اسلام آباد، تیتری نوٹ،کرمانوالہ، سکھر، نوشکی، قلات،کوئٹہ( لیڈی رپورٹر، سٹاف رپورٹر ، نامہ نگاران،صباح نیوز) آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول کے تیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ پر پولیس کی رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے آزاد کشمیر کے ہزاروں نوجوان پہنچ گئے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر جانے اور محصور کشمیریوں سے یکجہتی کرنے کے خواہش مند نوجوانوں نے تیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ پر دھرنا دے دیا ہے ۔ اس دوران جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما سردار انور سمیت 15 افراد زخمی ہو گئے ہیں ، قائدین عبدالحمید خان عمر نذیر کشمیری، راجہ مظہراور شعیب خان ، خواجہ خلیل کشمیری کو درجنوں ساتھیوں سمیت کراسنگ پوائنٹ کی طرف جاتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا۔مقررین نے کہا کہ بھارت 65ء کی جنگ یاد رکھے ۔ دریں اثنا اسلام آباد، اوکاڑہ، سکھر، نوشکی ، قلات، کوئٹہ سمیت ملک کے دیگر شہروں میں بھی کشمیریوں سے یکجہتی اور بھارتی مظالم کیخلاف احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں، شرکاء نے ہاتھوں میں بینر اور کتبے اٹھا رکھے تھے ، اور بھارتی فوج کیخلاف نعرے لگائے اور پاک فوج کیساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔اسلام آباد میں آزاد کشمیر کے نابینا طلباطالبات نے احتجاجی مظاہر ہ میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و بربریت پیلٹ گن کے حملوں سے بینائی سے محروم کئے جانے والے اقدامات کی مذمت کی۔نوشکی میں ہندو برادری کے زیر اہتمام احتجاجی ریلی نکالی گئی،اور احتجاجاً دو گھنٹے تک اپنی دکانیں مکمل بند رکھی۔قلات میں سنی تحریک کے زیر اہتمام احتجاجی ریلی نکالی گئی۔لورالائی میں بلوچستان عوامی پارٹی کے زیراہتمام عبدالرحیم خان کلب میں عظیم الشان جلسہ منعقد کیاگیا۔جناح ویلفیئر ایسوسی ایشن سکھر کے زیر اہتمام شہریوں کی بڑی تعداد نے ریلی نکالی۔