ہمارے ملک کو قدرت نے دنیا کی تمام بڑی نعمتوں سے مالا مال کیا ہوا ہے دنیا کا بہترین نہری نظام اِس وقت پاکستان میں پایا جاتا ہے کہ اِس نظام سے ہمارے کسانوں کو اُن کی فصلوں کے لیے موسم کے مطابق نہری پانی مہیا کیا جاتا ہے پاکستان کا یہ نہری نظام کسانوں کو جہاں پر معاشی طور پر مضبوط اور مستحکم کرتا ہے تو وہی پر ملک کی معاشی ترقی میں ایک بہترین کرادار ادا کررہا ہے ۔ لیکن افسوس کہ ہمارے حکمرانوں کی بد نیتی کی وجہ سے اب یہ نہری نظام بھی زوال پریز ہو رہا ہے، اسی طرح سے ریلوئے کا بھی بہترین نظام انگریزوں نے ہمارے ملک میں ہی بنایا تھا جو آج ایک سو پچاس سال گزر جانے کے باوجود بھی پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے۔ ریلوئے نظام یوں تو پوری دنیا میں چل رہا ہے لیکن ہمارے ملک میں جو ریلوئے نظام انگریزوں نے تشکیل دیا تھا وہ بعض جگہوں پر حیران کن انداز سے تعمیر کیا گیا، جس طرح کہ کوئٹہ بلوچستان کے مقام مچھ پر بنایا گیا ریلوئے پل اور اِسی طرح سے درہ خیبر کا خوب صورت سرنگ نما پل لیکن افسوس کہ ہمارے نا اہل سیاست دانوں اور نا اہل حکمرانوں کی نا قص منصوبہ بندی کی وجہ سے آج ریلوئے نظام بھی یہاں پر زوال پذیر ہو رہا ہے۔ اگر آپ نے کسی ملک کو کمزور کرنا ہو تو پھر اُس ملک کی معاشی صورتحال کو کمزور کردیں تو وہ ملک خو دبخود کمزور ہونا شروع ہو جائے گا، ایسی صورتحال کچھ ملک دشمن عناصر ہمارے ملک میں برپا کیے ہوئے ہیں ہمارے ملک کی عوام کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی ، بے روزگاری اور نا قص منصوبہ بندی ہے جس کی وجہ سے ہمارا ملک گذشتہ 30 سالوں سے معاشی طور پر ترقی کرنے کی بجائے روز بروز کمزور تر ہوتا جا رہا ہے دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ جو بھی سیاسی پارٹی جس طرح سے بر سر اقتدار آتی ہے وہ اقتدار میں آتے ہی اپنے ذاتی مفادات کے لیے کام کرنا شروع کر دیتی ہے گذشتہ 30 سالوں سے ہمارے ملک میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی زیادہ تربر سرا اقتدار رہی ہیں یہ اب وارثتی سیاسی پارٹیاں بن چکی ہیں جن کا مقصد عوام کو صرف اپنے سیاسی نعروں کے پیچھے لگا کر اپنے آ پ کو ہر طرح سے مضبوط کرنا ہے مسلم لیگ جو کہ اپنے آپ کو اِس ملک کی بانی جماعت سمجھتی ہے، مسلم لیگ کو بانی پاکستان حضرت قائد اعظم کی رحلت کے بعد وہ پذیرائی نہیں مل سکی، جس کو یہ جماعت اپنے لیے ضروری سمجھا کرتی تھی، مسلم لیگ نے جو منشور عوام کو دیا اُس پر بہت کم عمل کیا بعد میں میاں ممتاز دولتانہ ، نواب افتخار محدوٹ ، میاں منظر بشیر جیسے ایسے سیاست دان کہ جنہوں نے قائد اعظم کی قیادت میں اِس ملک کے لیے کام کیا تھا اُن کو بڑی طاقتوں نے نظر انداز کرنا شروع کر دیا جبکہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم نواب لیاقت علی خان کے قتل کے بعد ملک میں غیر جمہوری طاقتیں مکمل طور پر طاقت ور ہونا شروع ہو گئی تھیں، جو آج تک طاقت ور