لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی کے میئر وسیم اخترنے کہا ہے کہ بدقسمتی سے کراچی کو اتناتوڑ مروڑ دیاگیا ہے کہ اس کا نظام نہیں چل سکتا ،میں سمجھتا ہوں کہ میرے پاس دس سے بارہ فیصد کراچی ہے تو کیسے کام چلے گا۔92 نیوز کے پروگرام جواب چاہئے میں میزبان ڈاکٹر دانش سے گفتگو کرتے ہوئے مئیر کراچی نے کہا کہ شہر کے ہسپتال میرے ماتحت ہیں جن میں خرچہ ہی خرچہ ہے ان سے آمدن نہیں ۔2001میں لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں بہت سے محکمے ناظم یا کراچی کے میئر کے پاس تھے لیکن بعد میں پی پی کی حکومت نے اس کو بند کردیا۔میرے پاس اختیارات صرف کاغذات کی حد تک ہیں، اصل میں تمام اختیارات سندھ حکومت کے پاس ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جو اختیارات مصطفی کمال کے پاس تھے وہ میرے پاس نہیں ۔میں پورے سال میں صرف اورصرف 60کروڑ روپے اکٹھا کرتا ہوں سندھ حکومت ہرسال تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کرتی ہے لیکن پیسے نہیں دیتی ۔ ایک سوال کے جواب میں وسیم اختر نے کہا کہ جن شعبوں سے عوام کو فائدہ اورزیادہ ریونیو مل سکتا ہے وہ میرے پاس نہیں ۔ سندھ حکومت سالانہ کراچی سے 300ارب روپے اکٹھے کرتی ہے ،اگر کراچی ٹیکس دینا بند کردے تو وفاقی اورصوبائی بجٹ نہیں بنیں گے ۔میں 2016میں میئر بنا سندھ حکومت کراچی کو سال کا نو سے دس ارب روپے دیتی ہے جو تنخواہو ں میں چلا جاتاہے اورترقیاتی کاموں کیلئے کچھ نہیں بچتا ۔کراچی کو سب نظرانداز کرتے ہیں اس کی طرف کوئی دھیان نہیں دیتا، وزیراعظم کوچاہئے کہ وہ خصوصی طورپر توجہ دیں۔ وفاقی اورصوبائی حکومت کراچی کی تباہی کی ذمہ دارہیں۔عشرت العباد اگرکراچی میں آکر سیاست کرنا چاہتے ہیں تو آئیں ہم انہیں خو ش آمدید کرینگے ۔