لاہور(نامہ نگار خصوصی،مانیٹرنگ ڈیسک)چیف جسٹس میاں ثاقب نثارنے کہاہے لاہور ہائی کورٹ سے میری وابستگی 56 سال پرانی ہے ، میرے والد نے لاہور ہائیکورٹ میں پریکٹس کی ،میں نے اس مقام تک پہنچنے کیلئے بہت محنت کی۔ عوام کو وہ انصاف نہیں مل رہا جو پہلے ملا کرتا تھا۔لاہورہائیکورٹ بارکی جانب سے اپنے اعزاز میں الوداعی عشایئے سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا نعمتوں میں پاکستان کو پہلے نمبرپرشمارکرتاہوں،جب سے میں نے کھلی کچہری کا سلسلہ شروع کیاتوبہت مظلوم لوگ دیکھے ،میں نے نیک نیتی سے جوڈیشل ایکٹوازم کی بنیادرکھی،وہ لوگ بھی دیکھے جن کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ دوائی خریدسکیں،اگرمیں ہسپتال گیاہوں تو یہ کہنے گیاکہ یہاں علاج کے وسائل نہیں،میں نے ہسپتال میں کسی کا آپریشن نہیں کیا،مجھ سے کئی غلطیاں ہوئیں ،دانستہ نادانستہ،لیکن ان میں بدنیتی نہیں تھی،میں رول آف لا کیلئے کوشش کرتارہاہوں،ججزسے گزارش کرونگاکہ اس کام کو ملازمت سمجھ کر نہ کریں،میں زندگی میں بہت کم رویاہوں،آج آپ کے اس پیار نے میری آنکھیں نم کردیں۔جلدانصاف نہ ملنے کی وجہ سے عدلیہ کاوقارکچھ کم ہوا،جس معاشرے میں انصاف نہ ہووہ قائم نہیں رہ سکتا،ججز صاحبان نوکری سمجھ کرنہیں،خدمت سمجھ کرکام کریں،میں نے کسی کے کام میں مداخلت نہیں کی۔سپریم کورٹ میں صرف2ریفرنسزباقی ہیں،باقی سب نمٹادیئے ،جھوٹے ریفرنسزپرججزکوبلیک میل نہیں ہونے دیں گے ،عدلیہ نے خود اپنا بھی احتساب کیاہے ،وکلاجوڈیشل سیٹ اپ کا لازم و ملزوم حصہ ہیں،وکلاکوحق کیلئے کیس کی پیروی کرنی چاہئے ۔