لاہور (92 نیوز رپورٹ) ملک کو درپیش اہم ترین معاملے پر بھی سیاسی انا کے بت نہ ٹوٹے ،کرونا کے معاملے پر پارلیمانی لیڈروں کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم عمران خان، شہباز شریف، بلاول، مراد علی شاہ اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے خطاب کیا اور دوسروں کی تجاویز سنے بغیر ہی چل دیئے جس پر شہباز شریف اور بلاول بھٹو نے بھی واک آؤٹ کردیا اور کہا جب تک وزیراعظم نہیں آتے واک آؤٹ رہے گا، شاہ محمود نے ہاتھ جوڑ کر واک آؤٹ ختم کرنے کی اپیل کی تاہم معاملہ حل نہ ہوسکا۔سیاسی لیڈرشپ کی ایک دوسرے سے ناراضگیاں ایک طرف لیکن اہم قومی معاملے کو یوں مذاق بنانے پر تجزیہ کاروں نے بھی شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ گروپ ایڈیٹر92نیوزارشاداحمد عارف نے پارلیمانی رہنمائوں کے ویڈیولنک اجلاس سے شہباز شریف اور بلاول بھٹو کے واک آئوٹ پراپنے ردعمل میں کہا کہ مجھے خودبڑی حیرت اورافسوس ہوا، جب واک آئوٹ کامعلوم ہوا،عمران خان کو بھی وقت نکالناچاہئے تھا،وہ ملک کے وزیراعظم ہیں،انکی ذمہ داری ہے کہ جوکانفرنس ان کے اپنے سپیکرنے بلائی، وہ اس میں شریک رہیں، لیکن اگروہ کسی مصروفیت یابڑے مقصدکی خاطرکانفرنس میں نہیں بیٹھ رہے تواسکاہرگزیہ مطلب نہیں کہ شہباز شریف اوربلاول بھٹو اسے اناکامسئلہ بنالیں،شہباز شریف ایک طرف کہتے ہیں اس موقع پر سیاست کرناگناہ عظیم ہے لیکن اس پرتوسیاست ہورہی ہے ،پوائنٹ سکورنگ اور وزیراعظم کوشرمندہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ،جب پی ٹی آئی کی نمائندگی کیلئے وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی موجودہیں تواسکے بعدکوئی جوازنہیں بنتاکہ وہ واک آئوٹ کریں،سیاستدانوں کوعوام خودمنتخب کرتے ہیں،بدانتظامی کی شکل میں جوسزامل رہی ہے ، وہ عوام کی اپنی ہی پیداکردہ ہیں ،اس موقع پرسیاست کرناسنگدلی ہے ،اس وقت لگ رہاہے دونوں اپوزیشن لیڈر کوئی معقول تجویزپیش کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے جسے وہ حکومت سے بہترکہہ سکتے ،اس لئے انہوں نے واک آئوٹ کاراستہ اختیارکیا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاعوام میں پہلے بھی اپوزیشن کی قدرنہیں تھی ، اب مزیدگری ہے ۔سینئراینکرپرسن سعدیہ افضال نے کہا اپوزیشن رہنمائوں کے قول و فعل میں تضاد آج کھل کرسامنے آگیا،کہنے کوتویہ کہتے ہیں کہ انہیں عوام کابہت دکھ ہے ،آج وہ دکھ جووزیراعظم نے عوام کیلئے دکھایا،آج عوام کی جانوں کامسئلہ ہے ،وہاں وزیراعظم نے آگے بڑھ کراپوزیشن رہنمائوں کیساتھ بیٹھاپسندکیا،لیکن آج ان رہنمائوں نے ثابت کیاکہ اپوزیشن کے جوبیانات تھے وہ سیاسی بیانات تھے ،آج عملی ثبوت سامنے آگیا،شہباز شریف کروناجیسے ایشوپربھی سیاست کررہے تھے ،بلاول نے کہنے کوتوکہاعمران خان میرے بھی وزیراعظم ہیں لیکن آج ان کے قول و فعل میں تضادسامنے آگیا۔