کشمیر کے مسئلے پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوترس ، ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کے بیانات اور یورپی یونین کی قرارداد اہمیت کی حامل ہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کشمیر کا مسئلہ کب حل ہوگا؟ کشمیر کا مسئلہ بہتربر سوں سے حل طلب ہے ۔کشمیریوں کی تین نسلیں آزادی کیلئے قربان ہو چکی ہیں ، کشمیر کی آزادی کیلئے لاکھوں کشمیری مسلمانوں نے جام شہادت نوش کیا ، جو کہ عالمی برادری کیلئے سوالیہ نشان ہے ۔ کشمیری مسلمان اپنے وطن اور اپنی سرزمین کیلئے مسلسل قربانیاں دیتے آ رہے ہیں ، بھارت کی ہٹ دھرمی نے مسئلہ کشمیر کو گھمبیر بنا دیا ہے ۔ مودی سرکار کے آنے کے بعد تو یہ مسئلہ عالمی امن کیلئے خطرناک حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ عالمی برادری کو ہمدردی کے بیانات سے بڑھ کر عملی اقدامات اٹھانا ہونگے کہ کشمیریوں کی اپنی سرزمین ہے ، اپنا وطن ، تہذیب و ثقافت ہے ۔ وہ خیرات نہیں اپنا حق مانگ رہے ہیں ۔ کتنے ظلم کی بات ہے کہ مسئلہ حل کرنے کی بجائے الٹا بھارت مقبوضہ کشمیر سے متعلق ترکی کے صدر طیب اردگان کے بیان سے تلملا اٹھا۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ترک صدر کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کو ایک بار پھر بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دیا ہے اور کہا کہ مقبوضہ کشمیر کا علاقہ بھارت کا اٹوٹ انگ اور ناقابل تقسیم حصہ ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہم ترک قیادت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھارت کے اندرونی معاملات میں دخل نہ دے اور اس معاملے سمیت پاکستان کی طرف سے بھارت اور خطے میں دہشت گردی کے ابھرتے ہوئے بڑے خطرے کے حقائق کو مکمل طور پر سمجھے ۔ پچھلے دنوں ترکی کے صدر طیب اردگان نے پاکستان کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران مقبوضہ کشمیر پر پاکستانی موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیر ترکی کیلئے ایسا ہی ہے جیسا پاکستان کے لئے ہے ۔ ترکی مسئلہ کشمیر کے پر امن اور بات چیت کے ذریعے حل کے موقف پر قائم رہے گا۔ مسئلہ کشمیر کا حل طاقت یا جبری پالیسیوں سے نہیں بلکہ انصاف و حقانیت کے اصولوں سے ممکن ہے۔ بھارت اس سے رو گردانی کر کے پوری دنیا کی نظروں میں خوار ہو رہا ہے۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستانی حکومت کی کوششوں سے کشمیر کا تنارع عالمی مسئلہ بن چکا ہے اور پوری دنیا مقبوضہ وادی میں ہونے والے بھارتی مظالم سے بخوبی آگاہ ہو چکی ہے اور اس پر اپنی آواز بھی اٹھا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران وزیراعظم عمران خان نے پوری دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مطالم اور اس مسئلے کے حل کی جانب دلائی تھی ، انہوں نے ایران اور ترکی کے حکمرانوں سے بھی الگ الگ ملاقات کر کے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔ دوسری جانب یورپی یونین نے بھی بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں عائد پابندیاں فوری طور پر ہٹا لے ۔ اطلاعات کے مطابق یوری یونین اور کئی ملکوں کے سفیروں کے حالیہ دورہ مقبوضہ کشمیر کے بعد یونین کے ترجمان برائے امور خارجہ اور سلامتی پالیسی نے بھارتی اخبار انڈیا ٹوڈے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں نافذ پابندیوں کو فوری طور پر ہٹانا ناگزیر بن گیا ہے۔ کشمیر میں بھی ابھی تک پابندیاں عائد ہیں جن پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ پوری طرح بحال نہیں اور سیاسی قیدی ابھی تک نظر بند ہیں اور ان سبھی معاملات کو دیکھنے کی ضرورت ہے کہ بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث صورتحال روز بروز خراب ہو رہی ہے ۔ یہ حقیقت ناقابل فراموش ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوترس کا چار روزہ دورہ پاکستان خطے کے امن ، تحفظ، ماحولیات اور پائیدار ترقی کیلئے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان کے لئے یہ مسئلہ کشمیر ، مقبوضہ کشمیر کے عوام کے خلاف بھارتی فوجی جارحیت، لائن آف کنٹرول پر بھارت کی اشتعال انگیز گولہ باری ، سول شہریوں کا جانی و مالی نقصان ، بھارت کی آبی جارحیت سمیت بہت سے مسائل اجاگر کرنے کا موقع ہے۔ ان میں متعدد مسائل براہ راست اقوام متحدہ کے زیر غور ہیں جیسا کہ مسئلہ کشمیر، جس کا اقوام متحدہ نے ایک حل پیش کیا مگر بھارت کی ہٹ دھرمی سے اس پر آج تک پیش رفت نہ ہو سکی ۔ اس طرح دریاؤں کے پانی کا معاملہ ہے کہ کہنے کو سندھ طاس معاہدہ دو ممالک کے مابین آبی تقسیم کا معاہدہ ہے مگر بھارت جغرافیائی حیثیت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اس معاہدے کے کی جس طرح خلاف ورزیاں کرتا آ رہا ہے، یہ صورتحال اقوام متحدہ سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان کے وسائل محدود ہیں مگر امن اور پناہ کے ضرورت مندوں کو جس طرح کھلے دل سے یہاں خوش آمدید کہا گیا اور پھر چار دہائیوں سے زائد عرصے سے انہیں جس طرح سہولیات حاصل ہیں ، اس حسن سلوک کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی طرف سے پانی کے مسئلے پر بیان بہت اہم ہے کہ پانی کا نام زندگی اور زندگی کا نام پانی ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ قیام پاکستان کے وقت اور بعد ازاں سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستانی قیادت پانی کے مسئلے کا صحیح معنو ں میں ادراک نہ کر سکی اور بھارت کی مکاری اور بد دیانتی کو سمجھ نہ پائی جس کے باعث پاکستان میں پانی کے مسائل پیدا ہو چکے ہیں خصوصاً سرائیکی خطہ کربلا کا منظر پیش کر رہاہے ۔ ستلج ویلی میں چولستان کے بعد ایک اور چولستان وجود میں آ رہاہے ، پاکستان کو ہر صورت پانی کا مکمل حصہ ملنا چاہئے ۔ ورنہ مستقبل میں بہت مسائل پیدا ہوسکتے ہیں ، بھارت پانی کو ہتھیار کے طورپر استعمال کر رہاہے ۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مہاجرین کی میزبانی پر پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا ہے ۔ لیکن ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے لئے ’’ نیکی برباد اور گناہ لازم ‘‘ والا معاملہ ہوا ہے۔ پاکستان میں جو لوگ مہاجر بن کر آئے ، انہوں نے دہشت گردی کا روپ اختیار کیا اور پاکستانی قوم دہشت گردی کا عذاب بھگت رہی ہے ۔ اب اقوام متحدہ کو چاہئے کہ وہ کسی دوسرے ملک کو افغان مہاجرین کی میزبانی کا شرف عطا کرے اور پاکستان کو عذاب سے نجات دلائے ۔ انہی سطور میں ہم پاکستانی قیادت سے بھی اپیل کریں گے کہ وہ پاکستان کی خارجہ پالیسی خود مختاری کے اصولوں پر ترتیب دے کہ امریکا کی جنگ لڑنے کی بجائے ہم اپنے ملک میں غربت ، جہالت اور بے روزگاری کے خلاف جنگ کریں ۔