نہ ہو وہاں اچھائی اور برائی کا فرق ختم اور انسان خواہشات اور ہوس کے غلام بن جاتے ہیں۔ اصلاح احوال کے بجائے حالات کے ماتم کاچلن قوم کا وطیرہ بن جاتا ہے۔ سماج سے انصاف اٹھ جاتا ہے۔ ہمارا معاشرہ بدقسمتی سے اسی بے حسی اور بے راہ روی سے گزر رہا ہے ۔ ہمارا حال یہ ہے کہ
مزید پڑھیے