لاہور ، اسلام آباد، راولپنڈی ، کراچی (جنرل رپورٹر، خصوصی نیوز رپورٹر،خبر نگار خصوصی،لیڈی رپورٹر،نامہ نگار خصوصی، 92 نیوز رپورٹ، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوزایجنسیاں ) کرونا وائرس نے مزید4زندگیاں نگل لیں جبکہ متاثرہ مریضوں کی تعداد 1600ہو گئی۔اتوار کے روز 2افراد کراچی ،ایک ایبٹ آباد اور ایک گلگت بلتستان میں دم توڑگیا۔کراچی میں جاں بحق ہونیوالوں کی عمریں70اور83سال تھیں۔دونوں افرادکئی روز سے زیرعلاج تھے ۔ایبٹ آبادمیں جاں بحق ہونیوالے شخص میں دوروزقبل کروناکی تصدیق ہوئی تھی۔گلگت بلتستان میں کرونا وائرس سے محکمہ صحت کا ملازم جاں بحق ہوگیا۔ڈپٹی کمشنر کے مطابق ضلع نگر میں محکمہ صحت کے ملازم کو 24 مارچ کو قرنطینہ میں رکھا گیا تھا جہاں وہ انتقال کرگیا۔ گزشتہ روز ملک میں 96 نئے کیس رپورٹ ہو ئے ، سندھ 33، پنجاب 36، گلگت بلتستان 12، خیبرپختونخوا ، آزاد کشمیر ، اسلام آباد 4، 4 جبکہ بلوچستان میں3 مریضوں میں مہلک وائرس کی تصدیق ہوئی۔پنجاب میں متاثرین کی تعداد593،سندھ502،خیبر پختونخوا192،بلوچستان 141،گلگت بلتستان 123، اسلام آباد43 اور آزاد کشمیر میں6 ہو گئی۔ 31مریض صحتیاب ہوچکے جبکہ 11 کی حالت نازک ہے ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ٹویٹ میں بتایا کہ پنجاب میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد چھ ہو گئی جبکہ کل متاثرین کی تعداد 593 تک پہنچ گئی ہے ۔ڈیرہ غازیخان ،ملتان ، لاہور، فیصل آباد کے قرنطینہ مراکز میں 318،لاہور116، گجرات 55، راولپنڈی 30،جہلم 28،گوجرانوالہ 11،فیصل آباد 9، ڈی جی خان5، منڈی بہائوالدین 4، ملتان، وہاڑی، رحیمیارخان، میانوالی، ننکانہ، سرگودھا2،2، نارووال،اٹک،بہاولنگر، خوشاب، بہاولپورمیں ایک ایک مریض ہے ۔پولی کلینک کے ایک اور ڈاکٹر میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوگئی ۔ شوگر سپیشلسٹ ڈاکٹر سرور ہسپتال کی او پی ڈی میں شوگر کے مریضوں کو چیک کرتے رہے ۔ڈاکٹر سرور کو آئسولیشن وارڈ میں شفٹ کیا گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق پولی کلینک کی او پی ڈی انتظامیہ کے احکامات کے باوجود بند نہیں کی گئی تھی۔ پولی کلینک کے ایک ڈاکٹر میں پہلے ہی کرونا کی تصدیق ہو چکی جبکہ 28 ڈاکٹر اس وقت قرنطینہ میں ہیں۔ ڈھوک کشمیریاں کی بلال کالونی میں ایک گھر کے 11افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے ۔اہلخانہ کے ہسپتال جانے سے انکار پر محکمہ صحت نے پولیس اورسکیورٹی فورسز کو طلب کرلیا ۔ ضلعی انتظامیہ کی مداخلت پر 8 افراد کو ہسپتال منتقل کردیاگیا جبکہ خاتون اور دو بچوں کو گھر میں ہی قرنطینہ کردیاگیا۔ کوٹلہ ارب علی خان میں کرونا کے مریضوں کی تصدیق کے بعد علاقہ سیل کر دیا گیا۔سکھر میں مزید 44 غیر ملکیوں کو تبلیغی مرکز میں قرنطینہ کردیا گیا۔تبلیغی مرکز میں قرنطینہ غیر ملکیوں کی تعداد 68 ہوگئی۔ سکھر قرنطینہ سنٹر سے مزید 120 زائرین کو ٹیسٹ منفی آنے پر گھر بھجوادیا گیا۔ ایس ایس پی لاڑکانہ مسعود بنگش نے رات کی تاریکی میں 200 سے زائد تبلیغی افراد کو بغیر سکریننگ سکھر بھجوادیا۔ ایس ایس پی سکھر عرفان سموں نے بتایا تبلیغی افراد کو حراست میں لیکر سائٹ ایریا کی مسجد میں رکھ کر پولیس اہلکار مقرر کئے گئے ہیں، سکریننگ کیلئے ضلع انتظامیہ سے رابطے میں ہوں۔مردان میں تعینات ایس ایس پی آپریشن مردان وقار عظیم میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی اور وہ اب اپنے گھر میں تنہائی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اسلام آباد میں 6نئے قرنطینہ مراکز قائم کر دیئے گئے ہیں۔ محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے کرونا مریضوں کے علاج معالجے کی نگرانی کیلئے پروفیسر کامران چیمہ کی سربراہی میں انتہائی نگہداشتکے ماہرین کی کمیٹی قائم کر دی۔ قرنطینہ وارڈمیں انفیکشن کنٹرول یقینی بنانے کیلئے شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکٹر عون رضا کی سربراہی میں بھی کمیٹی قائم کر دی گئی ۔پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی سپیشل انسپکشن اورمعاونت کے بعدلاہورکے تین نجی ہسپتالوں ڈاکٹرز ہسپتال،گھرکی ہسپتال اور بحریہ ہسپتال میں کرونا کے مریضوں کے علاج معالجہ کیلئے انتظامات مکمل کر لیے گئے ۔چین سے امداد کی ایک اور کھیپ پاکستان پہنچ گئی۔امدادی سامان میں 15وینٹی لیٹر، این 95ماسک اور دوسری طبی اشیا شامل ہیں۔چینی سفیر نے سامان چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل افضل کے حوالے کیا۔ چیئرمین این ڈی ایم اے کا کہنا تھا مشکل گھڑی میں ساتھ دینے پر چین کے شکر گزار ہیں۔ ووہان سے آنیوالی خصوصی پروازمیں تقریباً 6 ٹن سامان بھیجا گیا ۔چینی سفیرنے کہا مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان کیساتھ ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کو این 95 ماسک فراہم کر دیئے ۔ ترجمان کے مطابق جیک ما فاؤنڈیشن کی طرف سے دیئے گئے این 95 ماسک میں سے دو لاکھ سندھ ، 75ہزار پنجاب،پچاس ،پچاس ہزار خیبرپختونخوا، بلوچستان اور اسلام آباد جبکہ آزاد کشمیر کو پندرہ ہزار این95 ماسک فراہم کر دیئے ۔ادھر چین کے طبی ماہرین نے قومی ادارہ صحت کا دورہ کیا جہاں انہیں کرونا وائرس سے پیدا شدہ صورتحال اور انسداد کیلئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ قومی ادارہ صحت کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر میجرجنرل عامر اکرام نے چینی طبی ماہرین کے وفد کے تجربات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ میجرجنرل عامر اکرام نے کہا چین نے ایک بار پھر دنیا کو دکھایا ہے وہ پاکستان کادوست ہے ۔ سنکیانگ کے میڈیکل شعبے کے سربراہ نے بتایاچین میں جب وباپھوٹی تو پاکستان نے طبی امداد فراہم کی، دونوں ممالک دکھ سکھ کے ساتھی ہیں، چین نے احتیاطی تدابیر پر عمل کرکے وبا پر قابو پایا۔ چینی ڈاکٹرز کی ٹیم پاکستان میں کرونا وائرس پر قابو پانے کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرے گی۔چینی سفیر نے کہا پاکستان چین کیلئے پہلے نمبر کی ترجیح ہے اور دونوں ممالک ہر موسم کے دوست ہیں۔ چین پاکستان کیلئے ہر طرح کی مدد جاری رکھے گا۔پاکستان جلدکروناکی وباپر قابوپالے گا۔ معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بروقت امداد اورٹیم بھیجنے پر چین کا شکریہ اداکیااور کہاچین نے کرونا وائرس کیخلاف بروقت اور موثر اقدامات کیے ،چین نے 60 ملین افراد کو قرنطینہ میں رکھ کر تاریخ رقم کی، چین نے اپنے ملک سے باہر جانیوالوں کی مکمل سکریننگ کی، دنیا کو کرونا وائرس کیخلاف چین کے اقدامات سے سیکھنا ہوگا۔ پاکستان میں چین سے کرونا وائرس کا کوئی مریض نہیں آیا۔ حکومت نے چین سے پاکستانی طلبہ کو واپس نہ لانے کا مشکل فیصلہ کیا، چینی حکومت نے پاکستانی طلبہ کا خیال رکھا۔چین نے مشکلات کے باوجود پاکستان کا ساتھ دیا، چین کے طبی عملے کی پاکستان آمد حوصلہ افزا ہے ۔چینی وفد اور امداد سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے اور چینی طبی عملے کی آرا سے مستفید ہوں گے ۔معاون خصوصی ڈاکٹرظفرمرزانے پریس بریفنگ میں بتایا ملک بھر میں13324 کرونا کے مشتبہ کیس ہیں۔24 گھنٹوں میں1106 مشتبہ کیس رجسٹرڈہوئے ۔مصدقہ کیسز میں 857ایران سے آنے والے زائرین ہیں۔28مریض مکمل صحتیاب ہوچکے ، قرنطینہ سنٹرزمیں 4365افراد کے ٹیسٹ ہوچکے ۔قرنطینہ سنٹرزمیں 6066افرادکورکھاگیاہے ۔ پنجاب میں ملک بھر کے تقریباً36فیصدکیس ہیں۔حکومت نے اسلام آباد،گلگت، آزادکشمیرمیں ایک ماہ کیلئے طبی عملے کوحفاظتی کٹس دیدی ہیں۔وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے ٹویٹ کیا ہے کہ شیخ زید ہسپتال کوئٹہ میں کرونا وائرس کے 17 متاثرہ مریضوں کی 14 روزہ کورنٹائن کے بعد ٹیسٹ منفی آئے ہیں جس کے آج دوبارہ ٹیسٹ کئے جائیں گے ۔