قابض بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں 100سے زائد بچوں کو گرفتار کر کے پاگل خانے میں ڈال دیا ہے۔ مقبوضہ وادی میں کرفیو کا 36واں دن ہے۔ لیکن کشمیریوں کے جذبہ حریت اور قوت مزاحمت میں رتی برابر کمی نہیں آئی۔ مودی سرکار شاطرانہ چالیں چلنے اور اپنے چہرے پر کئی چہرے چڑھانے کے فن میں طاق ہے۔ بھارت اسی بنا پر سیاسی شطرنج بڑے مکارانہ انداز سے کھیل رہا ہے۔ نوجوان کشمیریوں اور بوڑھے ماں باپ کو زچ کرنے کے لئے اس نے کمسن بچوں کو گرفتار کر کے پاگل خانے میں بند کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے لیکن مودی کا یہ ہتھیار بھی کارگر ثابت نہیں ہو سکے گا۔ بے شک وہ جھوٹ منافقت اور دوغلے پن کے جتنے مرضی ہتھیار استعمال کر لے۔ کشمیری آزادی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ عالمی برادری ‘ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور ایمنسٹی انٹرنیشنل قابض فوج کے ان اوچھے ہتھکنڈوں کا نوٹس لیں، مودی سرکار پردبائو بڑھا کر اسے وادی سے کرفیو اٹھانے پر مجبور کیا جائے۔ اس وقت عالمی طاقتیں بھی صرف روایتی انداز میں ہی بیان بازی سے کام لے رہی ہیں حالانکہ اگر وہ سنجیدگی سے انسانی حقوق کی پامالی اور کشمیریوں کی نسل کشی کا نوٹس لیں تو بھارت کی عقل ٹھکانے آ سکتی ہے۔ عالمی برادری معصوم بچوں کی گرفتاری کا نوٹس لے اور بھارت کو فی الفور بچوں کو رہا کرنے کا حکم دے۔ بعض عالمی لیڈر میڈیا پر اس سپاہیانہ طمطراق کے ساتھ مودی پر برستے ہیں کہ ہمارے مجاہد بھی عش عش کر اٹھتے ہیں لیکن عملی طور پر ان کا کردار زیرو ہے۔ انہیں بھی اپنے قول و فعل میں منافقانہ پن سے گریز کرنا چاہیے۔