3جون 2021 ء جمعرات کو انڈین آرمی چیف منوج مکند نارونے ،نے سری نگر میںمیڈیا سے گفتگو میں دعویٰ کیا تھاکہ کشمیر میں حالات اب پہلے جیسے نہیں رہے اور بہت بہتری آئی ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ ایل اوسی پربھارت اورپاکستان کی افواج کے مابین ہونے والی فائربندی کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیںجسے ایل اوسی پرایک طویل عرصے بعد امن و سکون کا بول بالا ہے اورنارملسی چھائی ہوئی ہے جو اس جانب اشارہ ہے کہ حالات معمول پر آتے جا رہے ہیں۔واضح رہے کہ بھارت اور پاکستان نے رواں برس 25 فروری 2021ء کو فائربندی معاہدے پر عمل کرنے کا اعلان کیا تھا اورباہمی تعلقات کو معمول پر لانے کی سفارتی کوششیں بھی شروع ہوئی تھیں، ایل اوسی پراس فائربندی کے100 دن بیت چکے ہیںلیکن تادم تحریرسامنے آنے والی اطلاعات سے پتاچلتا ہے کہ اس میں کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہو پائی ہے۔3جون 2021ء جمعرات کو میڈیاکی طرف سے جب بھارتی آرمی چیف سے یہ سوال پوچھا گیا کہ اگر حالات اتنے ہی بہتر ہیں جس طرح آپ بتارہے ہیں تو کیا مستقبل قریب میں کشمیر میں تعینات بھارتی فوجیوں کی تعداد میں کمی کا کوئی امکان ہے؟تو ان پر جیسے بجلی گری اور انہوں نے کہا دیکھئے فوج کی تعیناتی کا وقتًا فوقتًا جائزہ لیا جاتا ہے۔اگر صورت حال نے اجازت دی تو ہم کچھ فوجیوں کو دوسری جگہ تعینات کرنے غور کریں گے۔ تاکہ فوجیوں کو بھی کچھ آرام مل سکے۔ لیکن ایک جگہ سے سب کو ایک ساتھ نہیں ہٹا یا جا سکتا۔اپنی خفت ، ناکامی کوچھپانے کے لئے انڈین آرمی چیف کا کہنا تھاکہ فائر بندی پر عمل کو یقینی بنانے کی پوری ذمہ داری پاکستان پر عائد ہوتی ہے۔ کشمیر سے متعلق بھارتی آرمی چیف کامیڈیا کے سامنے دیئے گئے ریمارکس کے 3 دن بھی نہیں گزرے کہ 7جون 2021ء سوموار کو سارے کشمیر میں اس وقت ایک بار پھر اسی طرح کی ہیجانی کیفیت پائی گئی کہ جس طرح 5 اگست 2019ء کو پائی جارہی تھی ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ 5 اگست 2019 ء ہی کی طرح بھارت کشمیرمیں اضافی فوجی دستوں کوبھیج رہا ہے اوربڑے پیمانے پراس فوجی نقل وحرکت سے وادی کشمیرمیں خوف و ہراس کا ماحول بنایا جا رہا ہے۔کشمیرکی تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ ایک بارپھریہاں اضافی200 نیم فوجی کمپنیاں تعینات کر دیں گئیںجس کے باعث سری نگر میں طرح طرح کی قیاس آرائیوں اور اندیشیوں کا بازار گرم ہے۔خطہ جموںو کشمیر جہاں پہلے ہی سے آٹھ لاکھ بھارتی فوج تعینات ہے اورجہاں نظر اٹھائیں ہر جانب فوجی دستوں کا زبردست پہرا ہے ایسی صورت حال میں مذید 200 اضافی نیم فوجی کمپنیوں کی تعیناتی سے بھارت کی طرف سے وادی کشمیر میں ایک بار پھر سے زبردست خوف و ہراس کا ماحول قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ بھارتی حکومت گزشتہ چند روز کے دوران جن دسیوں ہزار مزید نیم فوجی دستوں کو وادی کشمیر بھیج چکی ہے ان میں سے بیشتر شمالی کشمیر کے تین اضلاع کپوارہ ،بارہمولہ اوربانڈی پورہ میں تعینات کیے گئے تھے۔