کیا کرونا وائرس امریکا کے مخالف ممالک کو دیا ہوا ایک تحفہ ہے ؟ یہ ایک حل طلب سوال ہے ۔ اس حوالے سے آگے بات کریں گے ۔ سرِ دست میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ کرونا وائرس چین کے بعد افغانستان، کویت، بحرین ، عراق اورایران پہنچ گیا ۔ جہاں درجنوں ہلاکتوں کی اطلاع ملی ہے ۔ پاکستان میں اس کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پاک ایران بارڈر چوتھے روز بھی مکمل طور پر بند ہے، تفتان بارڈر پر طبی عملے کی جانب سے اسکریننگ کا عمل جاری ہے۔ پاکستان نے زائرین کے ایران جانے پر پابندی لگا دی ۔ عالمی ادارہ صحت نے ایران کی صورتحال کو انتہائی تشویش ناک قرار دیا ہے۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے بارڈر پر پھنسے زائرین کیلئے عارضی رہائش گاہ قائم کی گئی ہے جہاں بستر، کمبل، ماسک اور کھانے کا بندوبست کیا گیا ہے۔ اس وقت بارڈر پر270 سے زائد زائرین موجود ہیں، مزید 8ہزار زائرین جلد عارضی کیمپ پہنچ جائیں گے، تمام سرحدی علاقوں میں طبی ایمرجنسی نافذ ہے۔ تفتان میں 4 روز سے پھنسے 300 سے زائد ایرانی ٹرانسپورٹرز اور ڈرائیوروں کو ایران جانے کی اجازت دیدی گئی ہے۔پاک ایران سرحد بند ہونے کے باعث محکمہ ریلوے نے بھی کوئٹہ تفتان ٹرین سروس معطل کردی ہے۔ اپنے وڈیو بیان میں وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا کہ کوئٹہ اور تفتان کے درمیان ہفتے میں ایک ٹرین چلتی تھی تاہم کرونا وائرس کے پیش نظر اس سروس کو سرحد کھلنے تک بند کردیا گیا ہے۔ وہ تمام افراد جنہوں نے سامان کی ترسیل کی لیے اس ٹرین میں بکنگ کروائی تھی ۔ وہ اسے واپس لے جائیں۔ سیکرٹری صحت بلوچستان کے مطابق بلوچستان میں کورونا وائرس کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ تمام اضلاع میں حفظ ماتقدم کے طور پر اسپیشل وارڈز قائم کر لئے گئے ہیں۔ پاکستان میں داخل ہونیوالے تمام مسافروں کیلئے ہیلتھ ڈیکلریشن فارم جمع کروانا لازمی قرار دے دیا گیا۔ عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ کرونا وائرس عالمی وبا بن سکتا ہے جس کیلئے دنیا کو تیار رہنا چاہئے ۔ کرونا وائرس 29 ممالک میں پھیل گیا ۔ جنوبی کوریا میں مزید 60 شہریوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے ، متاثرین کی تعداد 893 ہو گئی ۔جاپان میں ہلاکتوں کی تعداد 4 ، متاثرین کی تعداد 851 ہو گئی ۔ اٹلی میں 7 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 229 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ کویت، اومان ، بحرین ، عراق، افغانستان میں بھی کرونا وائرس کے مریض سامنے آئے ہیں ۔ منگولیا نے جنوبی کوریا کے ساتھ پروازوں میں 2 مارچ تک پابندی عاہد کر دی ہے۔ ایران و ترکی کے وزراء خارجہ نے ٹیلیفون پر کرونا کی روک تھام کیلئے تبادلہ خیال کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوترس نے کرونا وائرس کی تازہ ترین پیش رفت سے آگاہی کیلئے جنیوا میں عالمی ادارہ صحت کے صدر دفتر کا دورہ کیا ۔انہوں نے تمام ممالک سے اپیل کی کہ عدم تفریق کے اصول پر کاربند رہتے ہوئے انسانی حقوق کا احترام کیا جائے اور کرونا وائرس کی روک تھام اور کنٹرول کیلئے ہر ممکن کوشش کی جائے ۔ امریکی ایوان صدر وائٹ ہاؤس نے کرونا وائرس کے خلاف جنگ کیلئے 2.5 بلین ڈالر کے اضافی بجٹ کی تجویز کانگریس کو بھیج دی ہے۔ ایک بلین ڈالر سے زائد رقم ویکسین کی تیاری پر خرچ کی جائے گی ۔ بھارتی ریاست ہریانہ کے شہرفرید آباد میں یونیورسٹی طلبہ نے کرونا کیخلاف چین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ۔ اب تک ایک بات سامنے آئی ہے کہ کرونا وائرس امریکا کے حریف ملکوں میں ہی ہے۔ ایسا کیوں ہے ؟ امریکا کی جانب سے چین اور ایران کے خلاف بیانات اور پھر ان پر عملدرآمد کے کیا نتائج برآمد ہوئے، ایران کو کن پابندیوں سے دوچار ہونا پڑا، چین کے منصوبے سی پیک کے بارے دنیا بھر میں امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ایلس ویلز کے کیا تاثرات تھے لیکن دونوں حریف ملکوں کو امریکا کی نظر ہی کھا گئی ۔ اچھلی بھلی معیشت کے ساتھ ساتھ لے چلنے والے دونوں ممالک کرونا وائرس سے ہی پریشانی کا شکار ہوگئے جس طرح امریکا ایران چھوڑ کر عراق کے بعد براہ راست افغانستان پر حملہ آور ہوا اور وجہ یہ بتائی گئی کہ القاعدہ کی قیادت اور اس کا گروپ یا تو افغانستان میں ہے یا پھر پاکستان میں اور یہی بہانہ بنا کر پاکستان کو امریکا طالبان جنگ میں گھسیٹ لیا ۔ سی پیک کو بھی پاکستان کیلئے بے کار منصوبہ قرار دیا جاتا رہا ۔ پھر 17 سال افغانستان کا سب کچھ برباد کرنے کے بعد بحفاظت اپنی فوجوں کو نکالنے کیلئے مسائل افغانستان کا مقدر بنائے جاتے رہے ۔کرونا وائرس کہاں سے آیا کیونکر اس کی ویکسین تیار نہ ہو سکی ۔ ڈیڑھ سال کا عرصہ کیوں بتایا جا رہا ہے پھر چین کے بعد باقی ممالک میں اس کا پھیلاؤ کم دیکھا اور سنا جا رہا ہے مگر چین کے بعد سب سے بڑا حملہ کرونا وائرس کا ایران میں ہوا جہاں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور متاثرین کا گراف درجنوں سے سیکنڑوں میں چلا گیا ۔ نتیجہ کے طور پر چین کی سرحد پر دنیا بھر کے داخلے بند ہو گئے ، پروازیں معطل کر دی گئیں ، یونیورسٹیاں اور دیگر تعلیمی ادارے ایک طویل عرصے سے بند ہیں ۔ مختلف ممالک نے اپنے لوگوں کیلئے چین کی سرحد خطرناک قرار دے دی گئیں اور چین کا معیار زندگی ان کی اپنی نظرں میں گرتا دکھائی دیا۔ اسی طرح ایران میں اچانک وبا پھیلنے سے پاکستان نے چاغی بلوچستان کی جانب سے تفتان کی سرحد بند کر دی ، پروازیں منسوخ ہو گئیں ، پاکستان نے اپنے لوگوں کو ایران جانے سے روک دیا اور جو ہزاروں کی تعداد میں زائرین ایران میں موجود ہیں ، پاکستان میں ان کے داخلے سے ان کی سکریننگ مشروط کر دی گئی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ وبائی مرض امریکا کے حریف ملکوں میں ہی کیوں؟ اب ایران سے کرونا وائرس تیزی سے افغانستان منتقل ہو رہا ہے ،جہاں لوگ پریشانی میں مبتلا ہیں ۔ اس پر غور کیا جا رہا ہے کہ جزوی طور پر مختلف جگہوں سے باڈر سیل کرنے کی بجائے طویل سرحدی دیوار کے ساتھ چوکیاں قائم کر دی جائیں ۔ جہاں پاک ایران سرحد بند ہونے سے تجارتی سرگرمیاں ماند پڑھ گئی ہیں ، وہاں افغانستان اور ایران کے درمیان بھی وہی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہو چلا ہے جو چین اور دوسرے ممالک کے درمیان ہوا تھا اور ہیوی ٹریفک کے بے شمار کنٹینرز تفتان کی سرحد پر روک لئے گئے ہیں ۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے لوگ وبائی مرض کے نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں اوریہ بھی بتا رہے ہیں کہ اس کے بارے میں کوئی حتمی ویکسین تیار ہو کر سامنے نہیں آئی۔ ہلاکتون کی تعداد روزانہ سینکڑوں میں ہے لیکن عالمی ادارہ صحت خاموش ہے اور یہ پتہ کیوں نہیں لگا رہے کہ کرونا وائرس چین کی پیداوار ہے یا غیر ملکی تحفہ جو ہوا کے دوش پر جدوجہد کرنے والی قوم کے حوالے کیا گیا ؟ عالمی ادارہ صحت وبائی مرض کی ویکسین کی تیاری پر زور دے تاکہ دنیا میں بے چینی اور پریشانی ختم ہو سکے۔