اسلام آباد(وقائع نگار خصوصی؍ سپیشل رپورٹر؍ نیوز ایجنسیاں) پارلیمانی جماعتوں کے ویڈیو لنک اجلاس کے دوران وزیراعظم کے چلے جانے پر مسلم لیگ (ن) کے صدر،قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری واک آئوٹ کر گئے ۔تفصیلات کے مطابق ملک میں بڑھتی ہوئی کرونا وائرس وباسے نمٹنے کی تجاویز کے لئے پارلیمانی رہنماؤں کا ویڈیو لنک اجلاس ہوا۔وزیراعظم عمران خان خطاب کرکے چلے گئے جس پر شہبازشریف اور بلاول بھٹو نے بائیکاٹ کردیا ۔شہباز شریف نے کہا وزیراعظم عمران خان اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں، یہ ملک کے سربراہ کی سنجیدگی کا لیول ہے ۔ قبل ازیں وزیر اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا چین سے ابھی تک ایک بھی کرونا کیس پاکستان میں نہیں آیا، ایران میں کرونا کے خلاف صلاحیت بہت کم تھی، تفتان بارڈر پر زائرین کی بڑی تعداد جمع ہو گئی، 28 فروری کو ڈاکٹر ظفر مرزا کو تفتان بارڈر پر بھیجا اور انہوں نے وہاں صورتحال کا جائزہ لیا، فوج کے تعاون سے زائرین کو ہر ممکن سہولت فراہم کی۔ عمران خان نے کہا اب تک ائیرپورٹس پر9 لاکھ افراد کی سکریننگ کی جا چکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا، سندھ، پنجاب اور بلوچستان نے صوبائی سطح پر مختلف قسم کا لاک ڈائون کیا ہے ، 18ویں ترمیم کے بعد یہ صوبوں کا اختیار ہے ۔ انہوں نے کہا پاکستان میں لاک ڈائون کے معاملہ پر کنفیوژن ہے ، ہمیں ٹرانسپورٹ بند کرنے والے لاک ڈائون پر دوبارہ غور کرنا چاہئے ، ٹرانسپورٹ کی بندش سے ملک میں مختلف مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں، خوف اور گھبراہٹ میں کئے جانے والے فیصلوں سے مثبت نتائج نہیں آتے ، گلگت بلتستان میں ٹرانسپورٹ کی بندش سے تیل کی کمی پیدا ہو گئی ہے ، ملک میں اس وقت گندم کی کٹائی کا سیزن ہے ، ٹرانسپورٹ کی بندش سے مختلف مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کل نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی میں وفاق اپنا مؤقف پیش کرے گا اورنئی حکمت عملی وضع کی جائے گی۔ انہوں نے کہا ٹرانسپورٹ بند کرنے سے اشیاء خورونوش کی فراہمی متاثر ہو گی، ہم 75 فیصد دالیں درآمد کرتے ہیں، کراچی پورٹ بند ہونے سے دالوں کے کنٹینرز پورٹ پر پھنس گئے ۔ انہوں نے کہا لاک ڈائون کا آخری مرحلہ کرفیو ہے ، کرونا پر اگر کرفیو لگانا ہے تو گھروں میں راشن فراہم کرنا پڑے گا، اس کیلئے بہت بڑے سٹرکچر کی ضرورت ہوتی ہے ، کرفیو لگانے سے پہلے مکمل تیاری کرنی چاہئے ، لوگوں کو گھروں میں کھانا فراہم کرنے کیلئے رضا کاروں کا نظام وضع کریں گے ۔ انہوں نے کہا لاک ڈائون سے صنعتیں بند ہوں گی، برآمدات متاثر ہوں گی، تعمیراتی صنعت کو چلنا چاہئے ، اس طرح مزدوروں کے گھروں کا چولہا جلے گا۔انہوں نے کہا تمام سیاسی قائدین کی تجاویز کا خیرمقدم کریں گے ۔وزیراعظم نے کہا کہ ایک قوم یہ جنگ جیت سکتی ہے ، کوئی حکومت اکیلے نہیں جیت سکتی۔ شرکا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا شہبازشریف واک آئوٹ کے فیصلے پر نظرثانی کریں،ہم سب نے ملکراس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہے ۔انہوں نے کہا سندھ حکومت کی کاوشوں پر ان کا شکریہ ادا کروں گا ،میں ان کی محنت کا اعتراف کروں گا۔انہوں نے کہا شہباز شریف نے تفتان کی بات کی،ہم پر اعتراض ہوا کہ ہمارے جو زائرین بلوچستان میں آئے ،ان کو ائیرلفٹ کیوں نہیں کیا گیا؟ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ انہیں ائیرلفٹ کہاں کرتے ؟ ابھی کوارنٹائین سینٹرز بنائے جا رہے تھے ۔وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا نے اجلاس میں بتایا کہ 78فیصدکیسز ایران سے واپس آنے والوںپر مشتمل ہیں، 17فیصد دیگر ممالک سے آئے ہیں ،5 فیصد کیسز لوکلی ٹرانسمٹ ہوئے ۔ چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے کانفرنس کے شرکا کو بتایا کہ ہماری پہلی ترجیح ڈاکٹروں اور طبی عملے کو حفاظتی آلات کی فراہمی اور مریضوں کیلئے زیادہ سے زیادہ وینٹی لیٹرز کا انتظام کرنا ہے ، پہلے مرحلے میں 500 وینٹی لیٹرز فوری طور پر پاکستان لائیں گے ۔ جے یو آئی( ف )کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الغفور حیدری نے کہا ملک میں اب تنقید، سیاست کا وقت نہیں، قومی سلامتی کی بات ہے ، ہم سب نے ملکر کرونا وائرس سے نجات حاصل کرنی ہے ۔علاوہ ازیں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا خوف اور گھبراہٹ میں کئے جانے والے فیصلوں سے مثبت نتائج سامنے نہیں آتے ،موجودہ حالات میں اپنے مزدوروں اور غربا کو تنہا نہیں چھوڑیں گے ۔کابینہ نے ریلیف پیکیج کی بھی توثیق کردی۔92نیوز رپورٹ کے مطابق کابینہ اجلاس میں پہلی قومی الیکٹرک وہیکل پالیسی پر گرماگرم بحث ہوئی۔ملک امین اسلم نے الیکٹروہیکل پالیسی منظوری کیلئے پیش کی تو مشیر تجارت رزاق دائود کاپارہ ہائی ہوگیا۔ذرائع کے مطابق عبدالرزاق داؤدنے کہا قومی الیکٹرک وہیکل پالیسی وزارت صنعت وتجارت کے دائرہ اختیار میں آتی ہے ۔وفاقی وزرافوادچودھری،فیصل واوڈا،ڈاکٹرعشرت اورندیم بابرنے ملک امین اسلم کی حمایت کی۔کابینہ نے 8 میں سے 7 نکات کی منظوری دیدی۔وزیراعظم کی معاون خصوصی اطلاعات ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت کی اس وقت پوری توجہ عوام کو کرونا سے بچانے اور ان کی مشکلات کو کم کرنے پر ہے ، اپوزیشن اپنی بے وقت راگنی کو الاپنے کے بجائے اس چیلنج کو شکست دینے میں حکومت کی مدد کرے ، حکومت اپوزیشن کی تجاویز پر رہنمائی کے طور پر عملدرآمد کرے گی ، پارلیمنٹ کے فورم کے علاوہ وزیر اعظم آفس میں بھجوائی جا سکتی ہیں ۔دریں اثناء وزیراعظم سے گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین نے ملاقات کی ۔