قابض بھارتی فوج کی اس تیز نقل و حرکت سے پورے خطے میں اضطرابی کیفیت عیاں ہے اوراسلامیان کشمیر اس کا مطلب یہ سمجھتے ہیںکہ بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019ء کی طرح کشمیر میں ایک بار پھر سے کچھ نئے کشمیر مخالف اورمسلم کش اقدام اٹھائے جارہے ہیں۔ کشمیر میں اس نئی فوجی نقل و حرکت نے اگرچہ بھارتی آرمی چیف کے 3جون کوسری نگرمیںدیئے گئے نارملسی کے بیان کوہوا میں تحلیل کر دیا ہے لیکن دوسری طرف کشمیری عوام میں مختلف طرح کے اندیشے جنم لے رہے ہیں۔کشمیر میں ایک افواہ یہ ہے کہ مودی حکومت ایک بار پھر سے کشمیر کو تقسیم کرنے جا رہی ہے اور اس کے تحت جموں خطے کو پھر سے ریاست کا درجہ دے دیا جائے گا جبکہ وادی کشمیر کودہلی کے زیر انتظام برقرار رہے گا۔ دوسری افواہ یہ ہے کہ جنوبی کشمیر کو جموں میں ضم کر کے ایک نئی ریاست جموں قائم کی جائے گی اور شمالی کشمیر کو لداخ میں ضم کر کے ریاست لداخ قائم کی جائے اور کشمیر کو ختم کر دیا جائے گا۔ایک افواہ یہ ہے کہ مودی حکومت کشمیری پنڈتوں ’’کشمیری بولنے والے کشمیری ہندوئوں‘‘کے لیے ایک علیحدہ علاقے کا اعلان کرنے والی ہے جس کا انتظام دہلی کے ہاتھ میں ہوگا تاکہ وہاں کشمیری پنڈتوں کو پھر سے بسایا جا سکے۔ کیوںکہ تقریبا 2لاکھ کشمیری پنڈت 1990ء میںجنہیں اس وقت کے بھارتی گورنرجگموہن نے یہ کہتے ہوئے کشمیر سے فرارکرایا کہ کشمیرمیں بڑے پیمانے پر کیچ اینڈ کل کا آپریشن شروع کیاجا رہا ہے اور وہ اپنی جان بچائیں اوریہاں سے جموں اوربھارتی ریاستوں کی طرف نقل مکانی کر جائیں۔30 برسوں سے جموں اور بھارتی ریاستوں میں بڑے پیمانے پر مراعات کے حامل کشمیری پنڈت کشمیر واپس آنا چاہتے ہیں تاہم وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں مسلمانان کشمیر سے باکل الگ سے بسایا جائے اور کشمیر کو دو علیحدہ دہلی کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ سچ مچ میںکیا کشمیر میں حالات بہتر ہو گئے ہیں؟ زمینی صورتحال اسے صریحًا جھوٹا ثابت کر رہے ہیں ۔ اگر کشمیر میں حالات ٹھیک ہیں توکشمیری نوجوانوں کی شہادتیں کیوں ہو رہی ہیں ،کیوں کشمیری مسلمانوں کے آشیانے دھماکہ خیزمواد سے زمین بوس کئے جا رہے ہیں۔ کشمیرکی زمینی صورتحال چیخ چیخ کربول رہی ہے کہ کشمیری بھارت سے بدستور نفرت رکھتے ہیں جس طرح گزشتہ تین عشروں سے بالخصوص ان کاکھلم کھلاطرزعمل ہے ،ان کابھارت کے خلاف یہ طرزعمل کسی سے اقتدار چھین کرکسی اورکوسونپنے کی مانگ پر نہیں ہے بلکہ بھارت سے انکی نفرت اوربھارت کے خلاف ان کے رویے کی بنیاد ارض کشمیر پربھارت کے ناجائزقبضے اورجارحانہ تسلط کی وجہ سے ہے ۔اگرانڈین آرمی چیف اسلامیان جموں وکشمیرکی خاموشی دیکھ کر یہ اخذ کر رہے ہیں کہ کشمیرکے حالات بھارت کے حق میں بدل گئے توانہیں چاہئے کہ وہ گزشتہ تین دہائیوں کی تحریک آزادی کشمیرکے اوراق و ابواب کامطالعہ کریں ۔اس میں کوئی دورائے نہیں کہ 5اگست2019ء کوبھارت کی طرف سے کشمیر کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدام پرکشمیرمیں عوامی سطح پرایک خاموشی چھائی ہوئی ہے ۔