کابل، واشنگٹن ، استنبول ( نیو ز ایجنسیاں، نیٹ نیوز، 92 نیوز رپورٹ) افغانستان کے دارالحکومت کابل میں عیدالاضحیٰ کے دن نماز کی ادائیگی کے وقت صدارتی محل کے قریب راکٹ حملہ کردیا گیا، حملہ کے وقت محل میں عید کی نماز ادا کی جارہی تھی جسے جاری رکھا گیا۔ نماز میں صدر اشرف غنی اور دیگر اعلیٰ عہدیدار شریک تھے ۔ صبح 8 بجے کم از کم دو راکٹ داغے گئے ، ان کی آواز گرین زون تک سنی گئی۔ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اشرف غنی نے عیدالاضحیٰ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالبان نے ظاہر کردیا کہ وہ امن کی خواہش نہیں رکھتے ، اب اسی بنیاد پر فیصلے کریں گے ۔ ملک میں ملیشیا بنانے اور آمریت کی کوئی جگہ نہیں۔ افغانستان کی حالیہ صورتحال پر قابو پانے کے لئے منصوبہ بندی پر کام کررہے ہیں۔ واقعہ کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی۔ امریکہ نے فیصلہ کیا کہ افغانستان میں افواج کے ساتھ مترجم کا کام کرنے والے افغانوں کو ورجینیا کے فوجی اڈے پر پناہ دی جائے گی۔ ترجمان امریکی وزارت خارجہ نیڈ پرائس نے بتایا کہ مترجموں اور ان کے اہل خانہ سمیت2500 افغانوں کو پناہ دی جائے گی۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جن مترجموں اور ان کے اہل خانہ کی جانچ پڑتال مکمل ہوگئی ہے انہیں پناہ ملے گی۔ تمام اہل افراد کو آئندہ 10 روز میں منتقل کیا جائے گا۔نیڈ پرائس نے ایک نیوز کانفرنس میں تصدیق کی کہ پہلے مرحلہ میں تقریبا25سو افغان مترجم اور ان کے خاندان کو قلیل مدتی رہائش کے لئے امریکہ منتقل کیا جائے گا۔دوسری جانب طالبان کا کہنا ہے کہ اگر مترجمین دشمن کی صفیں چھوڑ دیں اور اپنے ہی ملک میں عام لوگوں کی طرح زندگی گزارنا چاہیں تو انھیں خطرہ نہیں ہوگا ۔نیڈ پرائس سے بریفنگ میں سوال کیا گیا کہ افغان سفارتکار کی پاکستان سے واپسی کے بعد پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں تناؤ آیا ، اس کے کیا اثرات ہونگے ، جواب میں نیڈ پرائس نے کہا افغانستان کے ہمسایوں کا کردار ہے اور انہوں نے افغان امن عمل میں ٹھوس تعاون کیا ہے ۔ حتمی کامیابی کیلئے افغانستان اور پاکستان کے تعلقات طویل عرصہ درست رہنا چاہیئں۔ترک صدر رجب طیب اردووان نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ شرائط کو پورا کریں جس میں مالی، لاجسٹک اور سفارتی مدد شامل ہے تاکہ ترکی افغانستان سے دیگر غیر ملکی فوجوں کے انخلا کے بعد کابل ائیرپورٹ کو چلا سکے اور اس کی حفاظت کر سکے ۔اردووان نے شمالی قبرص میں تقریر کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ طالبان کو تحفظات ہیں لیکن اس کے باوجود ترکی اس مشن کو اس وقت تک انجام دے گا جب تک کہ نیٹو کا شراکت دار امریکہ ترکی کی تین مخصوص ضروریات کو پورا کرے ۔افغان وزارت انٹیلی جنس اینڈ کلچر کے نگران قاسم وفائی زادہ نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ افغانستان میں ایک نئی ملیشیا کا اعلان ایک طرح کی سازش ہے ، ایرانی حکومت اس اقدام کے ساتھ وسیع تر جنگ کی جنگ جاری رکھنے کیلئے پیچیدہ ماحول تیار کر رہی ہے ۔افغان صدر کے ایک سینئر مشیر شاہ حسین مرتضوی نے کہا کہ ایران دہشت گرد طالبان تحریک کی شبیہ کو خوش نما بنا کر پیش کرنا چاہتا ہے اور دوسری طرف ملک میں بغاوت کو ہوا دے رہا ہے ۔ افغان وزارتِ دفاع نے 233 طالبان کی ہلاکت کا دعویٰ کردیا۔