ہیں ہمارے ملک کی بد قسمتی کہ یہاں پر جمہوریت کبھی بھی مضبوط نہیں ہو سکی شاید یہی وجہ ہے کہ جو بھی سیاسی پارٹی الیکشن جیت کر آئی لیکن اپنے اقتدار کی مدت پوری نہ کر سکی پیپلز پارٹی کہ جس کی بنیاد سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی خان بھٹو نے رکھی تھی اور وہی اِس پارٹی کے اصل ہیرو ہیں جو آج تک چلے آرہے ہیں اُن کے بعد بے نظیر بھٹو نے بھی عوام میں بڑی پذیرائی حاصل کی لیکن بڑے حلقوں میں مقبول نہ ہو سکی اور آخر کار وہ بھی قتل ہو گئی اور یوں صدر آصف علی زداری پیپلز پارٹی کے مالک بن بیٹھے جو آج تک پیپلز پارٹی کا پھل کھا رہے ہیں آج بھی ہمارے ملک کی یہی دونوں پارٹیاں بر سر اقتدار ہیں جبکہ اِن کے درمیان عمران خان اپنے جوش اور جذبے کے ساتھ ملک میں ذوالفقار علی بھٹو کے بعد بہت زیادہ ہر دل عزیز حیثیت اختیار کر گئے اُن کی پارٹی تحریک انصاف 2018 ئ؁ میں برسر اقتدار صرف عمران خان کی وجہ سے مقبولیت کے ریکارڈ توڑ ڈالے نوجوان نسل عمران خان کی دیوانی ثابت ہوئی۔ افسوس کہ عمران خان کی ضدی طبیعت اپنے اندر کسی قسم کی لچک پیدا نہ کر سکی اوروہ جن طاقتوں کے سہارے ملک کے سر براہ بنے تھے پھر اُنہی کے ہاتھوں اقتدار سے محروم ہو کر جیل میں بند ہیں اور اقتدار کے مزے پھر اُن کے سیاسی مخالفین لوٹ رہے ہیں کہ جن کو عمران خان آج بھی چور کہہ کر پکارتے ہیں لیکن افسوس کہ جس عوام نے عمران خان کا بھرپور ساتھ دیا پہلے اور دوسرے الیکشن میں یوتھ نے تو کمال کر دیا۔ عمران خان نے اپنی ضدی طبیعت کی وجہ سے یہ چانس بھی گنوا دیا۔ ہماری عوام ہمیشہ بد قسمت ثابت ہوئی کہ جو جن سیاست دانوں کو بھی عوام نے منتخب کیا وہی اقتدار میں آکر اِن کے لیے کچھ بھی نہ کر سکے مہنگائی مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کو زندہ در گو کر دیا عوام مہنگائی کی وجہ سے ذلیل ہو رہے ہیں حکمرانوں نے ہمیشہ اپنی عیاشیوں کی سزا عوام کو دی ہے بجلی ، گیس اور تیل میں بہت زیادہ اضافہ اصل میں مہنگائی کا سبب بنتا ہے اور یہی سے عوام مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ آفرین ہے آزاد کشمیر کی عوام کہ جنہوں نے چار دنوں میں عظیم جدوجہد کر کے اپنے مطالبات اِن ظالم حکمرانوں سے منوا لیے ہیں اور وہ وزیر اعظم اور طاقت ور ادارے جو عوام کومکھی کے سوا کچھ بھی نہیں سمجھتے تھے آج آزاد کشمیر کے غیور عوام نے حکمرانوں کے سامنے ڈٹ کر اپنے حقوق حاصل کر لیے ہیں وہاں پر بجلی اور آٹا سستا ہو چکا ہے اور یہی دو چیزیں عوام کے لیے بے حد ضروری ہیں اور اب اِن کے سستا ہونے سے ہر چیز سستی ہو گی خدا کرکے وزیر اعظم میاں شہباز شریف یہی کشمیر پیکج پورے ملک میں نفاذ کر نے کا اعلان کر دیں۔ ماں بھی اپنے بچے کو اُس وقت تک دودھ نہیں دیتی جب تک بچہ روتا نہیں ہے اب چونکہ ہماری ریاست ماں ہے اور ہم اُس کے بچے ہیں لہٰذا ہم بچوں کو تھوڑا سا روناپڑے گا کشمیری عوام کی طرح پھر جا کر ہمیں کچھ نہ کچھ حقوق ملیں گے ۔