سپریم کورٹ کے حکم پر کراچی میں صدر کے علاقے میں تجاوزات کے خلاف شروع کیا جانے والا آپریشن دوسرے روز بھی جاری رہا جبکہ آپریشن کے تیسرے مرحلے کا آغاز گزشتہ روز کیا گیا۔ یہ آپریشن کے ایم سی اور شہری انتظامیہ کے حکام مشترکہ طورپر کر رہے ہیں جس کے دوران درجنوں غیرقانونی دکانیں، پتھارے اور سینکڑوں سائن بورڈز اورشیڈز گرا دیئے گئے تاہم اس دوران ٹریفک کی بدنظمی کے باعث ملحقہ سڑکوںپر شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا جبکہ دکانداروں اور پتھارے داروں نے آپریشن کے خلاف احتجاج بھی کیا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ملک کے قریباً تمام بڑے، چھوٹے شہروں اور قصبات میں غیرقانونی طور پر دکانیں، کاروباری مراکز اور پتھارے تعمیر کئے گئے خصوصاً کراچی، لاہور اور راولپنڈی میں بہت تجاوزات کی گئی ہیں جن کی وجہ سے متعلقہ علاقے اتنے گنجان اور تنگ ہو گئے ہیں کہ ان سے گزرنا بھی محال ہے جبکہ ان غیرقانونی تعمیرات سے لاکھوں اور کروڑوں کا کاروبار ہو رہا ہے اور ٹیکس کی مد میں ایک پیسہ بھی ادا نہیں کی جارہا۔ بعض جگہوں پر حقیقی مالکان کی زمین پر غیرقانونی افراد قابض ہیں جس کے باعث مقدمے بازی اور لڑائی جھگڑوں کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ آپریشن بلاشبہ بلاامتیاز تجاوزات کے خاتمے تک جاری رہنا چاہیے تاہم اس بات کو مدنظر رکھنا ہوگا کہ ٹریفک کا نظام خراب نہ ہو اور تجاوزات کے ملبہ کو علاقے سے جلد از جلد اٹھایا جائے تاکہ شہریوں کے معمولات زندگی اور آمدورفت متاثر نہ ہو۔