قیام پاکستان کے وقت ایک اہم مسئلہ اس وقت کے این ڈبلیو ایف پی (خیبر پختون خواہ) صوبے کا تھا افغانستان اسے ڈیورنڈ لائن معاہدے کے تحت اپنا حصہ مانتا تھا لیکن خود اس صوبے کے لوگوں میں افغانستان کے ساتھ شمولیت کا سوال ہی زیر بحث نہ تھا بلکہ سوال یہ تھا کہ اس صوبے بھارت کا حصہ بننا ہے یا پاکستان کا ؟ چنانچہ یہاں اسی سوال پر 2 جولائی 1947ء کو ریفرینڈم کرا لیا گیا. اس ریفرنڈم میں 572798 رجسٹرڈ ووٹوں میں سے 289244 ووٹ جو کاسٹ ہونے والے ووٹوں کا 99.2 بنتے ہیں پاکستان کے حق میں آئے جبکہ صرف 2874 بھارت کے حق میں پڑے. یوں یہ صوبہ پاکستان کا حصہ بن گیا۔ 1948ء میں اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کے لئے قرارداد آئی تو افغانستان واحد ملک تھا جس نے پاکستان کے خلاف ووٹ دیا کہ اسے اقوام متحدہ کا ممبر نہیں ہونا چاہئے۔ اسی سال افغانستان نے بلوچ عسکریت پسندوں کا پہلا کیمپ افغانستان میں قائم کرکے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں شروع کردیں۔ پختونستان کی تحریک کو بھی عسکری تربیت دینی شروع کردی گئی۔ جبکہ اسی دوران بھارت کی قائم کردہ عسکری تنظیم "مکتی باہنی" کی مدد سے پاکستان دو لخت بھی ہوگیا. لیکن بھارت کے حوالے سے ایک بے پناہ اہم نکتہ یہ ہے کہ اس کے ساتھ ہمارے تنازعات محض اتنی سی بات نہیں کہ یہ دو پڑوسیوں کا وقتی جھگڑا ہے بلکہ اس کی گھمبیرتا یہ ہے کہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد "اکھنڈ بھارت" پر ہے. جس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ جارحانہ خارجہ پالیسی والا ملک ہے. اور یہ اسی جارحانہ خارجہ پالیسی شاخسانہ ہے کہ وہ مکتی باہنی، تامل ٹائیگرز اور ٹی ٹی پی جیسی عسکری تنظمیں چلاتا نظر آتا ہے. 1975ء تک افغانستان اور بھارت کی قائم کردہ عسکری تنظیموں کی دہشت گردی کا شکار ہوتے ہوئے پاکستان کو 27 سال ہو چکے تھے اور پاکستان میں اعلیٰ سطح پر یہ سوچ پیدا ہونی شروع ہوگئی تھی کہ افغانستان کسی طور بھی ہماری جان چھوڑنے پر آمادہ نہیں حالانکہ نہ تو پاکستان نے اس کا ایک انچ قبضہ کیا ہے اور نہ ہی صوبہ سرحد کے عوام کو افغانستان کے ساتھ شامل ہونے میں رتی برابر دلچسپی ہے۔ صرف یہی نہیں کہ بلکہ ڈیورنڈ لائن کے آس پاس رہنے والے تو اتنے کٹر پاکستانی ہیں کہ قائد اعظم کے حکم پر کشمیر یعنی پاکستان کی شہہ رگ آزاد کرانے بھی پہنچ گئے تھے. اور مزے کی بات یہ کہ خود افغانستان کو بھی اس بات کا احساس ہے کہ پاکستان کے پختون اس کے ساتھ شامل ہونے کا تصور بھی کرنے کو تیار نہیں جس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ پختونستان کی تحریک تو چلوا سکا لیکن اپنے ساتھ شمولیت کی ایک بھی آواز نہ اٹھوا سکا۔ ان حالات میں افغانستان کے چودہ طبق روشن کرنے ضروری ہوگئے تھے۔ افغانستان کے 1921ء سے سوویت یونین سے تعلقات چلے آ رہے تھے جو بیسویں صدی کے آخری نصف میں تیزی سے مضبوط ہوتے چلے گئے تھے۔ دسمبر 1979ئ￿ میں روسی فوجیں افغانستان میں داخل ہوئیں تو بھٹو جا چکے تھے اور ان کے تیار کردہ افغان عسکریت پسند ضیاء الحق کے ہاتھ میں تھے۔ اس دوران افغان حکومت کو ایک اہم کامیابی یہ حاصل ہوگئی تھی کہ جس ذوالفقار علی بھٹو نے افغانستان کو سبق سکھانے کے لئے افغان مجاہدین کی بنیاد ڈالی تھی اسی بھٹو کا بیٹا مرتضیٰ بھٹو الذوالفقار کے نام سے عسکری تنظیم بنا کر افغان حکومت کی گود میں جا بیٹھا تھا۔ اور یہ اتنی خطرناک تنظیم بن سکتی تھی جس کی کوئی حد ہی نہ تھی کیونکہ اسے سوویت یونین، افغانستان، شام اور لیبیا جیسے کئی ممالک کی مدد حاصل تھی لیکن جنرل ضیاء نے ڈپلومیسی اور خفیہ آپریشنز کی مدد سے ایک سال میں ہی اس کی کمر توڑ دی اور افغان جہاد پر فوکسڈ ہوگئے۔ مرتضیٰ بھٹو کی ناکامی میں اس بات کا بھی اہم کردار تھا کہ محترمہ بینظیر بھٹو بھی الذوالفقار کے خلاف تھیں اور وہ سیاسی جد و جہد پر یقین رکھتی تھیں۔ بھٹو کے جانے کے بعد افغان عسکریت پسند اب براہ راست ہماری فوج کے ہاتھ میں تھے اور کھل کر کھیلا جا سکتا تھا جو اس درجے تک کھیلا گیا کہ سوویت یونین ہی تاریخ میں دفن ہوگیا۔ بعض حلقوں کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ افغان مجاہدین سی آئی اے کی پیداوار تھے مگر یہ بات دو ٹھوس حوالوں سے غلط ہے۔ پہلا یہ کہ افغان مجاہدین بھٹو کا آئیڈیا تھا اور بھٹو صاحب کی تو سی آئی اے جان لینے کے منصوبے بنا رہی تھی۔ دوسرا یہ کہ روسی فوج 1979ء میں افغانستان میں داخل ہوئی اور افغان مجاہدین اس سے جنگ کا آغاز کرچکے تھے جبکہ امریکہ نے 1981ء میں اس جنگ کی سپورٹ کا فیصلہ کیا اور اس کی پہلی امداد 1982ء میں آئی۔ روسی فوجوں کے انخلاء کے بعد افغان عسکریت پسند آپس میں الجھ پڑے جو ہمارے لئے خطرناک بات تھی۔ چنانچہ محترمہ بینظیر بھٹو نے طالبان کو ایک بڑی قوت کے طور پر تیار کرکے افغان جنگجو گروپوں کو غیر مسلح کروادیا اور ہمیں افغانستان سے گرم ہوائیں آنی بند ہوگئیں۔ نائن الیون کے بعد صورتحال ہمارے خلاف ہوگئی اور ایک بار پھر افغانستان کو پاکستان میں عسکریت کے بھرپور فروغ کا موقع مل گیا اور اس بار افغانستان کو امریکہ اور بھارت کی مدد بھی حاصل ہوگئی۔ قابل غور بات یہ ہے کہ 1975ء میں افغان مجاہدین کے وجود میں آنے کے بعد بھی چھ سال تک افغانستان ہمارے ہاں اپنے تیار کردہ عسکریت پسندوں سے کام لیتا رہا۔ 1982ء میں اس میں بہت حد تک کمی آ گئی اور مجبورا افغان حکومت کو خاد کے ذریعے بم دھماکوں تک محدود ہونا پڑا جبکہ نواب خیربخش مری، اجمل خٹک اور افراسیاب خٹک وغیرہ 90 کی دہائی کے آغاز تک کابل میں ہی بیٹھے مفت کی روٹیاں توڑتے رہے۔ چنانچہ 1948ء سے لے کر 1982ء کے 33 سال اور نائن الیون کے بعد کے 18 سال ملا کر مجموعی طور پر افغانستان نے ہمارے ہاں عسکری تنظیموں کے ذریعے 51 سال دہشت گردی کرائی ہے جبکہ ہم نے افغانستان میں صرف بیس سال عسکریت آزمائی ہے اور ہم یہ جانتے ہیں کہ آپشن دو ہی ہیں۔ یا تو وہاں ہماری حمایت یافتہ حکومت ہو تاکہ ہم پرسکون رہیں یا پھر ہم ہاتھ کھینچ لیں اور بھارت اس خلا کو پر رکھے. نتیجتاًہم آئے روز لاشیں اٹھائیں۔ ایک تیسرا آپشن بھی ہے لیکن وہ ناممکنات میں سے ہے۔ وہ آپشن یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے ذریعے دنیا کے تمام ممالک اس بات پر اتفاق کرلیں کہ کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک میں عسکریت کو فروغ نہیں دے گا۔ اگر یہ خوبصورت خواب شرمندہ تعبیر ہوجائے تو سی آئی اے کیا کرے گی ؟ سوسجز بیچے گی ؟ اس کا تو دھندہ ہی عسکریت کو فروغ دینا ہے۔