سرینگر (نیوزایجنسیاں )مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا محاصرہ جمعہ کو 96ویں روز بھی جاری رہا۔ کشمیریوں نے بھارتی قبضے اور مقبوضہ وادی کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کیخلاف مختلف علاقوں میں زبردست مظاہرے کیے ۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سرینگر ، بڈگام ، گاندر بل ، اسلام آباد ، پلوامہ ، کولگام ، شوپیاں ،بانڈی پورہ ، بارہمولہ ، کپواڑہ اور دیگر علاقوں میں لوگ نما ز جمعہ کے فوراً بعدسڑکوں پر نکل آئے اور آزادی اور پاکستان کے حق میں جبکہ بھارت کیخلاف فلک شگاف نعرے لگائے ۔ بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے مختلف مقامات پر مظاہرین پر طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے ۔یاد رہے پانچ اگست کے بعد سے ابتک کشمیریوں کو سرینگر کی تاریخی جامع مسجد و دیگر بڑی مساجد اور خانقاہوں میں نماز جمعہ نہیں اداکرنے دی گئی۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق مقبوضہ وادی میں بھارتی فوجی محاصرہ جمعہ کو 96ویں روز بھی جاری رہا جس کی وجہ سے مقبوضہ وادی اور جموں خطے کے مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و دہشت اور غیر یقینی صورتحال بدستور برقرار ہے ۔ قابض انتظامیہ کی طرف سے پابندیوں میں جزوی کمی کے باوجود لوگ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور اسے مرکز کے انتظام دو علاقوں میں تقسیم کرنے کے غیر قانونی بھارتی اقدام کیخلاف ہڑتال سول نافرمانی کے طور پر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ادھر مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ روز شدید برفباری سے ہلاک ہونے والوں میں 4 بھارتی فوجی بھی شامل ہیں۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے سرینگر میں ایک فٹ جبکہ کپواڑہ، شوپیاں، گندبال اور بارہمولا میں 3 سے 4 فٹ برفباری ریکارڈ کی گئی۔ خراب موسم کے باعث تعلیمی ادارے بند کر دیئے گئے ہیں جبکہ مواصلاتی نظام منقطع ہے ۔مقبوضہ وادی کو جانے والی تمام مرکزی شاہراہیں رفباری کے باعث بند ہوگئی ہیں جہاں 2 ہزار سے زائد گاڑیاں پھنس گئی ہیں۔ نئی دلی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یورپی یونین کے اقتصادی اور عالمی امور کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل کرسچن لیفلر نے کہا یورپی یونین کو مقبوضہ کشمیر کے عوا م کے بنیادی حقوق کے حوالے سے شدید تشویش ہے ۔بھارت کشمیریوں کے بنیادی حقوق کا احترام کرے ۔ یورپی یونین کا ہمیشہ موقف رہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کو تنازع کشمیر مذاکراتی عمل کے ذریعے حل کرنا چاہیے ۔انہوں نے یورپی پارلیمنٹ کے کچھ ارکان کے مقبوضہ کشمیر کے حالیہ دورے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا اس طرح سے پارلیمانی دوروں کا اہتمام نہیں کیا جاتا۔لندن میں بھارت، پاکستان اور برطانیہ کے سٹریٹجک ماہرین نے کشمیر بحران کے بارے میں ایک پینل مباحثے کے دوران کہا کہ عالمی برادری کوکشمیر میں کشیدگی کم کرانے میں کردار ادا کرنا چاہئے ۔مقررین میں اقوام متحدہ میں حال ہی میں سبکدوش ہونے والی پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی، بھارتی صحافی نیدھی رازدان، لندن میں مقیم تاجر عبدالرحمن چنوئی، برطانیہ کے سابق وزیر خارجہ جیک سٹرا ، اقوام متحدہ میں برطانیہ کے سابق نمائندے مارک لائل گرانٹ شامل تھے ۔