لندن (غلام حسین اعوان ) باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ لندن میں پاکستان میں بازی پلٹنے کے حوالے سے خفیہ پلان ترتیب دیا جارہا ہے ، سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف اہم بااثر شخصیات سے لندن میں ملاقاتیں کر رہے اور حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے لیے پس پردہ ہوم ورک مکمل کیا جا رہاہے اور شہباز شریف فروری کے مہینے میں ہر صورت پاکستان آئیں گے ۔ بعض ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ شہباز شریف آئندہ ہفتے مسلم لیگی اہم رہنماؤں کا اجلاس لندن میں بلانے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ نمبرز گیم کے لیے حتمی مشاورت کی جائے ۔ مسلم لیگی ذرائع کا کہنا ہے شہباز شریف ہر صورت 15 فروری سے قبل پاکستان آئیں گے ۔ 92 نیوز نے شریف فیملی کے اہم فرد سے دریافت کیا کہ آرمی ایکٹ کے حوالے سے حکومت کا ساتھ دینے پر ان کی پارٹی کا مورال کم ہونے پر نواز شریف کا کیا موڈ ہے تو انہوں نے کہا کہ سیاسی حکمت عملی کے تحت بعض فیصلوں کی افادیت کا بعد میں پتہ چلتا ہے ، آنے والا وقت بتائے گا کہ کیا ٹھیک ہے اور کیا غلط ۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ مسلم لیگ کے سینئر اراکین میں اختلافات ختم کرنے کے لیے شہباز شریف خود رابطے میں ہیں اور بدلتی سیاسی صورتحال میں لیگی قیادت کو ایم کیو ایم اور بلوچستان کی پارٹیوں سے رابطوں کا ٹاسک بھی اہم لیگی رہنما کو سونپ دیا گیا ہے ۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حکومت کے خلاف تحریک اعتماد کو کامیاب بنانے کے لیے پیپلز پارٹی کو اہم وزارتیں اور سپیکر شپ بھی دی جا سکتی ہے ۔ جبکہ تحریک عدم اعتماد کامیاب بنانے کے لیے چھوٹے صوبے سے وزارت اعظمی کا امیدوار بنائے جانے کا امکان ہے ۔ تاہم پس پردہ مسلم لیگ ن شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کا امیدوار بنانے پر لابنگ کر رہی ہے ۔ 92 نیوزرپورٹ کے مطابق خواجہ آصف ،راناتنویر،راناثنااللہ اورخرم دستگیرجیسے رہنمائوں کو لندن بلایاجاسکتاہے ،پھرانہیں مختلف سیاسی جماعتوں سے رابطوں کاٹاسک دیاجائیگا ،ذرائع کے مطابق شہباز شریف سے پاکستان کی اہم شخصیات سے تین ملاقاتیں ہوئی ہیں،اہم شخصیات نے شہباز شریف کواشارہ دیا کہ اگرجمہوری طریقے سے حکومت تبدیل کرناچاہیں گے تو اسے کسی صورت سبوتاژ نہیں کیاجائیگا، آئندہ چند روزمیں پاکستانی سیاست میں کئی سیاسی بریک تھرودیکھنے کوملیں گے ۔